بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بدعات پر تنقیدکیسے کی جائے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: ڈئیر مبشر! معاشرے میں رائج ایک بدعت کے موضوع پر ایک تحریر پیش کر رہا ہوں۔ اس پر تبصرہ کیجیے۔

عامر گزدر، کراچی، پاکستان

جواب: محترم عامر بھائی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کی تحریر دیکھی۔ تحریر کی پریزنٹیشن کے بارے میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:

آپ کے تحریر کردہ جوابات کو دیکھ کر یہ تاثر محسوس ہوتا ہے کہ مخاطب کے بارے میں فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ بھی دین کو سمجھنے کے "اصول و مبادی" کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ ان کا قائل بھی ہے، جن کا مطالعہ آپ کر چکے ہیں۔

حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ہمارے عوام کی اکثریت کے نزدیک دین کا ماخذ قرآن و سنت نہیں بلکہ ان کے اپنے مولوی صاحب یا پیر صاحب ہیں۔ لوگ بہت سے ایسےلا یعنی اعمال کو نہ صرف اپنائے ہوئے ہیں بلکہ انہیں دینکا حصہ سمجھتے ہیں اور ان کی پیروی کو پورے مذہبی جذبے سے سرانجام دیتے ہیں۔ اسے پیش نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ بات کا آغاز اصول سے کیا جائے۔ اور اسے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کیا جائے۔

جو نظریات کوئی شخص سالوں میں اختیار کر چکا ہوتا ہے، اس سے اسے ہٹانا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے علم نفسیات میں Unfreeze-Change-Refreeze کا طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تبدیلی لانے سے پہلے ان فریز کیا جائے۔

میرے خیال میں تحریر کا آغاز اس طرح سے ہونا چاہیے تھا: "تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ دین کا تنہا ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔کسی بھی عمل کو دین قرار دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہوا ہو۔۔۔۔" اس کے بعد آپ یہ بیان کرتے کہ آپ کے ارشادات اور افعال کا ریکارڈ حدیث کی صورت میں موجود ہے۔ اس پورے ذخیرے کا جائزہ لیا جائے تو کوئی ایسی صحیح یا ضعیف حدیث نہیں ملتی جس میں اس عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہو۔

یہ پیراگراف دراصل مخاطب کو ان فریز کرتا۔ اس کے بعد آپ کا اصل جواب ان کے ذہنوں کو تبدیل کرتا اور آرٹیکل کا آخری حصہ ری فریز یعنی نئے نقطہ نظر پر ان کو آمادہ کرتا۔

اس کے علاوہ یہ بھی کوشش کیجیے کہ معاشرے میں رائج غلط تصورات کے بارے میں مخاطب کے ذہنوں میں زیادہ سے زیادہ سوالات پیدا کیجیے۔ سوالات ان فریز کرنے میں بہت معاون ثابت ہوا کرتے ہیں۔

امید ہے کہ یہ تفصیل مددگار ہو گی۔

والسلام

مبشر

(اپریل 2010)

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability