بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

پاکستانیوں کا امپریشن کیوں خراب ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: السلام علیکم سر! میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ آپ پاکستانی قوم کے اتحاد کے بارے میں بھی کچھ لکھیں کیوں کہ آپ کا لکھا سیدھا بندے کے دل دماغ میں اثر کرتا ہے۔ ہماری بحیثیت قوم حالت بہت بری ہے۔ جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں ہم کو تھرڈ کلاس نیشنلٹی کہا جاتا ہے۔ حتی کہ ہمارے میس کے گیٹ پر بھی یہی لکھا ہے۔ہمیںدیکھ کر فرنچ لوگ "طالبان طالبان" کی آوازیں کستے ہیں۔

یقین کریں کہ ہم یہاں صرف پانچ پاکستانی ہیںاور کوئی سو کے قریب فرنچ اور دو سو کے قریب فلپائنی ہیں۔ ہم بہت محنت کرتے ہیں۔ ٹائم پر آتے ہیں، ٹائم پر جاتے ہیں۔ کسی سے غلط بات نہیں کرتے کہ اگر کی تو ہمارا نام بعد میں اور پاکستان کا نام پہلے آئے گا۔ لیکن پھر بھی ہمارے ساتھ یہ سلوک کیاجاتا ہے۔ ہماری قوم میں ذرا بھی اتحاد نہیں ہے۔ کیوں کہ کسی ایک کو اپنا لیڈر یا بڑا مان کر چلنے کو یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔ کبھی رہنا بھی آتا ہے ایسےحالات پر۔ایک دفعہ تو میں نے پکا فیصلہ بھی کر لیا تھا کہ اب کسی نے آواز لگائی "طالبان طالبان" تو اس کا سر پھاڑ دینا ہے لیکن ایسا کر نہیں سکا۔

مجھے الفاظ نہیں مل رہے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیکن آپ بہت ذہین ہیں، شاید سمجھ ہی جائیں گے ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے۔ اپنا بہت خیال رکھیے گا۔ کافی رات ہو رہی ہے۔ اب سونا ہے کیونکہ کل صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے۔

اللہ حافظ

عبدالقدیر، ریاض، سعودی عرب۔

مئی 2010

ڈئیر عبدالقدیر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہ جان کو خوشی ہوئی کہ آپ ملک و قوم کا درد رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر میں لکھتا رہتا ہوں۔ آپ تعمیر شخصیت پروگرام کا "یونٹ ۵: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل" سیکشن دیکھ سکتے ہیں:

http://www.mubashirnazir.org/PD/Personalityurdu.htm

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی مشکلات کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا عادی بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی ہر مشکل کے لئے کوئی سازش تلاش کرتے ہیں اور دوسروں کو اس کا مجرم گردانتے ہیں۔ اگر ہم خود احتسابی کی عادت پیدا کر لیں تو بڑی حد تک یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

آپ کو فرنچ اور فلپائنی لوگوں سے جو مسئلہ درپیش ہے، اس کی پہلی ذمہ داری خود ہم پر عائد ہوتی ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم ایک عرصے تک دہشت گردانہ سرگرمیوں کی پرورش کی۔ آج اس کے نتائج خود ہمیں بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب عالمی میڈیا نے ہماری غلطیوں اور خامیوں کو پوری دنیا کے سامنے پھیلا دیا۔ پاکستانی کا امپریشن یہ بن چکا ہے کہ یہ لوگ رواداری اور برداشت سے عاری ہوتے ہیں اور ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اس امپریشن کو درست کرنا ہے۔

اس ضمن میں چند نکات پیش خدمت ہیں:

۱۔ قطعی طور پر ان لوگوں کے آوازیں کسنے سے مشتعل نہ ہوں۔ کسی وقت ان کے ساتھ آرام سے بیٹھ کر گفتگو کریں۔ اس میں جذباتی ہونے کی بجائے انہیں دلائل سے بتائیے کہ تمام پاکستانی دہشت گرد نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم میں کچھ ایسے ضرور ہیں مگر ہماری اکثریت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔

۲۔ اگر پھر بھی وہ لوگ شرارتاً ایسا کریں تو کسی سینئر آفیسر کے پاس یہ معاملہ لے جائیے۔ انہیں بتائیں کہ ہم لوگ محنت سے کام کرتے ہیں اور کسی دہشت گرد تنظیم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے باوجود یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ برائے کرم آپ انہیں روکیں۔ کمپنی کی Non-Discrimination Policy کا حوالہ دیجیے۔ انشاء اللہ معاملہ درست ہو جائے گا۔

ایک بار پھر گزارش کروں گا کہ ان کے غصہ دلانے پر بالکل مشتعل نہ ہوں۔ چند شیطان صفت لوگ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں تاکہ آپ کو نوکری سے نکلوا سکیں۔ ان کی اس بات سے آپ مشتعل ہوئے تو معاملہ آپ کے خلاف ہو جائے گا اور یہ آپ کو نوکری سے نکلوا دیں گے۔ اس کے نتیجے میں آپ پاکستان کی بدنامی کا باعث بھی بنیں گے اور ان کے اس تصور کو درست ثابت کر دیں گے کہ پاکستانیوں میں تحمل اور برداشت کا مادہ نہیں پایا جاتا۔ آپ نے ان کی اس بات کو اپنے طرز عمل سے غلط ثابت کرنا ہے۔ اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

والسلام

مبشر

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability