بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

مسلم اور غیر مسلم کی شادی

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مبشر بھائی جان

السلام علیکم

کیا مسلمان لڑکے یا لڑکی کی شادی غیر مسلموں سے ہو سکتی ہے؟ کیا شادی کے لیے نکاح ضروری ہے؟ کیونکہ شادی کے لیے  تو صرف ڈیکلریشین کی ضرورت ہوتی ہے۔

محمد مدثر، انڈیا

فروری 2011

ڈئیر مدثر بھائی

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 غیر مسلموں کے ساتھ شادی سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پھر بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ والدین میں سے ایک بچے کو مسلمان بنانا چاہے اور دوسرا عیسائی تو بچے کی شخصیت مسخ ہو کر رہ جائے گی۔ اس وجہ سے دین نے مسلمان لڑکی کو تو غیر مسلم سے نکاح سے ہر حال میں منع کیا ہے۔ مسلمان لڑکے کو غیر مسلم لڑکی سے نکاح بھی منع ہے۔ اس سے استثنا اہل کتاب کی پاک دامن خواتین کا ہے۔ یہ اجازت بھی اس صورت میں ہے جب غیر مسلم مسلمانوں کے ملک میں رہ رہے ہوں اور غالب امکان ہو کہ غیر مسلم خاتون پر اس سے اچھا اثر پڑے گا۔ موجودہ دور میں جو لوگ غیر مسلم ممالک میں جا کر وہاں ان کی لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں، دیکھا گیا ہے کہ بالعموم وہ اپنے دین اور ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں، اس وجہ سے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

نکاح ڈیکلریشین ہی کا نام ہے جو کم از کم دو گواہوں کے سامنے ہو۔ یہ اس بات کا ڈیکلریشن ہے کہ لڑکا لڑکی اب میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کریں گے۔ اس کی صورت ایجاب و قبول ہے اور یہی نکاح ہے۔ شاید آپ کے ذہن میں خطبہ نکاح کا تصور ہے جسے آپ نکاح سمجھ رہے ہیں۔ خطبہ سنت ہے مگر نکاح کا رکن نہیں ہے۔ نکاح کے ارکان صرف ایجاب و قبول، اعلان اور گواہ ہیں۔ خطبہ ایک سنت ہے کہ نکاح کے موقع پر وعظ و نصیحت کر دی جائے۔

والسلام

مبشر

اگر والدین بچوں کو مذہب اپنی مرضی سے اختیار کرنے کی اجازت دیں تو؟ بچوں کو نہ اسلام اختیار کرنے کے لیے فورس کیا جائے نہ کوئی دوسرا مذہب  تو کیا مسئلہ حل نہ ہو جائے گا؟

ڈئیر مدثر بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

ہمارا دین ہمیں تعصب نہیں سکھاتا اور نہ ہی دین کے معاملے میں کوئی جبر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی انسان خلا میں نہیں جی سکتا۔ اگر میاں بیوی دونوں ہی بچے کی تربیت کسی بھی دین کے مطابق نہ کریں گے تو پھر اس کی شخصیت میں خلا رہ جائے گا۔ اس کے بعد یا تو وہ الحاد کی طرف مائل ہو جائے گا یا پھر دین کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رہے گی۔ اس وجہ سے ہونا یہی چاہیے کہ بچے کی تربیت کسی بھی ایک دین کے مطابق کی جائے، پھر اسے یہ بھی بتا دیا جائے بڑے ہو کر اس نے خود تحقیق کر کے حق کو قبول کرنا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر باپ بچے کی تربیت اسلام کے مطابق کرنا چاہے اور ماں عیسائیت کے مطابق تو گھر میں عجیب مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ مسلم و غیر مسلم کی شادی میں یہ مسئلہ اکثر درپیش رہتا ہے اور اس کا حتمی حل ممکن نہیں ہے۔ اس وجہ سے میری رائے میں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

قرآن مجید نے بھی اہل کتاب کی خواتین سے شادی کی اجازت جس سیاق و سباق میں دی ہے، وہ یہ تھا کہ جزیرہ نما عرب میں اسلام غالب ہو چکا تھا اور اہل کتاب مغلوب۔ ایسے میں اگر ان کی کسی خاتون سے شادی کی جاتی تو اس کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا کہ ان کے ہاں کوئی جھگڑا پیدا ہوتا یا پھر بچہ الحاد کا شکار ہو جاتا۔  یہ اجازت سورۃ المائدہ میں عین اس مقام پر دی گئی ہے جب اسلام کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس میں بھی شرط یہ رکھ دی گئی ہے کہ ان اہل کتاب کی خواتین سے شادی کرتے وقت مسلمان کو احسن انداز میں نکاح کا معاملہ کرنا چاہیے نہ کہ چوری چھپے آشنائی کا اور مسلمانوں کو اس بات کی تنبیہ بھی کر دی گئی ہے کہ ان خواتین سے شادی کرتے وقت اپنے ایمان کے معاملے پر انہیں کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے۔

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمْ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِينَ.

"آج کے دن تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں اور اہل کتاب کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے۔ تمہارے لیے ان کا کھانا حلال ہے جیسے ان کے لیے تمہارا۔ اور تمہارے لیے اہل ایمان اور تم سے پہلے اہل کتاب کی پاکیزہ خواتین (سے شادی کو حلال کر دیا گیا ہے) بشرطیکہ تم انہیں ان کے مہر ادا کرو، پاکیزہ طریقے سے حصار نکاح میں لاتے ہوئے نہ کہ  بے محابا شہوت پرستی یا چوری چھپے آشنائی کرتے ہوئے۔ جو ایمان کے بعد کفر کرے تو اللہ اس کے اعمال کو ضائع کر دے گا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہو گا۔" (المائدہ 5:5)

امید ہے کہ اس سے بات واضح ہو جائے گی۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter