بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نوکری سے نجات کیسے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: ڈئیر مبشر صاحب!

السلام علیکم۔ میں ایک فیکٹری میں آفس میں کمپیوٹر آپریٹر کی جاب کرتا ہوں لیکن میں یہ جاب بہت مجبوری سے کر رہا ہوں۔ میرا دل نہیں چاہتا یہ جاب کرنے کو۔ ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن کبھی بھی خوش کر کام پر نہیں گیا۔ پہلے میں سوچتا تھا کہ کسی اور فیکٹری میں جاب ڈھونڈ لوں لیکن فیکٹری کا ماحول دیکھ کر اب میرا دل اس سیکٹر کی طرف آنے کو نہیں چاہتا۔ میری خواہش ہے کہ مجھے چھوٹی موٹی کوئی سرکاری جاب مل جائے۔ اب عمر بھی ۲۵ سال سے اوپر ہو گئی ہے اور میرا دل بھی نہیں چاہتا کہ کسی کے پاس 8-9 گھنٹے کی جاب کرنے کو۔ میں اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پریشان ہوں اور فیکٹری سے نکل کر کوئی ایسی جاب کرنا چاہتا ہوں جس میں پریشر کم ہو اور ڈیوٹی بھی۔ کیا مجھے گورنمنٹ کی جاب مل سکتی ہے؟ کیونکہ سرکاری جاب میں ڈیوٹی بھی کم ہوتی ہے اور کام بھی اتنا نہیں کرنا پڑتا۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کوئی ایسا شعبہ بھی ہے جس میں پریشر اور ڈیوٹی کم ہو؟

ایک قاری ، سیالکوٹ، پاکستان

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کے مسئلے کی اصل وجہ پرائیویٹ یا سرکاری جاب نہیں ہے بلکہ جاب کا لیول ہے۔ جونیئر لیول پر آپ کہیں بھی کام کریں تو مشکلات ہوتی ہیں کیونکہ سینئر افسران اپنی مشکلات کو نیچے منتقل کر دیتے ہیں۔ اور نیچے والے اپنے سے نیچے۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ آپ اپنی کوالیفیکیشن میں بہتری لائیں۔ اس سے یہ ہو گا کہ پبلک یا پرائیویٹ کسی بھی سیکٹر میں آپ کو یہاں سے بہتر پوزیشن مل سکے گی۔

گورنمنٹ جاب کا مجھے کوئی تجربہ نہیں ہے، اس معاملے میں بہتر ہے کہ کسی سرکاری ملازم سے مشورہ کیجیے۔ پرائیویٹ کمپنیوں میں جہاں بھی جائیں، آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی تو کم سے کم ہے۔ اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کم نہیں۔ البتہ کم پریشر والے شعبے موجود ہیں۔ جیسے آئل سیکٹر وغیرہ۔ بعض شعبوں میں پریشر زیادہ ہوتا ہے۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ کام کرنے سے نہ گھبرائیے۔ اس عمر میں انسان اگر پریشر برداشت کر کے اچھا تجربہ اور تعلیم حاصل کر لے تو باقی زندگی آرام سے گزرتی ہے۔ آپ جس شعبے میں بھی جاب کرنا چاہیں، ابتدا اپنی تعلیم سے کیجیے۔ تعلیمی قابلیت بہتر بنانے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ زندگی آسان ہوتی جا رہی ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

(اپریل 2010)

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability