بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

ہیجڑوں کے ساتھ ہمارا رویہ

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم بھائی

اللہ سے امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ کچھ سوالات ہیں؟

جواب کا منتظر

محمد علی

حیدر آباد، انڈیا

اپریل 2011

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

کچھ تاخیر ہو گئی جس کے لیے معذرت۔ جوابات یہ ہیں:

سوال: قطب اور ابدال سے کیا مراد ہے؟

جواب:  قطب اور ابدال اہل تصوف کی اصطلاحات ہیں۔ ان کے ہاں تصور یہ ہے کہ اللہ تعالی فرشتوں کےعلاوہ بعض انسانوں کو بھی تکوینی (کائناتی) امور کی انجام دہی پر مقرر فرماتا ہے۔ ان لوگوں کی پوری ایک تنظیم (Hierarchy) ہوتی ہے جس میں مختلف درجے ہوتے ہیں۔ قطب کا درجہ ابدال سے بلند سمجھا جاتا ہے اور غوث کا قطب سے۔ اس تصور کی بہرحال کوئی بنیاد قرآن و سنت میں نہیں ہے۔

 

سوال: جنت میں مردوں کے لیے ستر، اسی حوریں ہوں گی، عورتوں کے لیے کیا ہو گا؟

جواب:  قرآن مجید میں مرد و خواتین سے پاکیزہ ساتھیوں کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اس وجہ سے یہی کافی ہے۔ حور سے مراد جنتی خواتین ہیں۔ بعض روایات کی بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے جو آپ نے کیا ہے۔ خواتین جنت میں بہت اعلی اور آزاد مقام کی حامل ہوں گی جو کہ ایک بہت بڑا مرتبہ ہو گا۔ اس سے زیادہ تفصیلات کا ہمیں علم  نہیں ہے اور اس بحث میں پڑنا بھی نہیں چاہیے۔ قرآن مجید نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مرد ہوں یا خواتین، انہیں ایسا اعلی مقام اور مرتبہ ملے گا جس کا انہوں نے تصور بھی نہ کیا ہو گا اور جنت میں غم اور دکھ نام کی کوئی چیز نہ ہو گی۔ یہی امید مردوں کو رکھنی چاہیے اور یہی ہماری بہنوں کو بھی۔

 

سوال: اللہ تعالی نے ہر جاندار کا جوڑا بنایا ہے، پھر ہیجڑے کیا ہوتے ہیں؟

جواب:   ہر قانون میں ہمیشہ استثنا ہوتا ہے۔ ہر جاندار کا جوڑا ہے، ایک عمومی اصول ہے اور ہیجڑے اس اصول میں ایک استثنا ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں اور ہمارے جیسے انسان ہی ہوتے ہیں۔ تقریباً تمام ہیجڑے یا تو اصلاً مرد ہوتے ہیں یا عورت بس کچھ ہارمونز کی کمی کی وجہ سے ان کے جنسی اعضا نامکمل رہ جاتے ہیں۔ "خنثی مشکل" ایک فرضی مخلوق ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرد اور عورت کے عین درمیان میں ہوتا ہے۔ حقیقی زندگی میں ہیجڑے بھی مرد یا عورت ہوتے ہیں ۔ دنیا کے اکثر ممالک میں یہ نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ صرف ہمارے ہاں ہندوستان یا پاکستان میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جس کی بدولت یہ معاشرے سے کٹ جاتے ہیں اور بسا اوقات گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ہمیں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر ان کے ہاں کوئی بچہ ایسا پیدا ہو جائے تو اسے نارمل انداز میں ٹریٹ کریں اور اسے وہی پیار دیں جو کہ کسی بھی عام بچے کو ملتا ہے۔ اس کی دل شکنی نہ کریں اور  اس کا مذاق نہ اڑائیں۔  اگر وہ ایسا کریں گے اور ان کے اس جرم کی بدولت ایک ہیجڑہ، گناہ کی زندگی بسر کرے گا تو اس کا گناہ ان لوگوں پر بھی ہو گا جنہوں نے اس کی دل شکنی کر کے اور اس کا مذاق اڑا کر اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ پھر ہم اللہ تعالی کے سامنے کیا جواب دیں گے؟

 

سوال: خراسان سے کالے جھنڈے والا ایک لشکر امام مہدی کے ساتھ  آئے گا؟ یہ روایت کیا ضعیف ہے؟

جواب:  خراسان سے کالے جھنڈوں والی روایات زیادہ تر ضعیف یا موضوع ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عباسیوں نے جب امویوں کے خلاف بغاوت کی تو لوگوں کو ساتھ ملانے کے لیے انہوں نے یہ روایتیں وضع کیں کیونکہ سیاہ عمامہ اور جھنڈا ان کا شعار تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے:

http://www.dorar.net/enc/hadith?skeys=%D8%B1%D8%A7%D9%8A%D8%A7%D8%AA+%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%88%D8%AF+&op=%D8%A8%D8%AD%D8%AB&xclude=&degree_cat0=1

 

سوال: کیا غزوہ ہند میں شرکت کرنے والے کا درجہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ سکتا ہے؟

جواب: کوئی بھی شخص درجے میں کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نہیں بڑھ سکتا۔ غزوہ ہند کے فضائل میں جو روایات ہیں، ویسی ہی روایات قسطنطنیہ اور بحری جنگوں سے متعلق بھی ہیں۔ میری تحقیق یہ ہے کہ ان روایات کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہیں۔ اس موضوع پر ایک اور دوست نے سوال کیا تھا جو کہ اس لنک پر دستیاب ہے:

http://www.mubashirnazir.org/QA/000300/Q0227-Ghazwa.htm

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter