بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا چاند اور سورج گرہن کی نماز کا طریقہ مختلف ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ڈیئر مبشر بھائی!

اسلام علیکم!

ایک سوال آپ سے پوچھنا تھا وہ یہ ابھی اس وقت  چاند گرہن  ہوا ہے۔ ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب نے مغرب کی نماز کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ کچھ دیر کے بعد چاند گرہن کی سنت نماز کروائیں گے۔  میں بھی اس میں شامل ہوا ہوں۔ لیکں ایک چیز سمجھ نہیں آئی نماز کا طریقہ۔ وہ یہ کہ انہوں نے تکبیرتحریمہ کے بعد الحمد کی تلاوت اور ساتھ میں قرآن سے سورہ فجر کی تلاوت کی اور اس کے بعد رکوع اور پھر رکوع سے جب واپس قیام کیا تو وہاں سے سجدہ میں نہیں گئے بلکہ دوبارہ سے الحمد اور پھر قرآن پاک کی تلاوت اور پھر رکوع اور اب کے سجدہ میں گئے۔

دوسرے رکعت بھی اسی طرح تھی یعنی دو دفعہ رکوع والی۔

آپ سے گزارش ہے کہ اس کی وضاحت فرما دیں اور چاند گرہن کیا اہمیت اور اس موقع پر سنت نماز کے مقاصد پر اگر کچھ بتا دیں تو۔

والسلام

محمد جاوید اختر

دوحہ، قطر

دسمبر 2011

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

چاند اور سورج گرہن چونکہ ایک غیر معمولی کیفیت ہے، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تزکیہ کا ذریعہ بنایا ہے اور اس پر غیر معمولی انداز میں نماز پڑھی ہے تاکہ لوگوں میں خوف خدا پیدا ہو۔  یہ آپ کا انداز تربیت تھا کہ غیر معمولی واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی امت کی تربیت فرمایا کرتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری، کتاب الکسوف۔ مکتبہ مشکاۃ والے ورژن میں احادیث 993 سے شروع ہوتی ہیں۔ یہاں بعض احادیث درج کر رہا ہوں۔

حدثنا عمرو بن عون قال: حدثنا خالد، عن يونس، عن الحسن، عن أبي بكرة قال:  كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانكسفت الشمس، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يجر رداءه حتى دخل المسجد، فدخلنا، فصلى بنا ركعتان حتى انجلت الشمس، فقال صلى الله عليه وسلم: (إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد، فإذا رأيتموهما فصلوا وادعوا، حتى يكشف ما بكم).

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو سورج کو گرہن لگا۔  آپ اپنی چادر کھینچتے ہوئے  تشریف لے چلے اور مسجد میں داخل ہو گئے۔ ہم بھی مسجد میں داخل ہوئے ۔ آپ نے ہمارے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ گرہن ختم ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: "سورج اور چاند کو گرہن کسی شخص کی موت پر نہیں لگتا۔ جب آپ لوگ ان دونوں کو اس حالت میں دیکھیں تو نماز پڑھیں اور دعا کیجیے یہاں تک کہ ان کی ر وشنی پلٹ آئے۔" (حدیث 994)

حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت:  خسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس، فقام فأطال القيام، ثم ركع فأطال الركوع، ثم قام فأطال القيام، وهو دون القيام الأول، ثم ركع فأطال الركوع، وهو دون الركوع الأول، ثم سجد فأطال السجود، ثم فعل في الركعة الثانية مثل ما فعل في الأولى، ثم انصرف، وقد انجلت الشمس، فخطب الناس، فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: (إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله، لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته، فإذا رأيتم ذلك فادعوا الله، وكبروا وصلوا وتصدقوا). ثم قال: (يا أمة محمد، والله ما من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته يا أمة محمد والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا).

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں طویل قیام کیا۔ پھر ایک طویل رکوع کیا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور اس میں ایک طویل قیام کیا جو کہ پہلے قیام کے علاوہ تھا۔ پھر آپ نے ایک طویل رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع کے علاوہ تھا۔ پھر آپ نے ایک طویل سجدہ کیا۔ اس کے بعد آپ نے پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا فرمائی۔  پھر آپ نے رخ انور (لوگوں کی طرف) کیا تو اس وقت سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: "سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔  ان دونوں کو کسی شخص کی موت یا زندگی سے گرہن  نہیں لگتا۔ جب آپ لوگ ایسا دیکھیں تو اللہ سے دعا کیا کریں، تکبیر کہا کریں ، نماز پڑھا کریں، صدقہ کیا کریں۔" پھر فرمایا: "اے امت محمد! اللہ کی قسم کہ اللہ سے زیادہ بڑھ کر کسی اور شخص کو اس بات پر غیرت نہیں آتی کہ اس کا بندہ یا بندی بدکاری کا ارتکاب کرے ۔ اے امت محمد! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر آپ لوگ جانتے ہوتے تو بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔" (حدیث 997)

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter