بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

جبریہ اور قدریہ میں سے کس کا موقف درست ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

مبشر بھائی

قدریہ و جبریہ کی بحث میں حق اور راہ اعتدال کیا ہے؟

والسلام

عبدالروؤف

دبئی، متحدہ عرب امارات

فروری 2012

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

قدریہ اور جبریہ پہلی صدی ہجری کے دو مکاتب فکر تھے۔ قدریہ کا کہنا یہ تھا کہ انسان اپنے اعمال کے لیے آزاد ہے جبکہ جبریہ کا کہنا یہ تھا کہ انسان مجبور محض ہے۔ اس معاملے میں راہ اعتدال وہی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں سمجھائی کہ اپنی ٹانگ اٹھاؤ۔ اس نے اٹھا لی تو فرمایا کہ دوسری اٹھا لو۔ اب وہ اٹھا نہ سکا تو آپ نے فرمایا کہ یہی جبر و قدر کا فیصلہ ہے۔ انسان کو بعض اختیارات دیے گئے ہیں اور انہی کا حساب ہو گا اور جو چیزیں اس کے اختیارات سے باہر ہیں، ان کا حساب نہ ہو گا۔

بعض لوگ جبریہ نقطہ نظر کے حق میں قرآن مجید کی وہ آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالی ہی کے اختیار میں ہے۔ ان کے سیاق و سباق کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جبر و قدر کا نہیں بلکہ امہال اور توفیق کا قانون بیان ہوا ہے۔ جو شخص اپنی مرضی سے برائی کا راستہ اختیار کرنا چاہے، تو اللہ تعالی اسے اس کی مہلت دے دیتا ہے۔ اسی کو وہ "جسے چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) گمراہ کرتا ہے" سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی مرضی سے نیکی کا راستہ اختیار کرنا چاہے، اللہ تعالی اسے اس کی توفیق دیتا ہے۔ اس کو "جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی ہدایت اسی کو دیتا ہے جو ہدایت کے راستے پر آنا چاہیے اور اس کے لیے راہ ہموار فرما دیتا ہے۔ اسے ’’توفیق‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص گمراہی کا راستہ اختیار کرنا ہے، اللہ تعالی  اسے اس راہ پر چھوڑ دیتا ہے اور اسے پکڑ کر زبردستی نیکی کے راستے  پر نہیں چلاتا۔ اسے ’’امہال‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان آیات و احادیث میں یہی اصول بیان ہوا ہے۔

باقی رہا جبریہ کا نقطہ نظر، تو اس پر یہ اعتراض تو رہتا ہے کہ پھر ہمیں کس بات کی جزا و سزا ملے گی اگر اللہ تعالی نے ہی ہمیں اس پر مجبور کیا ہے۔ پھر تو آخرت اور جزا و سزا کا سارا عقیدہ ہی بے کار ہے۔ اگر ایسا ہی ہے جیسا وہ کہتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جزا و سزا ہمارے لیے کیوں ہے اور پتھروں اور جانوروں کے لیے کیوں نہیں؟اسی طرح قدریہ کے نقطہ نظر کو مان لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی میں بہت سے معاملات ایسے ہیں، جن میں انسان خود کو مجبور پاتا ہے۔  اس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں ہے۔ دین اسلام نے اعتدال کا راستہ سکھایا ہے اور یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا موقف ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter