بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا صحابہ کرام کے القاب یا کنیت پر نام رکھنا درست ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔  آپ سے ایک سوال ہے۔ آج کل مسلمانوں کے جو نام رکھے جاتے ہیں، وہ اس طرح ہوتے ہیں: ابوبکر، حیدر، فاروق، غلام مصطفی۔ صوبہ پختونخواہ میں حضرت عمر، حضرت علی تک نام رکھ لیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ابوبکر تو ٹائٹل تھا جو خاص وجہ سے رکھا گیا تھا۔ ان کے پاس بکریاں وغیرہ تھیں، اس وجہ سے۔ اسی طرح حیدر کا لقب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا۔ اب یہ لقب اور ٹائٹل کوئی اور بطور نام استعمال کر سکتا ہے  یا ان لوگوں کے لیے خاص کیا گیا تھا؟ اور آج غلام علی، غلام مصطفی نام رکھنا ٹھیک ہے؟

عاصم

کراچی ، پاکستان

نومبر 2011

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا احوال ہیں؟

ّآپ کا سوال دلچسپ ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام کا نعوذ باللہ بکریوں سے کوئی تعلق نہیں۔ بکر ایک عام نام ہے جو عربوں میں استعمال ہوتا ہے اور عربی میں بکریوں کو غنم کہتے ہیں۔ آپ کا نام لقب نہیں بلکہ کنیت ہے جس کا معنی ہے "بکر کا والد۔" عربوں کے ہاں کنیت کا عام رواج اب تک ہے جیسے ابو محمد، ابن زبیر وغیرہ۔ یہ لوگ کنیت کو اولاد سے ہٹ کر بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بلیوں وغیرہ کو  پالتے تھے تو ان کا نام ابوہریرہ پڑ گیا۔

اسی طرح فاروق، حیدر وغیرہم القاب ہیں لیکن یہ نام کے طور پر بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ دین نے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ ہاں اگر نام میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت ہو تو پھر ایسا نام منع ہے جیسے عبد العزی کا مطلب ہے عزی دیوی کا بندہ۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مشرکانہ نام تبدیل کر دیتے تھے۔

غلام مصطفی یا غلام علی وغیرہ میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہیں ہے۔ یہ نام محض بطور عقیدت رکھے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ مصطفی کا غلام یا علی کا غلام۔

والسلام

مبشر

اور حضرت علی، حضرت عمر نام رکھنا کیسا ہے۔ پاکستان میں پٹھان لوگ اس طرح نام رکھتے ہیں؟

عرب میں اپنے باپ یا بیٹے سے لوگ صرف بلاتے تھے۔ ہمارے ہاں یہ نام رکھ لیے گئے ہیں۔ اصل نام تو ان کے کچھ اور ہوتے تھے۔ ہم نے کنیت کو پکار کر نام رکھنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا کیوں؟ یہ لاعلمی نہیں؟  اگر ہم ابوبکر یا ابوہریرہ نام رکھ لیں تو ان کا کوئی مطلب نہیں نکلتا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نام کا اچھا مطلب ہونا چاہیے۔ اور اگر صحابہ کی نسبت سے نام رکھنے ہوں تو کیا ان کے اصل نام نہیں رکھنے چاہییں؟

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہ کوئی دینی مسئلہ نہیں ہے۔ اردو میں لفظ 'حضرت' محض ادب و احترام کے لیے بطور پروٹو کول لگاتے ہیں۔ ہر علاقے کا کلچر الگ ہوتا ہے۔ پٹھان لوگ اگر حضرت عمر یا حضرت علی نام رکھ لیں تو اس سے دینی اعتبار سے کوئی قباحت نہیں کیونکہ دین میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ ان سب امور کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اس معاشرے کے رواج (عرف و عادت) کا اعتبار کیا جائے گا۔ اب اگر پشتون کلچر میں حضرت علی یا حضرت عمر نام رکھنے کو ادب کے منافی سمجھا نہیں جاتا ہے تو پھر ہمیں بھی اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟

ابوبکر یا ابوہریرہ کا لفظی مطلب تو متعلق نہیں ہے لیکن ایسا نام رکھنے پر ان ہستیوں سے عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ ایک اچھی بات ہے۔ اس لیے کہ اس طرح ہم لوگ اپنے بچوں کے نام ان جلیل القدر صحابہ کے ناموں پر رکھ کر ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ ان کے اصل ناموں پر نام رکھے جائیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ چونکہ یہ صحابہ اپنی کنیت سے مشہور ہو گئے ، اس وجہ سے لوگ ان کی مشہور کنیت  پر نام رکھ لیتے ہیں۔ شرعی اعتبار سے دونوں طرح ٹھیک ہے  اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter