بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

توبہ کے بعد حرام مال کا کیا کیا جائے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

ہمارے ایک جاننے والے صاحب نے ایک کاروبار کیا جس میں حلال اور حرام پیسہ لگایا۔ حرام پیسہ سود کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔  انہوں نے اس حرام پیسے سے گھر کا سامان وغیرہ بھی خریدا۔ اس کے بعد بزنس میں نقصان ہو گیا اور اسے بند کرنا پڑا۔ اب وہ صاحب اللہ کی طرف مائل ہو گئے ہیں اور انہوں نے توبہ کر لی ہے۔ ان کے حالات اب ٹھیک ہو رہے ہیں اور انہیں یہ فکر ہے کہ گھر کے سامان کا کیا کریں؟کیا اس حرام مال کا کوئی فدیہ وغیرہ ادا کرنا ہو گا۔ ابھی ان کی مالی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔  شریعت کے مطابق جواب دیجیے۔

عاصم

کراچی، پاکستان

جنوری 2012

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے تو آپ کو ان صاحب کو توبہ کی مبارکباد دینی چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ اس راہ پر استقامت سے جمے رہیں۔ پھر انہیں بتائیے کہ اللہ تعالی نے دین کو بہت آسان بنایا ہے اور اللہ تعالی ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔ موجودہ حالات میں ان کے لیے مناسب لائحہ عمل یہ ہے:

1۔ سب سے پہلے تو وہ حساب لگائیں کہ انہوں نے سود کی مد میں کس سے کتنے پیسے وصول کیے تھے۔ کیا وہ لوگ یا ان کے وارث زندہ ہیں؟

2۔ اس کے بعد وہ اپنی موجودہ مالی حالت کے اعتبار سے یہ دیکھیں کہ وہ ماہانہ کتنی رقم ادا کر سکتے ہیں۔ اس رقم کو وہ حق داروں تک پہنچانے کے عمل کا آغاز کر دیں۔ ان سے آغاز کریں جو خود یا ان کے وارث ابھی زندہ ہیں۔ انشاء اللہ اللہ تعالی ان کی مدد فرمائے گا اور یہ رقم جو قرض کی صورت میں ہے، اتر جائے گی۔ اس عمل میں چاہے انہیں کئی سال لگ جائیں لیکن وہ یہ کریں ضرور۔

3۔ جو لوگ یا ان کے وارث موجود نہ ہوں، ان کے معاملے میں وہ یہ کر سکتے ہیں کہ اس رقم کو ان لوگوں کی جانب سے خیرات کر دیں اور اللہ تعالی سے استغفار کرتے رہیں۔

4۔ گھر میں جو سامان وہ حرام کے مال سے خرید بیٹھے ہیں، اسے پھینکنا عقل مندی نہ ہو گی۔ اس سے بہتر ہے کہ اگر اس سامان سے وہ کسی کو ادائیگی کر سکتے ہیں تو کر دیں، ورنہ اپنی حلال کی آمدنی سے لوگوں کا قرض اتارتے رہیں۔ اللہ تعالی سے توبہ اور دعا کرتے رہیں۔ انشاء اللہ، وہ ان کی مدد ضرور فرمائے گا۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter