بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

لڑکے اور لڑکی کی دوستی

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: ڈئیر مبشر صاحب! السلام علیکم۔ میری ایک لڑکی سے ایس ایم ایس پر دوستی ہوئی۔ میں اسے پہلے جانتا تھا۔ ہماری دوستی اتنی گہری ہو گئی کہ ہم دونوں کوشش کے باوجود ختم نہیں کر پا رہے تھے۔ لہذا میں نے اس سے شادی کا ارادہ کیا اور پروپوز کر دیا۔ اب ہماری شادی ہو رہی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرااس سے رابطہ رکھنا فی الحال جائز ہے یا نہیں؟ میں یہ سوچ کر رابطہ ختم نہیں کرتا کہ اس کے علاوہ میں کروں گا کیا۔ میرا وہ وقت جو اس سے ایس ایم ایس کر کے گزرتا ہے، اگر وہ نہ ہو تو بہت زیادہ چانس ہے کہ میں گناہ کی طرف جاؤں۔ میری راہنمائی کیجیے۔ کیا مجھے اپنی ہونے والی بیوی سے اپنے احساسات شیئر کرنے چاہییں یا انہیں کنٹرول کرنا چاہیے؟

نامعلوم، اسلام آباد، پاکستان

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کی میل کا بہت شکریہ۔ میں آپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں کہ آپ جائز و ناجائز کا خیال رکھتے ہیں اور خود کو گناہ سے بچانا چاہتے ہیں۔ دین اسلام کی رو سے بدکاری ایک بنیادی گناہ ہے۔ اس کے راستوں کو بند کرنے کے لئے مرد و زن کے تعلقات پر دین نے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ انسان اپنے جذبات سے بے قابو ہو کر کہیں غلط راہوں پر نہ چل نکلے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد و خاتون کو باہمی دوستی سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ کہیں یہ لوگ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

جیسا کہ آپ نے بیان کیا ہے کہ آپ کی شادی ان خاتون سے ہو رہی ہے۔ اب ان سے ایس ایم ایس یا فون کے ذریعے رابطے میں تو کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ آپ دونوں اخلاقی حدود کا خیال رکھیں اور اس ذریعے کو محض ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے استعمال کریں۔ ان خاتون سے تنہائی میں ملاقات البتہ بہت سے اخلاقی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے شادی سے پہلے اس سے ضرور پرہیز کرنے کا مشورہ میں آپ کو دوں گا۔ اللہ تعالی آپ کی شادی کو مبارک کرے۔

اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

(دسمبر2008)

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability