بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسبال ازار، وہم

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلا م وعلیکم مبشر صا حب

پا کستان میں جو دینی لو گ ہیں وہ نماز کے علا وہ بھی اپنی شلواریں ٹخنو ں سے اوپر رکھتے ہیں جبکہ ہم عام لوگ صر ف نما ز کے دوران ہی شلو ا ریں یا پینٹ ٹخنو ں سے اوپر کر تے ہیں۔ اس با رے میں کچھ بتا ئیں۔

چھو ٹی چھو ٹی با تو ں میں وہم کرنا کو ئی نفسیا تی مسئلہ ہوتا ہے کچھ لوگوں کی عا دت ہو تی ہے وہم کر نے کی۔ وہم کا کو ئی علا ج ہو تا ہے۔

عبداللہ، سیالکوٹ، پاکستان

ڈئیر عبداللہ صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے بہت اچھا کیا کہ اردو میں لکھنا شروع کر دیا ہے۔ جوابات یہ ہیں:

۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہی بیان فرمائی کہ یہ متکبرین کی علامت ہے۔ عربوں کے ہاں یہ متکبرانہ فیشن تھا کہ تہبند کے مہنگے کپڑے کو لٹکتا چھوڑ دیتے جو گھسٹتا ہوا پیچھے زمین پر آتا تھا۔ اس سے منع فرمایا گیا۔

ہمارے ہاں شلوار یا پینٹ میں ایسی صورت نہیں ہے اور نہ ہی یہ متکبرین کا فیشن ہے۔  ہاں ہمارے ہاں تکبر کے جو جو اسٹائل رواج پا گئے ہیں، ان سے بچنا ضروری ہے۔

۲۔ وہم ایک نفسیاتی مرض ہے۔ اس کے علاج کے لئے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔ خود بھی اپنے ذہن کو تربیت دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ صرف اور صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کوئی نقطہ نظر بنایا جائے۔ ذہن کو عادت ڈالی جائے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہ ہو بلکہ بڑے بڑے ایشوز کو مدنظر رکھے۔

ایک سادہ سا سوال خود سے پوچھا جائے: "کیا اس مسئلے سے مجھے کوئی فرق پڑتا ہے؟ اگر جواب "نہیں" ہے تو پھر اس مسئلے کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اگر جواب "ہاں" میں ہے تو پھر وہ مسئلہ اہم ہے۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں اور پھر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قدم اٹھایا جائے۔ جس بات میں "ہوا ہو گا" شامل ہو، اسے نظر انداز کر دیا جائے اور صرف "ہوا ہے" پر توجہ دی جائے۔ یعنی جس بات میں شک ہو، اس پر توجہ نہ دی جائے اور صرف حقائق کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter