بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کانٹا لگا کر مچھلی کا شکار کرنا کیسا ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بہت سے لوگ تفریح طبع کے لیے مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ایک کانٹے پر کیچوا لگا کر دریا میں ڈال دیتے ہیں اور جب اس میں مچھلی پھنستی ہے تو اسے کھینچ لیتے ہیں۔ کیا یہ طریقہ ظالمانہ نہیں ہے؟

ایک بھائی

فروری 2012

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

تھوڑی دیر کے لیے تصور کیجیے کہ آپ مچھلی ہی کھا رہے ہیں اور کھانا کھاتے ہوئے آپ کے حلق میں  اس کا ایک کانٹا پھنس جاتا ہے۔ آپ کا سانس الٹ جاتا ہے اور آپ اسے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن یہ کانٹا نکل نہیں پاتا۔ آپ کا کوئی دوست ساتھ بیٹھا ہے۔ وہ آپ کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے آپ کے حلق میں دو انگلیاں ڈالتا ہے اور پھر اس کانٹے کو کھینچتا ہے۔ یہ کانٹا حلق کو چھیلتا ہوا باہر آتا ہے۔ آپ کا منہ خون سے بھر جاتا ہے اور شدید تکلیف کے ساتھ جو کچھ کھایا ہوا ہے، وہ ابکائی کے ساتھ باہر آ جاتا ہے اور کھانے کی مرچیں ہمارے زخموں پر لگتی ہیں۔ کیا یہ اذیت ہم میں سے کسی کے لیے قابل قبول ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے بھائی  یہی معاملہ اس مظلوم مچھلی کے ساتھ کرتے ہیں جو اپنی زبان سے کسی کو کچھ کہہ نہیں سکتی۔ اپنے حلق میں تو ہم مچھلی کا نرم و نازک کانٹا برداشت نہیں کر سکتے ہیں لیکن اس کے حلق میں لوہے کا سخت کانٹا پھنسا کر اسے وحشیوں کی طرح کھینچتے ہیں اور پھر وہ تڑپتی اور ریت پر گھسٹتی ہوئی  ہمارے پاس آتی ہے۔

دین اسلام نے ہر جاندار پر ظلم سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حدیث یہ ہے:

حدثني عبدالله بن محمد بن أسماء الضبعي. حدثنا جويرية بن أسماء عن نافع عن عبدالله؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "عذبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار. لا هي أطعمتها وسقتها، إذ حبستها. ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض" .

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایک عورت کو ایک بلی کے سبب سزا دی گئی۔ اس نے اس بلی کو قید کر دیا تھا جس سے وہ موت سے ہمکنار ہوئی۔ اس عورت کو  جہنم میں ڈالا گیا۔ اس نے اس بلی کو قید کیا تو نہ اسے کھانا اور پانی دیا اور  نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین پر سے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ " (مسلم، کتاب السلام، حدیث 2242)

غور فرمائیے کہ روز قیامت وہ مچھلی جب اللہ تعالی کے حضور ہم سے خود پر کیے گئے ظلم کا بدلہ طلب کرے گی تو ہم کیا جواب دیں گے؟

یہ حکم صرف مچھلی یا بلی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے دین میں تمام جانوروں اور پودوں کے حقوق متعین ہیں۔  جانور تو جانور، بلاوجہ پودوں کو کاٹنے کی ممانعت بھی کی گئی ہے۔چونکہ ہم اپنی خوراک انہی سے حاصل کرتے ہیں اور اسی پر ہماری بقا کا انحصار ہے، اس وجہ سے ہمارے لیے یہ تو جائز ہے کہ ہم خوراک کے حصول کے لیے  ان جانوروں یا پودوں کو آسان طریقے سے ماریں لیکن یہ ہرگز جائز نہیں ہے کہ ہم انہیں تکلیف دہ اور اذیت ناک موت سے ہمکنار کریں۔ جو لوگ جال لگا کر مچھلیاں پکڑتے ہیں، ان کا معاملہ درست ہے کہ اس میں مچھلی کو کوئی اضافی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک آدھ منٹ میں مر جاتی ہے، لیکن کانٹا لگا کر مچھلی پکڑنا نہایت ہی اذیت ناک طریقہ ہے۔ اسی طرح جانوروں کو ذبح کرتے وقت تیز چھری استعمال کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ انہیں کم سے کم تکلیف ہو۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter