بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

میاں بیوی کے درمیان شکوک و شبہات

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: محترم مبشر بھائی! السلام علیکم۔

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے ذہن میں بہت سے وساوس آتے ہیں۔ اور جب تک خدشات کلیئر نہ ہو جائیں، وہ مجھے تنگ کرتے ہیں۔ خاص کر اپنی اہلیہ کے ساتھ۔ میں ان پر اعتماد کر تا ہوں مگر بعض اوقات ایسی چیز سامنے آتی ہے تو میرے ذہن میں ہزاروں سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب میں اپنی اہلیہ سے وہ سوالات کرتا ہوں تو وہ چڑ جاتی ہیں۔ جب کہ میں ان کا جواب سے مطمئن بھی ہو جاتا ہوں اور ان کی بات پر اعتماد بھی کرتا ہوں۔ میں اس مسئلے سے کافی پریشان ہوں۔ وہ مجھ سے کہتی ہیں کہ آپ شک کرتے ہیں۔ جبکہ میں کہتا ہوں کہ شک ہوتا تو تم سے پوچھتا ہی نہیں۔ میں تو صرف حالات و واقعات کی وجہ سے جو چیزیں ذہن میں آ رہی ہیں، انہیں کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے ان پر یقین ہے میں یہ سوچ کر ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ مجھ سے کلیئر کردیں گی لیکن وہ چڑ جاتی ہیں۔ اس سے ہمارا رشتہ خراب ہو رہا ہے۔ کوئی مشورہ دیجیے۔

ایک قاری، اسلام آباد، پاکستان

جواب: محترم بھائی

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میاں بیوی کا رشتہ ایک جانب تو دنیا کا مضبوط ترین رشتہ ہے جو انسان کی قبر تک ساتھ جاتا ہے اور دوسری طرف نازک ترین رشتہ۔ اس رشتے میں بنیادی دراڑ شک سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ جو صورتحال آپ نے بیان کی ہے اس کے مطابق آپ شک تو نہیں کرتے مگر آپ کے سوالات کی وجہ سے آپ کی اہلیہ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ شک کر رہے ہیں۔ اس سے ان کے دل کو تکلیف ہوتی ہو گی۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عین ممکن ہے کہ کچھ عرصے میں آپ کی اہلیہ کے لئے یہ تکلیف ناقابل برداشت ہو جائے کیونکہ خواتین کے جذبات و احساسات مردوں کی نسبت بہت نازک ہوتے ہیں۔

اس وجہ سے میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ کے ذہن میں جو وساوس پیدا ہوں، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر انہیں نظر انداز کر دیں۔ کچھ ہی دنوں میں معاملہ انشاء اللہ خود ہی صاف ہو جائے گا اور آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل جائے گا۔ کوشش کر کے اپنے ذہن کو اس بات کے لئے تیار کیجیے کہ ان سوالات کے جوابات سے زیادہ اہم آپ کے رشتے کا قائم رہنا ہے۔ اگر رشتہ ہی قائم نہ رہا تو پھر جواب حاصل کرنے سے کیا حاصل۔ ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو نظر انداز کرنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کیجیے۔ شروع میں یہ مشکل لگے گا مگر دو تین ماہ کے بعد آپ کو اس کی عادت ہو جائے گی۔

اپنی اہلیہ کو بھی یہ بتا دیجیے کہ آپ سوالات پوچھنے کی عادت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر اس دوران کبھی بھول چوک سے کچھ پوچھ بھی بیٹھیں تو ان سے کہیے کہ وہ اسے کچھ عرصے کے لئے نظر انداز کر دیں۔ امید ہے کہ وہ بھی آپ کے ساتھ تعاون کریں گی۔

اللہ تعالی سے دعا بھی کرتے رہیے کہ وہ اس رشتے کو مضبوط کرے۔ یہ وساوس شیطان پیدا کرتا ہے تاکہ وہ میاں بیوی کے رشتے میں دراڑ پیدا کر سکے۔ اگر یہ رشتہ خدانخواستہ ٹوٹ جائے تو پھر اس کے بعد اس کا کام آسان ہو جاتا ہے اور وہ دونوں کو اپنے چنگل میں پھنسا لیتا ہے۔ اکثر اوقات ان وساوس کا شکار بیوی ہوتی ہے مگر کبھی مرد بھی ان کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ آپ کے معاملے میں ہو رہا ہے۔

اگر اس کوشش میں کامیابی نہ ہو تو ذہن میں سوالات پیدا ہونے کی بعض اوقات بائیولوجیکل وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ انسانی جسم میں کچھ کیمیکل ایسے ہوتے ہیں جن کی مقدار اگر کم یا زیادہ ہو جائے تو پھر اس کا اثر انسانی دماغ پر پڑتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کی چیز ہے جیسے کولیسٹرول کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں انسانی جسم پر کچھ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر آپ کوشش میں کامیاب نہ ہو سکیں تو عین ممکن ہے کہ یہ ان کیمیکلز کی کارستانی ہو۔ اس صورت میں آپ کو کچھ میڈیسن وغیرہ کے ذریعے انہیں کنٹرول کرنا ہو گا۔ ایسی صورت میں کسی اچھے سائیکاٹرسٹ سے مل لیجیے گا کیونکہ کیمیکلز کا اوپر نیچے ہونا ایک عام معاملہ ہے اور کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو عمر کے کسی حصے میں ہو سکتا ہے۔

ایک مشورہ اور دیتا چلوں۔ بہتر ہو گا کہ آپ ذاتی نوعیت کے سوالات کے لئے کوئی پرسنل ای میل اکاؤنٹ استعمال کیا کیجیے۔ میرا تعلق چونکہ آئی ٹی آڈٹ کی فیلڈ سے ہے، اس وجہ سے میں جانتا ہوں کہ آپ کی کمپنی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا کوئی ماہر آسانی سے آپ کی ای میلز چیک کر سکتا ہے۔ اس طرح آپ کے بالکل ذاتی رازوں سے وہ واقف ہو سکتا ہے۔

امید ہے اپنی دعاؤں میں آپ مجھ ناچیز کو بھی یاد رکھتے ہوں گے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

(اکتوبر 2009)

 

جزاک اللہ! آپ جیسے مخلص شخص سے رابطہ میری خوش نصیبی ہے۔

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability