بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا دین کا تقاضا ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مکرمی مبشر نذیر صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے

آج ہی آپ کا ایک مضمون "شادی اور عورت" کے عنوان سے نظر سے گزرا، پڑھنے کے بعد ایک سوال ذہن میں آیا سوچا آپ سے پوچھ لیا جائے ۔ آپ نے لکھا کہ یہ خاتون اگر شادی کے بعد اپنے شوہر سے علیحدہ گھر کا مطالبہ کرے تو معاشرے میں خاتون کی اس بات کو معیوب بات سمجھا جاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو ہر حال میں علیحدہ گھر دینا لازمی ہے؟ کیا اسلامی تعلیمات میں ایسا کوئی واضح حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک سے زائد شادیاں کیں۔ کیا ہر زوجہ کو علیحدہ گھر دیا گیا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک سے زائد شادیاں کیں ۔ ان کی کیا ترتیب تھی ۔۔ کیا ہر بیوی کے لیے علیحدہ گھر کا انتطام  ہوا کرتا تھا؟اگر کچھ مستند اور واضح مثالیں مل جائیں تو میرے لیے باعث تسلی و تشفی ہو گا۔

میرے ذہن میں یہ سوالات مشترکہ خاندانی نظام اور علیحدہ گھر کے تناظر میں آئے ہیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس موضوع پر جو معلومات ہو وہ مستند اور واضح ہو تا کہ اگر کسی کو بتائی جائے تو پورے اعتماد کے ساتھ بتائی جائے اور اسلام کا معاشرتی و خاندانی نظام سمجھایا جا سکے۔

و السلام علیکم

راجہ اکرام الحق

اسلام آباد، پاکستان

نومبر 2011

ڈئیر راجہ صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالی کا شکر ہے۔ آپ سنائیے کیا احوال ہیں؟ اگر اپنا تفصیلی تعارف کروا دیجیے تو نوازش ہو گی۔

یہ مضمون میرا نہیں بلکہ ایک د وست ریحان صاحب کا ہے۔ عہد رسالت کے عرب معاشرے میں یہ عام رواج تھا کہ شادی کے بعد لوگ الگ گھر میں رہتے تھے۔ تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے الگ الگ گھر تھے جو چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل تھے۔ موجودہ دور میں ان سب کو روضہ انور کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی معاملہ تھا۔

قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں ایسا حکم نہیں ملتا ہے کہ ہر بیوی کے لیے علیحدہ گھر ہونا ضروری ہے۔ بس بیوی کی تمام ضروریات پورا کرنے کا حکم ہے۔ علیحدہ گھر کا تعلق معاشرت سے ہے۔ عرب معاشروں میں آج بھی رواج ہے کہ علیحدہ گھر لیے بغیر شادی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ برصغیر کے معاشرے میں جائنٹ فیملی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں میاں بیوی باہمی مشورے سے طے کر سکتے ہیں کہ انہیں کس طرح رہنا ہے۔ شریعت نے یہ پابندی نہیں لگائی کہ الگ گھر لے کر دینا ہے یا مشترک خاندان ہی میں رہنا ہے۔ اس کا فیصلہ حالات کے لحاظ سے لوگوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔

جہاں تک میں نے اس نظام کا مطالعہ کیا ہے تو جائنٹ فیملی میں فوائد کی نسبت مسائل زیادہ ہیں اور لڑائی جھگڑے زیادہ ہوتے ہیں۔ ساس بہو اور نند بھابی کی جنگیں عام ہیں جبکہ عرب معاشروں میں ایسا بہت کم ہے۔ ان کے ہاں اچھے لوگ والدین کو اپنے قریب (ہو سکے تو ایک ہی بلڈنگ میں) الگ گھر لے دیتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔

اگر ہمارے ہاں بھی والدین شادی ہوتے ہی بیٹے اور بہو کو الگ کر دیں جہاں وہ اپنی مرضی سے زندگی بسر کر سکیں تو باہمی جھگڑے بہت کم ہو سکتے ہیں۔

والسلام

مبشر

My opinion is that this also should be added into the answer that it is upon the couple that either they prefer to live in a joint family or not but Islam has given a right to married women that she should at least have her own room, which should be under her custody; rest of facilities can vary according to their financial conditions.

Abdul Rauf, Dubai, UAE

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter