بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مبشر بھائی جان

السلام علیکم

آپ کا میل ملا، پڑھ کر خوشی ہوئی کہ آپ کو میرا میسج ملا اور آپ نے اس کا جواب دیا۔

سوال ۱: میں نے حدیث میں پڑھا ہے کہ "دنیا مسلمانوں کے لیے قید خانہ ہے اور کافروں کے لیے جنت ہے۔" تو میرا سوال یہ ہے کہ  مسلمان اس دنیا میں کون سے جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں؟ اور کافروں نے کونسا اچھا کام کیا ہے ؟

سوال ۲: کہا جاتا ہے کہ جب تک مسلمان سنتوں اور قرآن کی پیروی نہیں کریں گے تب تک ان کے حالات سدھریں گے نہیں۔ تو میرا سوال ہے کہ آج کو قمیں اچھے حالات میں ہیں، وہ کسی سنت اور قرآن پر عمل نہیں کرتیں۔ پھر ان کے حالات کیسے اچھے ہیں؟

دعا کی درخواست ہے۔

والسلام

محمد مدثر، انڈیا

جنوری 2011

ڈئیر مدثر بھائی

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 آپ کے سوالات دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ دینی معاملات میں غور کرتے ہیں۔ جوابات یہ ہیں:

 ۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ صحیح حدیث ہے جو مسلم میں روایت ہوئی ہے کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔ آپ کے ذہن میں جو سوال پیدا ہوا ہے، وہ اس حدیث کو اس کے ظاہری  معنی (Literalist Sense) میں لینے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

 حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ دنیا واقعتاً کوئی قید خانہ ہے جس میں کسی جرم کی سزا دینے کے لیے مسلمان کو ڈال دیا گیا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ حدیث میں محض ایک تشبیہ بیان ہوئی ہے۔ ہر زبان میں یہ عام معمول ہے کہ مشابہت کی بنیاد پر ایک چیز کو دوسری سے تشبیہ دے دی جاتی ہے۔ یہ محض زبان کا اسلوب ہوتا ہے جس میں کسی بات پر زور دینے کے لیے اسے اس انداز میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے آپ میری کتاب "قرآنی عربی پروگرام لیول ۵" میں تشبیہ کا باب دیکھ سکتے ہیں۔

 دنیا کو قید خانہ سے تشبیہ اس اعتبار سے دی گئی ہے کہ جیسے قید خانہ کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو، اس میں قیدی کا دل نہیں لگتا بلکہ اس کا دل اسی جانب لگا رہتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا میں جائے، بالکل اسی طرح ایک صاحب ایمان کا دل اصل میں آخرت کی جانب لگا رہتا ہے اور وہ دنیا کے قیام کو بس عارضی ہی سمجھتا ہے۔ اس سے اس کی نفی نہیں ہوتی کہ وہ دنیا میں اپنی ضروریات پوری کرے یا اس کی نعمتوں کو انجوائے کرے۔

 اس کے برعکس ایسا شخص جو اللہ تعالی یا آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، اس کے لئے یہ دنیا ہی سب کچھ ہے جس کے ایک ایک لمحے سے وہ اپنے لیے مزہ کشید کرنا چاہتا ہے۔ اہل ایمان اس وقت کو آخرت کی تیاری پر لگاتے ہیں جسے وہ اپنی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ ہے جس کی جانب حدیث میں توجہ دلائی گئی ہے اور دنیا کو قید خانہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 ۲۔ اس سوال کا بہترین جواب تجزیہ تاریخ کے ماہرین ابن خلدون، ایڈورڈ گبن اور مارک ٹوئن بی نے دیا ہے۔ ان کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق قوموں کا عروج و زوال بنیادی طور پر دو باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک علم اور دوسرے اخلاق۔ جو قوم دوسری قوموں کی نسبت علم اور اخلاق میں بہتر مقام پر کھڑی ہوتی ہے، اسے عروج مل جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ آئیڈیل اخلاق کی مالک ہو، بس اتنا ضروری ہے کہ وہ دوسری قوموں سے بہتر اخلاق رکھتی ہو۔

 قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بنیادی دعوت ہی علم اور اخلاق کی دعوت ہے۔ اللہ تعالی کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنے کیریکٹر کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ اس پر جب ہم عمل کریں گے تو ہمیں عروج حاصل ہو جائے گا۔

 موجودہ دور کی غیر مسلم قومیں اسی قانون کے تحت عروج پر ہیں۔ وہ اگرچہ قرآن و سنت کو نہیں مانتے مگر علم اور اخلاق کے معاملے میں ان کی تعلیمات پر کسی حد تک عمل کرتے ہیں۔ علمی اعتبار سے دیکھیے تو وہ ہم سے کہیں آگے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم ہم ان سے سیکھتے ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے دوسری قوموں کے لئے تو وہ بہت اچھے نہیں ہیں مگر اپنی قوم کے لیے کم از کم ہم سے زیادہ اچھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا بہترین ٹیلنٹ ان کے ممالک کی نیشنلٹی لینا چاہتا ہے۔

 اس سے پہلے تاریخ میں مسلمان دوسری قوموں سے علم و اخلاق میں بہتر تھے تو دنیا میں ان کا عروج تھا اور دنیا بھر کے مسلم و غیر مسلم افراد کا ٹیلنٹ سمٹ سمٹ کر غرناطہ، بغداد، دہلی اور قاہرہ کا رخ کرتا تھا۔ اگر ہم اس صورتحال کو بہتر بنا لیں تو ہمارا عروج شروع ہو جائے گا۔ یہی قرآن و سنت کی دعوت ہے جس کو ہمیں اختیار کرنا چاہیے۔

 امید ہے کہ بات واضح ہو گئی ہو گی۔

 والسلام

مبشر

ڈئیر مبشر بھائی جان

السلام علیکم

آپ کی میل پڑھنے سے  ایک اور سوال ذہن میں آیا۔ آپ نے لکھا ہے کہ  جیسے قیدی کا من باہر کی دنیا میں لگتا رہتا ہے، تو یہ ہے کہ قیدی نے باہر کی دنیا دیکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کا من باہر کی دنیا میں لگا رہتا ہے۔  لیکن مسلمانوں نے باہر کی دنیا یعنی جنت نہیں دیکھی ہے توہ ہمارا من جنت کی طرف کیسے رہے گا؟

مبشر بھائی جان! اگر میں آپ کے کچھ کام آ سکتا ہوں تو پلیز مجھے بتائیے۔ اپنے بارے میں کچھ لکھیے:

انڈیا سے آپ کا چھوٹا بھائی

مدثر

ڈئیر مدثر بھائی

السلام علیکم

آپ کی میل سے خوشی ہوئی۔ اگر آپ اردو میں لکھا کریں تو پڑھنے میں آسانی ہو جائے۔ میرے لیے رومن اردو پڑھنا مشکل ہے۔

تمثیل میں ضروری نہیں ہوتا کہ وہ بالکل سو فیصد اصل صورتحال کے مطابق ہو، اصل اور تمثیل میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہوتا ہے۔ جنت کے بارے میں شوق پیدا کرنے کے لیے ہی اللہ تعالی نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ قرآن مجید نے اس کے لیے بھی تمثیل ہی کا طریقہ اختیار کیا ہے اور دنیا کی کچھ نعمتوں جیسے خوبصورت باغات، دریا، نہریں، ازدواجی تعلق، مشروبات وغیرہ کی مثال دے کر بیان کیا ہے جنت میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی لذت کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان نعمتوں کو کوئی نہ چھینے گا، نہ وہاں ماضی کا پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔

اگر انسان کے لاشعور کو ٹٹولا جائے تو اس مین یہ شدید خواہش ہے کہ وہ ایسی ایمپائر کا مالک ہو جس میں اسے ہر طرح کی نعمتیں مل جائیں اور یہ ایمپائر ہمیشہ قائم رہے۔ اسی کا وعدہ اللہ تعالی کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے وعدے پر کامل ایمان رکھتا ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پھر اس دنیا میں اس کا دل نہ لگے بلکہ آخرت اس کا مطمح نظر بن جائے۔ امید ہے کہ بات واضح ہو گئی ہو گی۔

میرے بارے میں آپ کے جذبات کا بہت بہت شکریہ۔ میرا تفصیلی تعارف آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:

http://mubashirnazir.org/Mubashir%20Nazir.htm

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter