بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا سورۃ یس قرآن کا دل ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلام وعلیکم مبشر صاحب کیسے ہیں آپ امید ہے کہ ٹھیک ہو نگے۔مبشر صاحب کچھ سوال پوچھنے ہیں جو کہ یہ ہے۔

سورہ یس میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ" اہک شہر میں دو رسول بھیجے گئے وہاں کے رہنے والوں نے ان رسولوں کو جھٹلاہا تو پھر تیسرا رسول بھیجا گیا"۔ مجھے یہ پو چھنا تھا کہ یہ رسول کون سے ملک میں بھیجے گئے تھےاور یہ کب کا واقعہ ہے؟

سورہ یس کو ہی قرآن کا دل کیوں کہا جاتا ہے اس با رے کوئی ریسرچ ہوئی ہے تو بتائیں۔ اگر ریسرچ نہیں ہوئی تو آپ اس بارے میں کچھ بتائیے۔

والسلام

عبداللہ، سیالکوٹ، پاکستان

نومبر 2010

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سورۃ یس میں اللہ تعالی نے بس واقعہ ہی بیان کیا ہے، اس کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ان کا بیان غیر ضروری تھا۔ یہی معاملہ قرآن میں بیان کردہ تمام واقعات کا ہے۔ قرآن واقعے کے سبق پر توجہ رکھتا ہے اور باقی تفصیلات نظر انداز کر دیتا ہے۔

مفسرین کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ واقعہ موجودہ ترکی کے شہر انطاکیہ کا ہے جہاں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دو صحابہ اور پھر تیسرے کو دعوت کے لئے بھیجا تو یہ واقعہ پیش آیا۔ انجیل میں آپ کے ان صحابہ کو بھی "رسول" یعنی پیغام پہنچانے والا کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔  شہر کے ایک شخص نے، جن کا نام حبیب نجار بتایا جاتا ہے، ان کی بھرپور حمایت کی جس کی پاداش میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ ان سے منسوب ایک مزار اور گرجا آج بھی انطاکیہ میں موجود ہے۔ سفر ترکی میں میرا وہاں جانے کا پلان تھا، مگر جا نہ سکا۔ گوگل ارتھ پر آپ یہ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن بہرحال یہ قیاس آرائی ہے اور اس ضمن میں یقینی بات کہنا مشکل ہے۔

مفسرین کے دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ یہاں دو رسولوں سے مراد سیدنا موسی و ہارون علیہما الصلوۃ والسلام ہیں کیونکہ تاریخ میں یہی ہیں جو دونوں اکٹھے بھیجے گئے تھے۔ تیسرے صاحب جنہوں نے ان کی حمایت کی، وہ فرعون کے خاندان  کے ایک صاحب ایمان آدمی تھے جنہوں نے ان دونوں حضرات کی زبردست حمایت فرعون کے دربار میں کی۔ قرآن مجید میں ان کا تفصیلی ذکر سورۃ المومن 40 میں آیا ہے۔

رہا یس کو قرآن کا دل کہنے کا معاملہ تو ایک ضعیف حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ البانی صاحب نے اس پر جو تحقیق کی ہے، اس کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کے راویوں میں ایک صاحب مقاتل بن سلیمان ہیں جو کہ جھوٹی حدیثیں گھڑا کرتے تھے۔ (دیکھیے، البانی، سلسلہ ضعیفہ حدیث نمبر 169)

ویسے سورۃ یس میں آخرت کی دعوت جس موثر انداز میں دی گئی ہے، اس کے باعث اسے سمجھ کر بار بار پڑھنا چاہیے۔ اس سے واقعی دل پر بڑا اثر ہوتا ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter