بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر محدثین کی جرح

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: السلام علیکم۔ بھائی صاحب میں آپ کو کچھ اٹیچ منٹ بھیج رہا ہوں،جن میں امامابوحنیفہ پر جرح کی گئی ہے۔ برائے مہربانی ذرا یہ تصدیق کروا دیں کہ یہ جرح صحیح ہے یا غلط؟

طاہر علی خان، کراچی، پاکستان

جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ

امام ابوحنیفہ کے بارے میں مناسب ہو گا کہ جرح و تعدیل کے مشہور انسائیکلو پیڈیا تہذیب الکمال میں ان کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کی آراء پڑھ لیجیے۔ ان ائمہ کی اکثریت انہیں علم فقہ کا امام مانتی ہے۔ البتہ ان کے حافظے وغیرہ کے بارے میں کچھ کلام موجود ہے جو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس آرٹیکل میں جمع کیا گیا ہے۔

اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ کسی حدیث کے ایک راوی اور ایک فقیہ کے کردار کا جائزہ لے لیا جائے۔ جیسا کہ امام شافعی لکھتے ہیں کہ حدیث کا راوی دراصل کسی حدیث کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہونے پر گواہی پیش کر رہا ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم عدالت میں کسی گواہ کی گواہی قبول کرنے سے پہلے اس کے کردار اور حافظے کا جائزہ لیتے ہیں، اسی طرح حدیث کے راویوں کے کردار اور حافظے وغیرہ کو پرکھا جاتا ہے کیونکہ محض اس شخص کی گواہی پر ہمیں ایک حدیث کو قبول یا مسترد کرنا ہوتا ہے۔

فقیہ کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ فقیہ گواہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے ثابت شدہ احکام میں غور و فکر کرے اور ان کا اطلاق عملی زندگی کے مسائل پر کرے۔ فقیہ کے کام میں اس کی شخصیت نہیں بلکہ قرآن و سنت کے دلائل دیکھے جاتے ہیں۔

اگر امام ابوحنیفہ حدیث کے راوی ہوتے تو یقیناً جرح و تعدیل کے ان بیانات کی اہمیت تھی، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کا رول ایک فقیہ کا رول ہے۔ اس وجہ سے ان کے حافظے وغیرہ کی بحث غیر متعلق ہے۔ جب وہ دین کی بنیاد پر کوئی بات کریں گے تو ان کے دلائل دیکھے جائیں گے۔ اگر ان کی بات قرآن و سنت کے مطابق ہو گی تو مان لی جائے گی ورنہ مسترد کر دی جائے گی۔ خود حنفی حضرات بہت سے معاملات میں ان سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے شاگردوں کی آراء کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمیں اپنے ان تمام بزرگوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے۔ بعض لوگ ان کے بارے میں جو پراپیگنڈا کرتے ہیں، وہ درست نہیں ہے۔ یہ انتہا پسندی ہے۔ دوسری انتہا ان کا فکری غلام بن جانا ہے۔ ان دونوں انتہاؤںسے بچ کر ہمیں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ امید ہے اس سے بات واضح ہو گئی ہو گی۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

(جنوری 2010)

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability