بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سُدّی صغیر و کبیر

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

محترم مبشر بھائی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

احادیث کی اسناد میں ایک شخص "سدی" کا ذکر آتا ہے۔ یہ کون ہے اور کیا قابل اعتماد راوی ہے؟ کیا امام مسلم نے بھی ان سے روایت کی ہے؟

والسلام

باذوق، ریاض، سعودی عرب

جواب: محترم باذوق بھائی

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں نے تفصیل سے دیکھا ہے۔ سدی اصل میں دو ہیں۔ ایک سدی کبیر ہیں۔ ان کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ درمیانے درجے کے لائق اعتماد ہیں، بعض کے نزدیک یہ حدیث کے معاملے میں کمزور ہیں اور ان کی احادیث کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ تفصیل اٹیچ منٹ میں موجود ہے۔ امام مسلم نے انہی سے روایت کی ہے کیونکہ ان کے نقطہ نظر کے مطابق یہ قابل اعتماد ہیں لیکن انہوں نے بھی ان کی بیان کردہ حدیث کو "متابعات" میں نقل کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ امام مسلم ہر باب میں پہلی روایت پر بنیاد رکھتے ہیں، اس کے بعد مزید روایات اس کو مزید کنفرم کرنے کے لئے لاتے ہیں۔ انہوں نے بنیادی روایت میں سدی کبیر سے روایت نہیں لی مگر متابعات میں ان کی روایات کو قبول کیا ہے۔

دوسرے سدی صغیر جو کہ محمد بن مروان ہیں۔ ان کو دجال کذاب کہا گیا ہے۔ یہ صاحب شدت پسندوں میں سے تھے اور احادیث گھڑا کرتے تھے۔ تفصیل کے لئے یہ آرٹیکل دیکھیے:

http://www.saaid.net/Doat/Zugail/287.htm

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہمی جنگوں کے بارے میں زیادہ تر روایات سدی صغیر ہی سے ملا کرتی ہیں۔ یہ صاحب روایات گھڑ کر اسے صحابہ سے منسوب کر دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے تاریخ کی کتب میں سدی صغیر کی روایات سے بچنا چاہیے۔ ان دونوں کے متعلق جو مواد مل سکا ہے، میں نے اٹیچ منٹ میں شامل کر دیا ہے۔

دعاؤں کی درخواست ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

(اکتوبر 2009)

نوٹ: جو حضرات اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہیں، وہ اس لنک پر کلک کریں:

††† http://www.mubashirnazir.org/ER/Hadith/L0004-00-Hadith.htm

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability