بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

اسم اشارہ اور موصول، اور  مشار الیہ اور مبتدا میں فرق

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ڈئیر مبشر بھائی

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے آپ ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔ آپ نے سوالات کے بارے میں پوچھا تھا تو آج سے ہی پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

عربی کے حوالے سے سوال ہے کہ: اسم اشارہ اور اسم الموصول میں کیا فرق ہے۔؟ کیونکہ مجھے تو دونوں استمال کے لحاظ سے اور معنوں کے اعتبار سے ایک جیسے لگے ہیں۔ البتہ تعداد میں فرق ضرور ہے؟ دوسرا سوال بھی اسی سبق سے متعلق یہ ہے کہ مبتدا اور مشارالیہ کی تعریف کیا ہے؟  مشارالیہ تو شاید وہ چیز ہوتی ہے جس کے بارے میں اشارہ ہو لیکن مبتدا کی سمجھ نہیں آ رہی۔

محمد جاوید اختر

دوحہ، قطر

مارچ 2012

ڈئیر جاوید بھائی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

کافی عرصے بعد سوالات دیکھ کر خوشی ہوئی۔  جواب یہ ہیں:

۱۔ "یہ، وہ" اسم اشارہ ہیں جبکہ "جو، جس، جن" اسم موصول ہیں۔ عربی میں ان کے متبادل استعمال ہوتے ہیں۔ استعمال اردو اور عربی میں ایک سا ہی ہے۔ جب ہم عام طور پر کسی حسی (Physical) چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو عربی میں بالعموم ھذا، ذالک ، اردو میں یہ وہ اور انگریزی میں This, That استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں اسم اشارہ کہا جاتا ہے۔  اس کے برعکس اسم موصول کا استعمال کسی ایسی چیز کے لیے ہوتا ہے جو بولنے والے کے ذہن میں موجود ہو۔  عربی میں ما اور من، اردو میں جو، جس ، جن اور انگریزی میں who, which, whom قسم کے اسم موصول استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ عمومی اصول ہے۔ کبھی اس کا الٹ بھی ہو جاتا ہے جس کی تفصیل آپ عربی کے ایڈوانسڈ ماڈیول میں پڑھیں گے۔

۲۔ مشار الیہ کی مثال ہے "یہ کتاب۔" اس میں کتاب مشار الیہ ہے۔ مبتدا کی مثال ہے "یہ کتاب ہے۔" اس میں لفظ 'یہ' مبتدا ہے جبکہ "کتاب ہے" اس کی خبر ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ بناتے ہیں جبکہ اسم اشارہ اور مشار الیہ مل کر کوئی جملہ نہیں بناتے بلکہ یہ ایک نامکمل جملہ (phrase) ہوتا ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter