بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

حق مہر کا استعمال اور مرنے سے پہلے وراثت کی تقسیم

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلام و علیکم

ان سوالات کے جواب درکار ہیں:

۱۔ کیا بیوی مہر کی رقم کو اپنی خوشی سے گھر یا کار وغیرہ پر لگا سکتی ہے؟

۲۔  ایک ماں نے اپنے مکان کو چوبیس لاکھ میں بیچا ہے اور اب وہ اسے شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہ رہی ہیں۔ ان کے چھ بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں، ہر ایک کا حصہ کیا ہو گا؟

والسلام

عاصم اشرف

کراچی، پاکستان

فروری 2012

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عاصم بھائی

کیا احوال ہیں؟ جوابات یہ ہین:

۱۔ بیوی اپنے حق مہر کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کرے، چاہے گھر میں یا کسی اور چیز میں۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ شوہر یا اس کے اہل خانہ بالعموم خواتین کو نفسیاتی ہتھکنڈوں سے مجبور کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی خوشی سے خرچ کر رہی ہے۔ اس میں بالعموم پیار محبت سے نفسیاتی دباؤ ڈال کر یا روٹھ جانے کی ایکٹنگ کر کے ایسا کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل جائز نہیں ہے۔ اپنی خوشی یا مرضی وہ ہے جو ہر اعتبار سے آزادانہ ہو اور خاتون کو کسی کے ناراض ہونے کا ڈر نہ ہو۔

۲۔ ترکے والے سوال میں ایک مسئلہ ہے۔ خاتون ابھی زندہ ہیں اور وراثت کے قوانین کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص فوت ہو جائے۔ مکان اگر ان کی ملکیت ہے تو وہ جسے جتنا چاہے دیں، اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں انہیں اپنی اولاد میں انصاف کرنا چاہیے۔ یہ وراثت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کی دی ہوئی رقم محض تحفہ ہی ہو گی۔

اگر وہ یہ تحفہ قانون وراثت کے حصوں کی بنیاد پر دینا چاہیں تو بھی ان کی مرخی ہے۔ اسے اس طرح تقسیم کر لیں کہ کل رقم کو 19 پر تقسیم کر لیں۔ پھر ہر لڑکی کو ایک حصہ اور ہر لڑکے کو دو حصے دے دیں۔ فرض کیجیے، وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ انہوں نے انیس لاکھ تقسیم کرنا ہیں۔ اس  صورت میں ہر لڑکی کو ایک لاکھ اور ہر لڑکے کو دو لاکھ ملیں گے۔ لیکن یہ محض تحفہ ہو گا، وراثت نہیں کیونکہ وہ خود ابھی زندہ ہیں۔ اپنے لیے، وہ جتنی چاہے رقم رکھ سکتی ہیں۔ پھر جب والدہ کی وفات ہو گی تو اس وقت ان کے ترکے کو شریعت کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter