بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیا ہمارے ملک کو صرف مستریوں اور منشیوں کی ضرورت ہے؟

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سائنس کی ایک مستند شاخ کے ایک سند یافتہ استاد صاحب ایک انٹر نیشنل تعلیمی ادارے میں اپنے ایک ساتھی استاد سے کہتے ہیں : میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آسکا کہ مطالعہ پاکستان ، اسلامیات اور اردو پڑھانے والے لوگوں (یہ ان مضامین کے اساتذہ کو استاد کہنا بھی مناسب نہیں سمجھتے بلکہ لوگ کہنے کو ترجیح دیتے ہیں) کو ہمارے برابر تنخواہ کیوں ملتی ہے؟

دوسرے استاد صاحب:( دو غلیظ گالیاں) ظلم ہے ظلم! اسی اثنا میں دواور سائنسی استاد بھی ان کی اس' علمی' گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں۔

تیسرے ا ستاد صاحب: سائنس پڑھانے والے اساتذہ کا ایک خاص سٹیٹس ہوتا ہے جو اس ادارے اور معاشرے میں کہیں نظر نہیں آتا ، پھرترقی کیسے ہو؟

چوتھے صاحب: ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے فرماتے ہیں: غضب خد ا کا، ظلم کی حدتو یہ ہے کہ ہم موٹی موٹی کتابیں پڑھائیں اور یہ چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھائیں ، پھر بھی تنخواہ ہمارے برابر پائیں؟

یہ اس سوچ کی ہلکی سی جھلک ہے جو آج ہمارے تعلیمی اداروں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔ اس ذہن کے خیال میں معاشرتی علوم یعنی سوشل سائنسز ایک بے کا ر چیز ہے اور تعلیمی اداروں میں انہیں پڑھانا قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کرنا ہے ۔ ان کے خیال میں تعلیمی اداروں میں صرف ٹیکنیکل ، سائنس اور کامرس کے مضامین پڑھانے چاہئیں گویا یہ لوگ اپنی قوم میں صرف مستریوں اور منشیوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے خیا ل میں کسی قوم میں اگر ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ جائے تو وہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتی ہے۔ان کے خیال میں ترقی اس بات کا نام ہے کہ ہماری قوم میں دو جمع دو چار کرنے والے لوگ زیادہ ہوں یا پھر آلات بنانے والے یا ان آلات کے علم کا کھوج لگانے والے۔ان کے خیال میں نہ تو مشینوں کی حکومت سے دل کی موت واقع ہوتی ہے اور نہ آلات احساس مروت کو کچلتے ہیں کیونکہ دل ان کے خیال میں ایک ایسا پمپ ہے جو جسم کو خون پہنچاتاہے اور مروت جیسے احساسات گزرے وقت کی کہانیا ں ہیں۔ اس سوچ کانتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے سے اقدار کا جنازہ نکلتا جا رہا ہے ۔اخلاقیات ایک اضافی چیزبن کر رہ گئے ہیں ۔ شرافت ، مروت ، عزت ، احترام ، رواداری، برداشت ، شرم وحیا،اور حفظ مراتب جیسی اقدار قصہ ہائے پارینہ بنتی جارہی ہیں۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اتنی قربانی کے باوجود بھی وہ نہ ہوسکا جو یہ لوگ کرنا چاہتے تھے کیونکہ یہ ذہن اس بات سے آگا ہ ہی نہیں کہ مشینیں بڑھانے سے معاشرے ترقی نہیں کیا کرتے بلکہ ترقی انسان بنانے سے ہوتی ہے اور انسان ہمیشہ معاشرتی یا آرٹس کے علوم بناتے ہیں نہ کہ سائنس کے علوم۔

معاشرتی علوم بحث ہی انسان یا انسانی اقدار سے کرتے ہیں جبکہ سائنسی علوم یا تو مشینوں سے بحث کرتے ہیں یا مشینی قواعد و ضوابط سے، چنانچہ ان کے ہاں ترقی کا منتہا بھی یہی قرار پاتا ہے کہ انسان کو بھی ایک مشین بنا دیا جائے ۔ اور جب انسان ایک مشین بنتا ہے تو معاشرے سے انسانی اقدار ، جذبات اور احساسات کا خاتمہ شروع ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ افراتفری ، فساد اور اجتماعی بگاڑ کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ ہی نہیں کہ جن قوموں کی نقالی میں ہم یہ سب کرنا چاہتے ہیں، ان قوموں نے معاشرتی علوم کونہ صرف یہ کہ سائنسی علوم کے شانہ بشانہ رکھا بلکہ ان کا درجہ اور سٹیٹس ان کے ہاں ہمیشہ سائنس سے کہیں بڑھ کر رہا ۔یہ الگ بات ہے کہ ہم جیسوں کو بیوقوف بنانے کے لیے وہ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے کہ ان کی ترقی سائنس کی مرہون منت ہے۔ان قوموں کے لیڈ ر ہمیشہ وہ رہے جو معاشرتی علوم کے ماہر تھے ۔ کبھی کوئی سائنس دان ان کا لیڈ ر نہ بن سکا۔ او ر جب بھی قوم پر کڑا وقت آیا تو انہوں نے سائنس کو بچانے کے بجائے اقدار کو ترجیح دی۔ دوسری جنگ عظیم میں جب کہ برطانیہ شکست کے قریب تھا تو چرچل نے مشورے کے لیے کابینہ کا اجلاس بلایا جس میں اس ممکنہ شکست کے اسباب اور اس سے بچاؤ پر بحث کی گئی۔وہاں چرچل نے تمام باتوں سے قطع نظر ایک سوال کیا: اس نے کہا مجھے صرف یہ بتاؤ کہ کیا ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں ،اگر کر رہی ہیں تو پھر برطانیہ کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔وہی ہوا جو چرچل نے کہا تھا اور جرمنی اپنی تمام تر سائنس اور اسلحے کے باوجود ڈھیر ہوکر رہ گیا کیونکہ جرمنی کی عدالتوں میں ظلم کا دور دورہ تھا۔

اس ساری بحث سے ہماری یہ مراد ہر گز نہیں کہ سائنس ایک بری چیز ہے بلکہ ہم پوری دیانتداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس ایک رحمت ہے ۔ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ معاشرتی علوم اور اقدار کی قیمت پر اس کا حصول اور فروغ اسے رحمت سے زحمت بنا دیتا ہے۔اس زحمت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس انسانوں کی وافر کھیپ موجود ہو۔ اگر ہمارے پاس صرف ڈاکٹر ، انجینئر ، ماہرین حساب کتاب اور سائنس دان موجود ہوئے اور انسان نہ ہوئے تو سب بے کار جائے گاکیونکہ یہ سب انسانوں کے لیے بنایا جاتا ہے نہ کہ انسا ن اس کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ہاں اگر ڈاکٹر کو ڈاکٹربنانے کے ساتھ ساتھ انسان بھی بنایا جائے انجینئر کو انجنیئرنگ کے ساتھ ساتھ انسان بننا بھی سکھایا جائے تو پھر بلا شبہ سائنس قوم کو ترقی کی منازل طے کرائے گی۔ اس کے برعکس سائنس ترقی تو ضرور کرے گی مگر صرف سائنس ہی اور معاشرہ وہیں کا وہیں کھڑارہ جائے گا۔جیسا کہ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے ۔

آج ہماری معاشرتی حالت سائنسی اعتبار سے پچاس برس قبل کی حالت سے کہیں آگے ہے لیکن ہمارا معاشر ہ امن و سکون، اور اخلاق و اقدار کے اعتبار سے کہیں پیچھے ہے، اس لیے کہ ہم نے ان علوم کو اپنے تعلیمی اداروں سے نکال باہر کیا جو انسان کو انسان بناتے تھے۔ گلستاں بوستاں کے نام سے بھی آج ہمارے بچے واقف نہیں۔کلیلہ و دمنہ بھی ان کے لیے اجنبی اور حافظ ،سعدی ، رومی ، اقبال و حالی بھی غیر۔ نتیجتاً وہ سب باتیں بھی ہمارے لیے اجنبی ہیں جن کا درس یہ لوگ یا کتابیں دیتی تھیں۔ہم نے اپنے معاشرے میں ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ پیداکر نے کی جدوجہد کی ۔ ہم نے ڈاکٹر بنائے ، انجینئر بنائے ، سائنس دان بنائے ، ٹیچر بنائے ، صنعت کار بنائے لیکن انسان نہ بنائے ۔ اسی طرح ہم نے معاشرے میں بہتری لانے کے لیے بہت سے قانون اور کمیٹیاں بنائیں مگر ان قوانین کو نافذکرنے والے صالح ہاتھ نہ بنائے، چنانچہ آج سب طر ح کے لوگ ہونے کے باوجوداور ہر طرح کے قانون ہونے کے باوجود معاشرہ ابتری کا شکار ہے۔

معاشرتی علوم کے ماہرین کے بغیر قومیں ایک کٹی پتنگ کی طرح ہوتی ہیں ۔ان کی تقدیر ہوا سے بندھی رہتی ہے۔ جس طرف ہو الے چلے وہ چل پڑتی ہیں اور جس جھاڑی پر ہوا گرا دے وہ گر پڑتی ہیں۔ وہ لوگ جو قوموں کو نشان منزل دیتے ہیں اور عزم و ہمت کی راہوں کی روشنی فراہم کرتے ہیں، وہ معاشرتی علوم کی پیداوار ہی ہوا کر تے ہیں۔ یہی علوم ہیں جو اقبال ،قائد اعظم، سر سید ، شبلی ، محمد علی جوہراور ابوالکلام پیدا کیا کرتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی قسمت ان لوگوں کی جدوجہد نے بدلی نہ کہ سائنس کی گودمیں پنا ہ لینے والوں نے ۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں سائنسی علوم پڑھنے کا شوق پیدا کیا۔قوموں کی تقدیر اپنے لیڈروں کے ساتھ بندھی ہو تی ہے اور لیڈ ر پید ا کرنا انہی علوم کاکام ہے جنہیں آج ہم آرٹس کہہ کر حقارت کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ماؤں نے لیڈر جننے بند کر دیے ہیں۔ شاید ایسا نہیں بلکہ ہم نے لیڈر بنانے والے علوم کی ناقدری کر کے خود ہی یہ راہیں بند کر دی ہیں۔ جبر و استبداد ، ظلم اور آمریت کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ انہی لوگوں میں ہواکرتاہے جو ان علوم کی پیداوار ہوتے ہیں کیونکہ ان علوم کا خمیر ہی آزادی، حریت اور مساوات سے اٹھا ہے۔ یہی علوم ہیں جو قوموں میں عزت نفس ، وقار اور خود داری پیدا کرتے ہیں اوران علوم کے بغیر ایٹم بم کے ہوتے ہوئے بھی لوگ بھیگی بلی بنے رہتے ہیں۔

دنیا کی ہر قوم کی جدوجہدآزادی پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ان میں جذبہ اورآزادی کی روح پھونکی۔ لنکن تو ذرا دور کی بات ہے، امریکہ میں کالوں کی جدوجہد کو حال کے زمانے میں جس شخص نے منزل نصیب کی وہ بھی ایک مذہبی لیڈر اور قانون دان ہی تھا یعنی مارٹن لوتھر کنگ ۔ خود وطن عزیز کی مختصر سی تاریخ میں اگر کسی کو آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر نے کی ہمت ہو ئی ہے تو وہ بھی معاشرتی علوم کے حاملین ہی تھے ۔ تاریخ میں دورجھانکنے کی ضرورت بھی نہیں ۔وطن عزیز کی عمر رواں کے شب و روز بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ ملک کو ایٹمی قوت بنانے والا سائنس دان اپنی جبین نیاز آمریت کی چوکھٹ پر جھکا بیٹھا لیکن ایک قانو ن دان جس بہادری اور ہمت سے آمر کے سامنے ڈٹ گیا، وہ انسانی حریت اور آزادی کی تاریخ کا ایک نیا باب ہے ۔ اس ایک شخص کی اس ایک ادا نے قوم کو کتنا حوصلہ دیا،تاریخ کے پیمانے ابھی آنے والے دنوں میں اس کو ماپنے کی کوشش کریں گے۔انڈونیشیاکے صدر سوئیکارنو نے سچ کہا تھا کہ حکمرانوں کا اصل کام قوموں کونشان منزل دینا ہے اور اس تک پہنچنے کا حوصلہ ۔ باقی رہاراہیں بنانا تو وہ مستری مزدوروں کا کام ہے وہ بناتے رہیں گے ۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب بھارت کے نہرو نے انہیں یہ بات بتائی کہ انہوں نے اتنے کارخانے اور صنعتیں لگا ڈالی ہیں ۔ تو سوئیکارنو نے کہا: نہرو، تم کس کام کے پیچھے پڑ گئے۔ اس کام کے لیے توبہت لوگ موجود ہیں ۔ سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر یہ کام کرتے رہیں گے۔ ہمارا تمہا راکا م کارخانے بنانا نہیں، قوموں کی تقدیر بنانا ہے۔

جس طرح وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ ہے، اسی طرح قوموں کی تقدیر میں رنگ یہ علوم بھرا کرتے ہیں۔ سائنس وہ خاکہ ضرور بنا سکتی ہے جس سے معاشرے ترقی کریں مگر ان خاکوں میں رنگ یہ علوم ہی بھریں گے کیونکہ ان علوم کے ماہرین ہی یہ بتا سکتے ہیں اور یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک ہی سائنسی ماڈل اور خاکے میں کس جگہ ، کس ملک اور کس معاشرے میں کون سا رنگ بھرنا ہے۔زندگی کے حسن ،رعنائی اور تنوع کے امین یہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے بغیر انسانی معاشرے اس محل کی طرح ہوتے ہیں جس پر دیو کا آسیب مسلط ہو یا جو مکینوں کے بغیر اجڑکر رہ گیا ہو۔مکان کی رونق اینٹیں اور سیمنٹ نہیں بلکہ مکین ہوا کر تے ہیں۔ اسی طرح انسانی معاشروں کی رونق ،رعنائی ، حسن اور تنوع سائنس نہیں بلکہ معاشرتی علوم کا مرہون منت ہو ا کرتا ہے ۔

ہم ایک بار پھر یاد دلا دیں کہ اس ساری بحث سے ہمارا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ ہم سائنس یاکامر س کے علوم کے دشمن ہیں بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں معاشرتی علوم کو ان کا جائز مقام دیناچاہیے ۔ ان کے ساتھ ہماری عزت اور وقار وابستہ ہے ۔ ان کی ناقدری اصل میں چند علوم کی ناقدری نہیں بلکہ اپنے پورے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی ناقدری ہے ۔ ہم وقتی فائد ے کے لیے اپنی نسلوں کی راہیں کھوٹی کر رہے ہیں۔ سائنس کو ضرورآگے بڑھائیے مگر معاشرتی علوم کی قربانی کر کے نہیں بلکہ ان کے سائے میں۔ سائنس ان کے سائے میں پروان چڑھے گی تو معاشرے کے لیے رحمت بنے گی ورنہ زحمت ۔

ہم پوری دیانتداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ آج بزدلی ، کم ہمتی ، کرپشن ، بددیانتی ، ڈر ، خوف کی ماری کشکول زدہ پاکستانی قوم کو عزت نفس دینے ، وقا ر مہیا کرنے اور حوصلہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور سب کچھ فراہم کرنایقیناسائنس کے بس کا کام نہیں۔ سائنس اپنے سارے ایٹم بم بنا کے بھی ہمیں عزت نفس ، خود داری اور غیرت و حوصلہ مہیا نہ کر سکی جب کہ ہمارا یقین ہے کہ معاشرتی علوم یہ سب کچھ ہمیں بہت تھوڑے عرصے میں فراہم کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہم ان کو ،ان کامناسب مقام دینے کے لیے تیار ہوں۔ جتنا ہم ان کے لیے کریں گے اس سے کہیں زیادہ یہ ہمارے لیے کریں گے ۔اللہ کرے کہ مہلت ختم ہونے سے پہلے پہلے ہمیںیہ سب باتیں سمجھ آ جائیں۔

(محمد صدیق بخاری، www.suayharam.org )

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔ سوشل سائنسز میں کون کون سے علوم آتے ہیں اور ان میں سے ہر علم انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

۲۔ سوشل سائنسز کی مدد سے کون سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟

۳۔ اگر کسی معاشرے میں سوشل سائنسز کا رجحان ختم ہو جائے اور لوگ صرف نیچرل سائنسز پڑھنے لگ جائیں تو اس کے کیا اثرات اس معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html