بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپروچ کا فرق

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

وہ سولہ برس سے امریکہ میں مقیم تھا۔ ایک دن اس کے 'باس 'کی خاتون سیکرٹری نے چائے کے وقفے  میں یہ بحث شروع کر دی کہ اسلام عورتوں کو کم تر درجہ دیتا ہے اور مسلمان انہیں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں۔دفتر کے کچھ دیگر حضرات بھی ذوق و شوق سے اس بحث میں حصہ لینے لگے۔ وہ خاموشی سے سب کے دلائل سنتا رہا اور جب اسے محسوس ہوا کہ ان کی بات پوری ہو چکی تو اس نے خاتون سے اجازت چاہی کہ اب اسے موقع دیا جائے کہ وہ اپنی بات بیان کرے۔ اس نے اپنی بات کا آغاز اس طرح کیا کہ خاتو ن ِ محترم، اس وقت باہر کا درجہ حرارت منفی دس ڈگری سینٹی گریڈ ہے مگر اس شدید سردی میں بھی تم اپنی ٹانگوں کو عریاں کر کے دفتر آئی ہو، محض اس لیے کہ تمہارا باس تم سے خوش رہے ۔دفتر آنے کے لیے تم نے یقیناصبح سویرے بستر کوچھوڑا ہو گا ، جلدی جلدی ناشتا کر کے دفتری لباس زیب تن کیا ہو گا اور پھربرفانی ہوا میں کھڑے ہو کر بس کا انتظار کیا ہو گا ، پھر ایک گھنٹہ بس میں سفر کر کے تم دفتر پہنچی ہو گی اور یہاں سارا دن تم نہ صرف مشین کی طرح کام کرو گی بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھو گی کہ تمہارا سراپا ہردم باس کی نظروں کو طمانیت کا ساماں فراہم کرتا رہے۔ پھر اسی طرح تم شام کو تھکی ہاری بس سٹاپ پر انتظا رکی زحمت برداشت کرو گی اور پھر ایک گھنٹہ کے سفر کے بعدجب تم گھر پہنچو گی تو وہاں تمہیں خوش آمدید کہنے والا ، خدمت کرنے والا اور 'چائے پانی' کا پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہو گا۔ تمہیں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کا انتظام بھی خود ہی کرنا ہو گا ۔ رات گئے تک جب تم اس سے فارغ ہو گی تو تمہارے پاس بس اتنا ہی وقت ہو گا کہ اگلی صبح کی فکر لیے تم چند گھنٹے سو سکو ۔دوسرے دن کا سورج تمہارے لیے پھر یہی ساری 'روٹین 'لے کر آئے گا اور تم ہفتہ بھر اسی طرح مشین بنی رہو گی۔

پھر اس نے کہا: ذرا غور کرو! تمہارے بالمقابل ایک میری بیوی ہے جو اس وقت گرم کمرے میں لحاف اوڑھے آرام کر رہی ہو گی یا ٹی وی سے دل بہلا رہی ہو گی۔ اسے کسی 'باس' کی فکر نہیں ، اسے کسی کام کی فکر نہیں ، اسے کہیں جانے کی فکر نہیں۔ سردی ہو، برف باری ہویا بارش، اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ اسے صرف آرام کرنا ہے ۔ میں گھر جاؤں گا تو وہ میرا استقبال کرے گی۔ اس کے بعد اگر اس کا دل چاہا تو چائے بنا دے گی ورنہ میں خود بنا لوں گا او رہم دونوں مل کر نہ صرف چائے نوش کریں گے بلکہ خوش گپیوں سے دل بھی بہلائیں گے۔ رات کواگر اس نے چاہاتو کھانا بنا لے گی ورنہ ہم کسی ہوٹل سے کھا لیں گے ۔ اس کے ذمے بس یہ ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کر ے اورگھر کی ملکہ بن کر خاوند کے ساتھ تعاون کو قائم رکھے ۔

اس بات سے آغازکرکے اس نے بین السطور تفصیل کے ساتھ وہ سارے حقوق بیان کر دیے جو اسلام بیوی کو عطا کرتا ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ خاتون محترم، مجھے تم سے اتفاق نہیں۔ اسلام ہر گز یہ نہیں کہتا کہ عورت مرد سے کمتر ہے بلکہ یہ کہتا ہے کہ عورت مرد سے مختلف ہے اور جہاں تک مقام و مرتبہ کاتعلق ہے تو ماں کے روپ میں تو مرد عورت سے کہیں پیچھے رہ جاتاہے اور عورت کہیں آگے نکل جاتی ہے، اتنا آگے کہ بچوں کو اپنی جنت ماں کے قدموں میں ڈھونڈنی پڑتی ہے۔وہ ابھی عورت کی باقی حیثیتوں پہ بات کرنے ہی والاتھا کہ بحث کرنے والی خاتون بے ساختہ پکار اٹھی: مسٹر خان ، بس کیجیے میں سمجھ گئی۔ مجھے بتائیے Do you need second wife? یعنی خان صاحب کیا آپ کو دوسری بیوی کی ضرورت ہے (اگر ضرورت ہے تو میں آپ کی دوسری بیوی بننے کے لیے تیا رہوں)۔ مطلب صاف واضح تھا کہ اگر اسلام عورت کو بحیثیت بیوی یہ مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے تو وہ ماں ، بہن اور بیٹی کوتواس سے بھی بڑھ کر عطا کرتا ہوگا۔

وہ امریکہ کے ایک ہسپتال کے کمرہ انتظار میں بیٹھا تھا ۔ اس کے ساتھ اور بھی بہت سے مقامی مرد و خواتین جمع تھے اور سب ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ انتظا ر کے لمحات کو گزارنے کے لیے ان کے مابین معاشرتی مسائل پر بحث شروع ہو گئی۔معاشرے کی افراتفری،خود غرضی ، بے سکونی اور بے چینی موضوع بحث تھے ۔ اور وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا حل ڈھونڈا جائے جس سے یہ سارے معاشرتی مسائل حل ہو جائیں۔ سب حسب توفیق اپنی اپنی آرا پیش کر رہے تھے ۔ اس نے کہا اجازت ہو تو میں بھی کچھ کہوں۔لوگ متوجہ ہوئے تو اس نے کہا آپ کے معاشرے میں بے چینی اور افراتفری کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے معاشرے سے 'ماں'کو چھین لیا ہے ۔ معاشرے کو 'ماں'واپس کر دو ، معاشرہ پرسکون اور پرامن ہو جائے گا۔اس کا کہنا ہے کہ جوں ہی میں نے یہ حل پیش کیا تمام خواتین نے نہ صرف اس سے بھر پور اتفاق کیا بلکہ ایک معمر خاتون تو فرط جذبات سے اتنی مغلوب ہوئی کہ اس نے بے اختیار میرا ماتھاچوم لیا۔اس نے کہا جس معاشرے کی عورت بحیثیت ماں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہ ہو، جلد یا بدیر بے سکونی ،بے چینی ، خود غرضی ، خود فریبی، افراتفری اور بالآخرتباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔ اس نے کہا آپ کے معاشرے میں عورت ماں بننے کو تیار نہیں۔جس معاشرے میں 'ماں' نہیں ہو گی وہاں خاندان مستحکم نہیں ہو گااور خاندان مستحکم نہیں ہوگاتو معاشرہ بے سکون ،کھوکھلااور ڈانواں ڈول رہے گا۔

یہ دو مثالیں بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بات کو اگر ڈھنگ سے بیان کیا جائے توہمیشہ کی طرح آج بھی اسلام کا پیغام اک اثر رکھتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس پیغام نہیں ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں یہ ابدی پیغام دوسروں تک پہنچانے کا ڈھنگ نہیں آتا۔ وہ میدان جس میں ہم مغرب کا بڑے اعتماد سے مقابلہ کر سکتے ہیں وہ یہی دعوت کا میدان ہے ۔ مگر دعوت کے لیے جس درد اور جس ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے اس سے ہم خالی ہیں۔ اور جو خود خالی ہوں وہ خالی جگہ بھلاکب پرکر سکتے ہیں!

(محمد صدیق بخاری، www.suayharam.org )

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

دعوت دین کے لیے کیا اپروچ اختیار کرنی چاہیے؟  اور کن کن امور سے اجتناب کرنا چاہیے؟

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html