بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا خواہشات کے پیچھے لگنا شرک ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

محترم بھائی آپ سے سوال یہ   ہے کہ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاه کا کیا مطلب ہے اور اس آیت کی روشنی میں کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہرنافرمانی شرک ہے؟ اگر ہے تو انسان کو ایک محال کا مکلف کیوں بنایا گیا؟ اور اگر اس آیت مبارکہ کا یہ مفہوم نہیں تو ان الفاظ کا کیا تقاضا ہے؟ براہ کرم اس کی وضاحت کردیں ۔ اللہ آپ کو جزائے خیرسے نوازیں۔

محمد شکیل

لاہور، پاکستان

مارچ 2012

ڈئیر شکیل بھائی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا احوال ہیں؟ آیت کریمہ کی یہ تفسیر کہ جو شخص بھی خواہشات کے پیچھے لگ جائے، ایک نہایت ہی شدت پسندانہ تعبیر ہے اور یہ طریقہ خوارج ہی کا رہا ہے۔

آیت کریمہ کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ یہاں وہ شخص زیر بحث ہے جس نے خواہشات کو اس درجے میں ترجیح دے دی ہے کہ گویا یہی اس کی معبود ہیں۔ اسے کسی اور چیز کی پرواہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے نزدیک اپنے حقیقی خدا کی اہمیت ہی نہیں ہے۔

ہمارے جیسے عام لوگوں کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ ہم ایسا نہیں کرتے کہ خواہشوں کو معبود بنا لیں بلکہ کبھی ان سے مغلوب ہو کر گناہ کر بیٹھتے ہیں اور پھر جب ہوش آتا ہے تو اللہ تعالی سے معافی مانگتے ہیں۔ اس وجہ سے اس کا اطلاق عام آدمی پر نہیں ہوتا۔ یہ صرف اسی شخص پر ہوتا ہے جو گناہوں کی دلدل میں پوری طرح دھنس جائے۔

آیت کریمہ کا یہ مفہوم اخذ کر لینا کہ ہر نافرمانی شرک یا کفر ہے، وہ نقطہ نظر ہے جو پہلی صدی ہجری میں خوارج نے اختیار کیا اور اس کی بنیاد پر حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما جیسے نہایت  القدر صحابہ کو بھی کافر قرار دے کر ان کے قتل کو جائز قرار دیا۔ خوارج کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے آیات کریمہ کی انتہا پسندانہ تشریح کر کے ہر گناہ گار کو کافر قرار دے دیا اور پھر کفر کے فتوے پوری امت پر صادر کر دیے۔ ہمیں آیات کریمہ اور احادیث نبویہ کی انتہا پسندانہ تعبیر سے گریز کرنا چاہیے بلکہ پورے سیاق و سباق کو دیکھ کر ہی نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter