بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی تعظیم

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

ان احادیث کی تحقیق کر دیجیے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کی تعظیم کا ذکر ہے۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی ٹوپی میں موئے مبارک سیے ہوئے تھے اور جب وہ ٹوپی میدان جنگ میں گم ہو گئی تو وہ جنگ چھوڑ کر اسے ڈھونڈنے لگے۔

خلیل احمد

دمام، سعودی عرب

فروری 2011

ڈئیر خلیل بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہ احادیث بخاری و مسلم نے روایت کی ہیں اور ان کی سند کے بارے میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک یا استعمال کی کوئی بھی چیز مل جائیں تو وہ ان سے محبت و عقیدت ہی کا سلوک کرے گا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بکثرت ایسی احادیث ثابت ہیں جن میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات کی تعظیم کرتے تھے۔

ہاں ان اشیاء کے بارے میں یہ نقطہ نظر رکھنا غلط ہے کہ ان اشیاء سے کوئی طلسماتی قسم کے اثرات صادر ہوتے ہیں۔ ہمیں اس پر ایمان رکھنا چاہیے کہ قادر مطلق صرف اللہ تعالی ہے اور اگر وہ چاہے تو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی اشیاء کے ساتھ کچھ برکات وغیرہ کا نزول کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی کی ہستی کو چھوڑ کر تبرکات سے مدد طلب کرنا انسان کو شرک کی جانب لے جا سکتا ہے۔

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے جنگ میں اس ٹوپی کو ساتھ رکھنے کی توجیہ یہ کی جا سکتی ہے کہ وہ اس میں ایک قسم کی نفسیاتی سپورٹ محسوس کرتے تھے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کو چھوڑ کر موئے مبارک پر توکل کیا کرتے تھے۔  میدان جنگ میں ان کی تلاش کی وجہ یہ تھی جو  شفاء کی روایت میں بیان ہوئی ہے کہ وہ ہرگز یہ پسند نہ کرتے تھے کہ آپ کے موئے مبارک کفار کے ہاتھ چڑھ جائیں اور وہ ان کی بے حرمتی کریں۔

 امید ہے کہ بات واضح ہو گئی ہو گی۔

 والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter