بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

غزوہ ہند سے متعلق احادیث

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلام علیکم

امید ہے کہ بخیر و عافیت سے ہونگے بھائی۔

میرا ایک سوال تھا غزوہ ہند کے بارے میں۔ یہاں کشمیر میں لوگوں نے اس کو اتنا بڑھا چڑھا کے پیش کیا ہے اب وہ صرف ہندوستان کے لوگوں دھمکیاں دیتے رہتے ہیں کہ تم انتظار کرو غزوہ ہند آنے والا ہے۔ مہربانی کر کے ان احادیث کی شرح اور صحت کے بارے میں بتائیے۔ان لوگوں نے اب اسی پر تکیہ کر رکھا ہے۔

محمد الیاس میر

سری نگر، کشمیر

اپریل 2011

محترم الیاس صاحب

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

 کیا احوال ہیں؟ بڑے دن بعد رابطہ ہوا۔ غزوہ ہند کی روایت مسند احمد اور نسائی میں مختلف اسناد کے ساتھ آئی ہے۔ بعض اسناد ضعیف اور بعض صحیح ہیں۔ اس کا اطلاق جو لوگ خود پر کر رہے ہیں، وہ اس وجہ سے غلطی پر ہیں کہ دین اسلام میں جہاد کی اجازت صرف اور صرف حکومت کو ہے۔ پرائیویٹ تنظیموں کو جہاد کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے نقصانات پر میں نے ایک تفصیلی آرٹیکل لکھا تھا جو کہ آپ اس لنک پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں:

  http://www.mubashirnazir.org/QA/000200/Q0122-Terrorism.htm

 http://www.mubashirnazir.org/QA/000200/Q0125-Jehad-vs-Terrorism.htm

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے احادیث کو استعمال کر لیتے ہیں۔ یہ ایک غلط طرز عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا اطلاق صرف انہی پر کیا جا سکتا ہے جو دین کے اصولوں کے مطابق جہاد کر رہے ہوں نہ کہ محض غلبے اور اقتدار کے لیے لڑ رہے ہوں۔ میرے نزدیک اس حدیث کا صحیح مصداق وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں مکران کے علاقے میں کچھ فوجی کاروائی کی۔

 والسلام

مبشر

آپ کا بہت شکریہ لیکن ایک سوال کھٹکتا ہے کہ ان احادیث میں ذکر ہے کہ یہ لشکر عیسی ابن مریم علیہ السلام تو آپ کا کہنا کہ یہ صحابہ کی جماعت ہے۔ ان دونوں میں تطبیق کیسے دی جا سکتی ہے۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

 یہ مشکل حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت سے حل ہو جاتی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

 أخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الرحيم قال حدثنا أسد بن موسى قال حدثنا بقية قال حدثني أبو بكر الزبيدي عن أخيه محمد بن الوليد عن لقمان بن عامر عن عبد الأعلى بن عدي البهراني عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم عليهما السلام. صحيح. نسائی 3175

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے: ایک وہ گروہ جو ہند میں جہاد کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو عیسی بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا۔

 اس حدیث سے واضح ہے کہ یہ دونوں گروہ الگ الگ ہیں: ایک ہندوستان میں جہاد کرنے والا اور دوسرا حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والا۔

 سنن نسائی میں اس حدیث سے پہلے ایک ضعیف حدیث ہے جس میں ہے:

 حدثني محمد بن إسماعيل بن إبراهيم قال حدثنا يزيد قال أنبأنا هشيم قال حدثنا سيار أبو الحكم عن جبر بن عبيدة عن أبي هريرة قال Y وعدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة الهند فإن أدركتها أنفق فيها نفسي ومالي وإن قتلت كنت أفضل الشهداء وإن رجعت فأنا أبو هريرة المحرر. ضعيف الإسناد. نسائی 3174

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرمایا۔ اگر میں اسے پا لوں گا تو اس میں اپنی جان و مال خرچ کروں گا، اگر قتل ہو گیا تو افضل الشہداء میں سے ہوں گا اور اگر واپس آ گیا تو میں آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔

یہ قول اگرچہ ضعیف سند سے روایت ہوا ہے مگر اس کی متعدد اسناد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غزوہ ہند کے مستقبل قریب میں متوقع سمجھ رہے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس زمانے میں ہندوستان عرب سے بہت دور تھا اور یہاں جہاد کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔  یہ بشارت ہندوستان کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ایسی ہی بشارت ان لوگوں کے لیے بھی دی گئی جو قسطنطنیہ جہاد کے لیے گئے یا جنہوں نے بحری جہاد میں حصہ لیا۔

 عین ممکن ہے کہ اس بشارت کے حقدار وہ لوگ بھی ہوں جو واقعتاً دینی مقاصد اور شرعی حدود کے تحت مستقبل میں کبھی جہاد کریں البتہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے حدیث کو استعمال کرنے والے اس حدیث کا مصداق نہیں ہو سکتے ہیں۔

 اہل کشمیر اگر ہندوستان سے علیحدہ ہونا چاہیں تو یہ ان کا سیاسی اور جمہوری حق ہے مگر اس کے لیے قرآن و حدیث کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی عزائم کے لیے پر امن جدوجہد کریں کہ اسی سے ان کی جدوجہد میں کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے۔ باقی لڑ جھگڑ کر تو کشمیریوں نے بھی دیکھ لیا، سری لنکا کے تاملوں نے بھی اور پاکستان کے بلوچوں نے بھی کہ اس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکتا بلکہ الٹا اپنا معاشرہ ہی تباہی کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔

والسلام

مبشر

جی بھائی آپ ذرااس ویب ساءٹ پر  دی گئی پانچ حدیثوں میں تیسری حدیث دیکھے اور اس کو دوسری حدیثوں کے ساتھ کیسے تطبیق دی جائے گی۔۔۔۔۔۔

http://www.ghazwatulhind.com/urdu.htm

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

ان احادیث میں سے چار تو ضعیف ہیں۔ حدیث نمبر ۲ وہی سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں محض دو گروہوں کا ذکر ہے۔ تیسری حدیث کی سند میں کوئی صاحب نامعلوم ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ اس وجہ سے یہ بھی ایک ضعیف حدیث ہے جس کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے تطبیق دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث یہ ہے:

أخبرنا يحيى بن يحيى أنا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو السكسكي عن شيخ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما الهند فقال ليغزون جيش لكم الهند فيفتح الله عليهم حتى يأتوا بملوك السند مغلغلين في السلاسل فيغفر الله لهم ذنوبهم فينصرفون حين ينصرفون فيجدون المسيح بن مريم بالشام قال أبو هريرة رضي الله عنه فإن أنا أدركت تلك الغزوة بعت كل طارد وتالد لي وغزوتها فإذا فتح الله علينا انصرفنا فأنا أبو هريرة المحرر يقدم الشام فيلقى المسيح بن مريم فلأحرصن أن أدنوا منه (نمبر 462)

ایک نامعلوم بزرگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہندوستان کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ ایک لشکر ہندوستان میں جہاد کرے گا اور اللہ انہیں فتح عطا فرمائے گا یہاں تک کہ ، سندھ کے بادشاہوں کو وہ زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے۔ اللہ ان کے گناہ معاف فرما دے گا، پھر وہ پلٹیں گے تو شام میں حضرت عیسی علیہ السلام کو پائیں گے۔  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میں اس وقت ہوا تو اپنا سب کچھ بیچ کر اس میں شریک ہوں گا۔ اگر اللہ نے ہمیں فتح دی اور ہم واپس آئے تو میں آزاد ابوہریرہ ہو کر شام آؤں گا۔ میں سب سے زیادہ لالچی ہوں کہ وہاں حضرت عیسی بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام سے ملوں۔

اب اس حدیث کی سند میں وہ نامعلوم بزرگ کون ہیں اور کس حد تک لائق اعتبار ہیں، ہم نہیں جانتے۔  اس وجہ سے سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے۔

درایت کے پہلو سے بھی دیکھیے کہ اس روایت کی رو سے جنگ تو ہندوستان سے ہو رہی ہے اور بادشاہ سندھ کے قید کر کے لائے جا رہے ہیں۔ عہد رسالت میں سندھ، ہندوستان کا حصہ تھا اور موجودہ پاکستان  کا تقریباً پورا علاقہ سندھ ہی کہلاتاتھا۔ اس اعتبار سے حدیث کا تعلق اس زمانے سے معلوم ہوتا ہے جب پاکستان اور ہندوستان ایک ہی ملک ہوں ۔  یہ کم از کم موجودہ دور تو نہیں ہو سکتا کہ جنگ ہندوستان میں ہو، اور مسلم فوجیں پاکستان یا سندھ کے کسی بادشاہ کو قید کر کے شام لے جائیں۔  شاید حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت دونوں ایک ہی ملک ہوں۔  اس حدیث کو مان بھی لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے کچھ پہلے اہل ہند کے ساتھ جنگ ہو گی جس میں سندھ کے حکمران قید ہوں گے۔  

اس کا کوئی تعلق ان حضرات سے نہیں ہے جو کہ  اپنی سیاسی لڑائیوں کے لیے حدیث کو استعمال کر رہے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ایسا کر کے وہ اسلام کی دعوت کو کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ برصغیر کی بہت بڑی ہندو آبادی ہمارے لیے "دعوت دین کے مخاطب" کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں ان کے سامنے احسن انداز میں خلوص اور محبت کے ساتھ اللہ تعالی کے دین کی دعوت رکھنی چاہیے۔ نفرت کے جواب میں نفرت ہی ملے گی اور ہمارے یہ پڑوسی اللہ تعالی کے دین سے دور ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ روز قیامت یہ ہمارا گریبان پکڑ کر اللہ تعالی کے سامنے فریاد کریں کہ یا اللہ! ان لوگوں نے  تیرے دین کی ایسی تصویر ہمارے سامنے پیش کی تھی کہ  ہم اسے  قبول نہ کر سکے۔ اس وقت ہم کیا جواب دیں گے؟ اس تصور سے ہی میری روح لرز جاتی ہے۔

لیکن بہرحال یہ ماننا یا نہ ماننا ایک Subjective چیز ہے جس میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔  جو لوگ مجھ سے مختلف رائے رکھتے ہیں، میں ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ان سے اختلاف رائے کی جسارت کرتا ہوں۔ میں نے بھی پہلی حدیث کی بنیاد پر بھی محض ایک رائے کا اظہار کیا تھا۔ اللہ تعالی ہی  بہتر جانتا ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter