بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

مستقبل کے واقعے کا فعل ماضی میں بیان

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلام علیکم مبشر بھائی،

میرا یہ سوال قرآن پاک کے متعلق ہے۔ کافی دنوں سے سوچ رہا تھا۔ اس متعلق لیکن مجھ کوئی مناسب جواب بن نہیں پایا۔ سوال اصل میں قرآن پاک کو پڑھتے ہوئے ذہن میں پیدا ہوا۔ کہ جب قیامت کے بعد کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ جب جنت دوزخ یا پھر ان کے مقیموں کا تذکرہ ہورہا  ہوتا ہے تو یہ ذکر زمانہ حال  یا ماضی میں ہوتا ہے بجائےاسکہ کہ زمانہ مستقبل کا استمال کیا جائے۔ جنتیوں اور دوزخیوں کی اس طرح تصویر کشی ہوتی ہے کہ یہ موجودہ ذمانہ میں وقوع پذیر ہے۔جبکہ قیامت ابھی آنی ہے۔ اور یہ سب کچھ بعد میں ہوگا۔

اب مجھے شاید اردو ترجمے پڑھنے کی وجہ سے ایسالگا ہےکیونکہ ابھی تک تو میں ڈارٔیکٹ عربی تو نہیں پڑھ سکتا۔ یا پھر یہ قرآن کا اسلوبٔ ہو سکتا ہے۔ لیکن مجھے اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔ آپ اگر اس کے متعلق سمجھادیں تو؟

 والسلام

محمد جاوید ختر

جولائی 2011

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

یہ تفصیل آپ قرآنی عربی پروگرام کے لیول 5  کی ٹیکسٹ بک میں پڑھیں گے۔ عربی میں یہ اسلوب عام ہے کہ جب مستقبل کی کوئی بات قطعی اور یقینی ہو تو اس کی قطعیت کو بیان کرنے کے لیے ماضی یا حال کا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ عربی میں یہ کہنا کہ "قیامت برپا ہو گئی" کا مطلب یہ ہو گا کہ مستقبل میں قیامت کا ہونا بالکل قطعی اور یقینی ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے انگریزی میں مستقبل کی یقینی بات کے لیے حال کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ I am going to school tomorrow۔

دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی اس سے ملتے جلتے اسالیب موجود ہیں۔ مستقبل کے واقعے کو ماضی یا حال میں بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعہ اتنا قطعی اور یقینی ہے کہ گویا کہ وہ واقعہ حقیقت بن چکا ہے۔ اس سے جملے میں ایک قسم کا زور (Stress) پیدا ہو جاتا ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter