بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیاانگریزی بولنا ذہانت اور لیاقت کی علامت ہے؟

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قوموں کے عروج و زوال کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔ جب کوئی قوم بام عروج پر پہنچتی ہے تو پھر ہر راستہ اسی کے کوچے سے ہو کر گزرنے لگتا ہے اورکمزور اقوام انفرادی اور اجتماعی ہر معاملے میں طاقتور قوم کی طرف چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اسی تیزی سے رخ کرنے لگتی ہیں جس تیزی سے پہاڑ سے اترنے والے ندی نالے دریا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہوا کرتے ہیں۔

''طاقت'' میں بڑی طاقت ہے ،اتنی طاقت کہ اقوام عالم کے قبلے کارخ بھی اس طاقت اور عروج کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ طاقت اور کمزوری کی نفسیات بھی ہمیشہ ایک سی رہتی ہے۔ طاقتور ہرزمانے میں ایک سا رویہ اختیار کرتا ہے اورکمزور سے بھی ایک سی حرکات صادر ہوتی ہیں۔ زمان ومکان کی تبدیلی سے ان رویوں اور حرکات کے نام اور شکلیں تو تبدیل ہو تی رہتی ہیں لیکن ان کی ماہیت ایک سی رہتی ہے۔جب مسلمان اوج ثریاپر فائز تھے تو قوموں کی تقدیر انہی سے وابستہ تھی۔ اس وقت انہی کا نظام مقدس، انہی کی تہذیب پاکیزہ ، انہی کی ثقافت محترم، اور انہی کا ہر عمل قابل تقلید تھا اور آج بالکل اسی طرح مغرب کی ہر بات 'مقد س 'اور ہر عمل' صحیفہ ربانی 'ہے ۔اس کی نقالی فخر اور اس کی تقلید باعث اعزاز ہے ۔ایسا کیوں ہے؟ سادہ سا جواب ہے کہ ہم غریب ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ غربت بھی عجب چیز ہے۔

غریب چاہے فرد ہو یا قوم اس سے اس دنیا میں ایک سا سلوک ہوتا ہے ۔جس طرح افلاس غریب بچوں کو بھی سنجیدگی بخش دیتا ہے اور وہ بیچارے سہمے سہمے سے رہا کرتے ہیں، شرارت نہیں کیاکرتے، اس طرح غریب اقوام بھی سہمی سہمی سی رہتی ہیں کہ مبادا آقا ؤں کے حضور کوئی بات گستاخی تصور نہ ہو۔غریب ملکوں کے افراد امیر ملکوں میں رہتے تو ہیں لیکن اسی طرح ، جس طرح ہمارے معاشرے کے بڑے گھرانوں میں فاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں۔کشکول زدہ ہاتھ کی عزت نفس کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے ؟قرض دینے والاقرض دے گا تو نہ صرف اسے خیرات قرار دے گا بلکہ ساتھ ہی اپنی شرائط بھی منوائے گا۔اور ہم کتنے بھولے ہیں کہ جھولی پھیلا کر بھی عزت نفس کی امید باقی رکھتے ہیں۔

ہاتھ کسی کے آگے سوال کے لیے اٹھ جائے اور جھولی کسی در پرخیرات کے لیے پھیل جائے تو پھر عزت کی امید رکھنا عبث ہے ۔البتہ ایک در ضرور ایسا ہے جہاں جھولی پھیلانے سے عزت نفس بڑھ جایا کرتی ہے اورجہاں سوال کرنے والا عزیز ہوجایاکرتاہے لیکن شرط یہ ہے کہ پھر جھولی صرف اسی کے آگے پھیلے اورسوال صرف اسی سے کیا جائے لیکن اس کے لیے ہم تیار نہیں۔ بہر حال بات تھی غربت کی تو جناب! غربت جسموں کو مفلوج اور سوچوں کو غلام بنا کے رکھ دیتی ہے۔ اس کا مظاہر ہ یوں تو ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن زبان کا معاملہ سب سے عجب ہے ۔ آقاؤں کی زبان چونکہ انگریزی ہے، اس لیے ہم نے بھی عزت پانے کاآسان راستہ یہی سمجھا ہے کہ انگریزی بولی جائے ۔ بھلاکوا ہنس کی چال چل کرکبھی ہنس بناکرتا ہے؟ کوے نے تو کوا ہی رہنا ہے ۔ نصف صدی سے ہم اپنی توانائیاں اس میدان میں کھپا رہے ہیں لیکن ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں۔

اس کی بجائے اگر ہم نے یہی توانا ئی حقیقی علم اور سائنس کے حصول میں صرف کی ہوتی تو آج نقشہ کچھ اور ہوتا۔ کتنے ہی ذہین نوجوان محض اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ وہ انگریزی نہیں بول پاتے ۔ وہ اس لیے رد کر دیے جاتے ہیں کہ ذہانت کے خود ساختہ معیار پر پورے نہیں اترتے کیونکہ ہم نے ذہانت اورعلم کے جانچنے کا معیار انگریزی بولنے کو بنا لیاہے ۔ انگریزی زبان کا علم او ر اس کا جاننا اور چیز ہے اور اس کا بولنا اورچیز ہے ۔ہم نے بولنا مطلوب بنا لیا ہے اور علم کوپس پشت ڈال دیا ہے ۔ایک صاحب علم نے ایک سکول کے پرنسپل سے پوچھا کہ فلا ں صاحب کو انگریزی کا استاد مقرر کیا گیا ہے، اس کی اس مضمون میں استعداد کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بہت اچھی انگریز ی بولتا ہے ۔ اس صاحب علم نے کہا کہ بہت اچھی انگریزی تومیرا خانساماں بھی بول لیتا ہے، کیا اسے بھی تمہارے سکول میں استاد بنا دیا جائے ؟یہی صورت حال ہمار ی ہے اب طالب علموں کی ذہانت اور لیاقت جانچنے کا واحد معیار انگریزی زبان بولنا رہ گیا ہے اور یہ کسی قوم کے ذہنی افلاس کی انتہا ہو ا کر تی ہے۔زبان کا بولنا اور چیز ہے اور علم کے حصول کے لیے اس زبان کا سمجھنا اور سیکھنا اور چیز ہے ،دوسری چیز عین مطلوب ہے جبکہ پہلی چیز ایک ایسا بوجھ ہے جس تلے بہت سی ذہانتیں دب کرختم ہوجاتی ہیں۔

ہماری غلامی اور افلاس کا یہ حال ہے کہ اچھے بھلے سمجھ دار اور دین دار کہلانے والے حضرات بھی بہت خوش ہو کر کہا کرتے ہیں کہ دیکھو فلاں کتنا ذہین ہے، کتنی اچھی انگریزی بولتا ہے ! زبان کوئی مجرد یا ہوا میں معلق شے نہیں ہوتی۔ ہر زبان کے ساتھ اس قوم کی تہذیب اور روایات وابستہ ہوتی ہیں۔ جب اس زبان کو سر پر سوار کیا جائے تو اس کی روایات اور تہذیب بھی چپکے سے در آیا کرتی ہے۔ یہی کچھ انگریزی زبان کے معاملے میں ہواہے ۔ اگر ہم نے انگریزی کو علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بطور زینہ اپنایا ہوتا تو صورت حال کچھ اور ہوتی۔ پھر یہ ہمارے پاؤں تلے ہوتی۔ اب یہ ہمارے سر پر سوار ہے۔ بس فرق اتنا ہی ہے لیکن غلام ذہنوں کے لیے یہ فرق کوئی خاص فرق نہیں ہو اکرتا۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں اردو کا جو حشر ہو رہا ہے اسے آنے والا مورخ ہمارے ذہنی افلاس کی بہت نمایاں علامت کے طور پر درج کرے گا۔اگر ہمارے بچے انگریزی میں مہارت تامہ حاصل کرپاتے تو پھر بھی غنیمت تھی مگر آج تک ایسانہیں ہوا ،جبکہ دوسری طرف وہ بیچارے اردو بھی صحیح طور پر سیکھ نہیں پاتے۔ آج کا گریجویٹ اقبال کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہ اس سے آگے بڑھ کر شاہ ولی اللہ اور دیگر اکابرکو کیا سمجھے گا؟ہم اردو سے نہیں کٹ رہے بلکہ اپنی تاریخ سے کٹ رہے ہیں اور جو قوم اپنی تاریخ سے کٹ جاتی ہے وہ قوموں کے بازار میں کوڑا کرکٹ بن کر رہ جاتی ہے۔ کیا ہمارا حال آج ایسا ہی نہیں؟ جو چاہتا ہے ٹشو پیپر کی طرح ہمیں استعمال کرتا ہے اور پھر جہا ں چاہتا ہے اورجب چاہتا ہے ہمیں پھینک کر اپنی راہ لیتا ہے۔

قو م و ملت سے محبت رکھنے والے افراد اور اداروں سے ہماری درد مندانہ درخواست ہے کہ خدارا اردو کو اس کا صحیح مقام دیجیے۔ ہم انگریزی کے خلاف نہیں ،بلکہ حامی ہیں کہ اسے ضرور سیکھا جائے بلکہ بھر پور طریقے سے سیکھا جائے مگر اردوکو قربان کر کے نہیں۔یہ سودا بہت مہنگا ہے۔اورتاریخ جب اس کا حساب چکائے گی تو ہم بہت بے بس ہو ں گے ۔علم وسائنس کے حصول کے لیے انگریزی کو مطلوب بنائیے نہ کہ بولنے کے لیے محبوب۔خدارا اس باریک فرق کو سمجھنے کی کوشش کیجیے ۔ فارسی سے رابطے کاٹ کر ہم پہلے ہی اپنے بچوں کو گلستاں بوستاں کی خوبصورت اخلاقیات سے محروم کر چکے ہیں۔ اب اردو سے کاٹ کر رہی سہی کسر بھی پوری ہوا چاہتی ہے ۔ انگریزی بولنے سے انگریزی تہذیب اور روایات تو ضرور آئیں گی ،علم نہیں۔ علم شاید ہمار ا مطلوب ہی نہیں رہا، اس لیے بظاہردیندار، پڑھے لکھے ،قوم و ملت کے درد کا دعویٰ رکھنے والے بلکہ ماہر تعلیم کہلانے والے حضرات بھی بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر خوش ہوجایا کرتے ہیں۔ اس خوشی پر بھی ہمیں اعتراض نہ ہوتا اگر ان حضرات کو اردو کے لٹنے کاغم ہوتا۔ کاش یہ جان جائیں کہ اردو کی قربانی محض ایک زبان کی قربانی نہیں بلکہ دینی اخلاقیات اور مشرقی روایات کی قربانی ہے ۔

ہمارے دکھوں کا علاج انگریزی بولنا نہیں بلکہ طاقت اور قوت کا حصول ہے اور طاقت و قوت کا حصول طاقتور کی نقالی سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے انہی راستوں سے گزرنا پڑتا ہے جن راستوں پر موجودہ طاقتور کے قدم گامزن رہے ہوں اور یہ راستہ صرف اور صرف علوم وفنون کا حصول ہے۔ اورظاہر ہے کہ علوم و فنون میں ترقی کے لیے انگریزی بولنا شرط نہیں بلکہ اسے علمی سطح پربقدر ضرورت سیکھنا شرط ہے ۔ آخرچینی ، جاپانی ، فرانسیسی اور جرمن اپنی زبانیں بول کر بلکہ ان میں پڑھ کر قوت و اقتدار کے مالک بن سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ لیکن برا ہو ذہنی غلامی کا جس نے یہ دن دکھائے ہیں۔وہ دن ہماری آزادی کا حقیقی دن ہو گا جس دن ہم اپنی زبان کوفخر سے بولیں گے، فخر سے پڑھیں گے اور فخر سے سیکھےں گے اورصرف انگریزی نہیں بلکہ ہر وہ زبان جو ترقی کے رستے میں ہماری معاون ہو اسے صرف بقدر ضرورت سیکھنے پر اکتفا کریں گے ۔

(محمد صدیق بخاری،www.suayharam.com )

غور فرمائیے!

      ہماری غلامانہ ذہنیت کے اسباب کیا ہیں؟

      انگریزی کیوں سیکھنی چاہیے اور کیوں نہیں؟ انگریزی سیکھنے کے پیچھے کار فرما مقاصد کا تجزیہ کیجیے اور بتائیے کہ ان میں سے کون سا مقصد اچھا ہے اور کون سا نہیں؟

      کیا آپ اپنے بچوں کو عربی اور اردو میں مطالعہ کرنا سکھا رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو اس کا اہتمام کرنے کا ایک ورک پلان تیار کیجیے۔

      یہ لفظ ورک پلان بھی انگلش کا لفظ ہے مگر ہم اسے اردو میں استعمال کرنے لگے ہیں؟ کیا انگریزی الفاظ کو اردو میں استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟ اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ بیان کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html