بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

ان شاء بھگوان اور ان شاء گاڈ

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

میرے ایک بہت ہی قابلِ احترام لبرل  دوست ہیں،  گذشتہ دنوں ان سے ہلکی پھلکی سی بحث ہوگئی، موصوف کے نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ  "چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک ایک  ہی ذات ِ اقدس ہے لہذا اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے ہم کہ اس ہستی کو کس نام سے پکارتے ہیں، کیونکہ جس بھی نام سے پکاریں،اسی ذات کو ہی پکاریں کریں گے، بشرط یہ کہ ہماری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہو"۔

کم و بیش کچھ ایسی ہی ملتی جلتی بات "جارج برنارڈ شا " نے بھی کہی تھی کہ "گلاب کو جس نام سے بھی پکاریئے وہ گلاب ہی رہتا ہے، اور اسکی خوشبو پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے"۔

اب قبل اس کے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اس سلسلے میں قرآن و حدیث ہماری  کیا رہنمائی کرتا ہے، ہمیں ان ا لفاظ  کی تراکیب پر غور کرنے سے علم ہوتا ہے کہ  یہ الفاظ"ان شاء بھگوان یا ان شاء گاڈ " سرے سے کسی زبان میں موجود ہی نہیں ہیں، بلکہ ہر لفظ دو مختلف زبانوں کے دو الفاظ کا مرکب ہے، اور گرائمر کے اصولوں کی روشنی میں یہ الفاظ غلط ہیں۔ کیونکہ "انشاء" عربی زبان کا لفظ ہے ، اسکے معنی ہیں، "اگر چاہے"، اور یہ ہمیشہ کسی شخصیت کے ذاتی نام سے پہلے آتا ہے، جیسے "ان شاء اللہ" یعنی "اگر چاہے اللہ"۔ اور چونکہ لفظ "اللہ" تو اسم معرفہ ہے اس لیئے دُنیا کی ہر زبان میں اس لفظ کو ایسے ہی استعمال کیا جائے گا، مگر "ان شاء" کوئی "اسم ِ معرفہ" نہیں ہے کہ دوسری زبانوں میں بھی ہوبہو نقل کیا جائے، بلکہ ہر زبان میں اسکا ہم معنی دوسرا لفظ استعمال کیا جائے گا۔

قرآن میں آتا ہے کہ:

 وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاىِٕه سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ.

ترجمہ: وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔  اس کے لیئے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ (الاعراف)

تفسیر: ”اچھے ناموں“سے مراد وہ نام ہیں جن سے خدا کی عظمت و برتری، اس کے تقدس اور پاکیزگی، اور اس کی صفات کمالیہ کا اظہار ہوتا ہو۔”الحاد“کے معنی ہیں وسط سے ہٹ جانا ، سیدھے رُخ سے منحرف ہو جانا۔ تیر جب ٹھیک نشانے پر بیٹھنے کے بجائٕے کسی دوسری طرف جا لگتا ہے تو عربی میں کہتے ہیں اَلحد السہمُ الھدفَ، یعنی تیر نے نشانے سے الحاد کیا۔ خدا کے نام رکھنے میں الحاد یہ ہے کہ خدا کو ایسے نام دیے جائیں گو اس کے مرتبے سے فروتر ہوں، جو اس کے ادب کے منافی ہوں ، جن سے عیوب اور نقائص اس کی طرف منسوب ہوتے ہوں، یا جن سے اس کی ذات اقدس و اعلیٰ کے متعلق کسی غلط عقیدے کا اظہار ہوتا ہو۔ نیز یہ بھی الحاد ہی ہے کہ مخلوقات میں کسی کے لیے ایسا نام رکھا جائے جو صرف خدا ہی کے لیے موزوں ہو۔ پھر یہ فرمایا کہ اللہ کے نام رکھنے میں جو لوگ الحاد کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ سیدھی طرح سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو ان کی کج بحثیوں میں تم کو اُلجھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اپنی گمراہی کا انجام وہ خود دیکھ لیں گے۔(تفہیم القرآن)

اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام صرف اللہ تعالیٰ ہے باقی اس کے جتنے بھی نام ہیں سب صفاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہوگا (بخاری کتاب التوحید باب ان للہ مائۃ اسم الا واحدۃ) اور اللہ تعالیٰ کے ان ناموں یا صفات میں کجروی کا ہی دوسرا نام الحاد ہے(تیسر القرآن)

اسماء الہیہ میں تحریف یا کجروی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں وہ سب اس آیت کے مضمون میں داخل ہیں:

اول یہ کہ اللہ تعالی کے لئے وہ نام استعمال کیا جائے جو قرآن وحدیث میں اللہ تعالی کے لئے ثابت نہیں، علماء حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالی کے نام اور صفات میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ جو چاہے نام رکھ دے یا جس صفت کے ساتھ چاہے اس کی حمد و ثنا کرے بکہ صرف وہی الفاظ ہونا ضروری ہیں جو قرآن وسنت میں اللہ تعالی کے لئے بطور  نام یا صفت کے ذکر کئے گئے ہیں، مثلا اللہ تعالی کو کریم کہہ سکتے ہیں، سخی نہیں کہہ سکتے ، نور کہہ سکتے ہیں ابیض نہیں کہہ سکتے ، شافی کہہ سکتے ہیں طبیب نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ یہ دوسرے الفاظ منقول نہیں، اگرچہ انہی الفاظ کے ہم معنی ہیں۔ دوسری صورت الحاد فی الاسماء کی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے جو نام قرآن وسنت سے ثابت ہیں ان میں سے کسی نام کو نامناسب سمجھ کر چھوڑ دے، اس کا بے ادبی ہونا ظاہر ہے ۔(معارف القرآن)

پس ثابت ہوا  کہ درست الفاظ کی موجودگی میں ایسے غلط الفاظ کا استعمال کسی طرح کی عقلمندی نہیں ہے، اور سراسر جہالت و گمراہی کا باعث ہے۔ ویسےبھی  جب ہمارے پاس اپنے رب کو پکارنے کے کے لیئے بہترین  اعلیٰ نام موجود ہیں تو پھر یہ کون سی عقلمندی ہے کہ انہیں ترک کرکے ایسے الفاظ کا استعمال کیا جائے، جو کہ غیر مذہب لوگ اپنے خودساختہ "خداؤں" کے لیئے استعمال کرتے ہیں؟

عبد الروؤف

دبئی

نومبر 2012

ڈئیر عبد الروؤف بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کو رائے رکھنے کا حق ہے مگر مجھے اس سے اختلاف ہے۔ لفظ ’’اللہ‘‘ بھی عربوں کے ہاں دور جاہلیت میں عام استعمال ہوتا تھا۔  اور یہ ’’ال الہ‘‘ کا مجموعہ ہے جس سے وہ لوگ  وہ ہستی مراد لیتے تھے جو تمام دیوتاؤں سے برتر ایک ہی ہستی ہے اور سارے دیوتا اسی کے ماتحت ہیں۔ گویا اللہ تعالی کے لفظ میں بھی انہوں نے ایک غلط اور شرکیہ تصور قائم کر رکھا تھا۔ اللہ تعالی نے اپنے لیے کسی نئے نام  کا انتخاب نہیں فرمایا بلکہ  اسی لفظ کو استعمال فرما لیا جو کہ عرب مشرکین  کے ہاں عام استعمال ہوتا تھا۔ اسی طرح عبرانیوں میں اللہ تعالی نے اپنے لیے Yahweh اور ایل کا لفظ استعمال فرمایا۔

غیر مسلموں کو دعوت دیتے ہوئے ان کے ہاں استعمال ہونے والے نام کی ایک خاص نفسیاتی اہمیت ہے۔ اگر ہم کسی مغربی شخص کو کہیں کہ تم اپنے گاڈ کو چھوڑو اور ہمارے اللہ کو مانو تو اس سے دعوت میں ایک نفسیاتی سی رکاوٹ پیدا ہو گی۔ یا  کسی ہندو کو کہیں کہ تم اپنے بھگوان کو چھوڑو اور ہمارے اللہ کو مانو تو یہی ہو گا۔ اس کے برعکس اگر اسے یہ کہا جائے  کہ تم گاڈ یا بھگوان کو مانو  اور صرف ایک ہی مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو تو اس بات کی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔ فاضل مفسرین نے جو بات فرمائی ہے، وہ یہی ہے کہ اللہ تعالی کے لیے ایسا کوئی لفظ اختیار نہ کیا جائے ، جو اللہ تعالی کی شان اور مرتبہ کے لائق نہ ہو۔

ہاں  آپ کی یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں اللہ تعالی ہی کا نام استعمال کرنا چاہیے کہ جب کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرلے تو اسی کی تلقین کرنی چاہیے۔  ان شاء بھگوان اور ان شاء گاڈ کی ترکیب کے بارے میں بھی آپ نے درست فرمایا کہ یہ ایک نامعقول ترکیب ہے کہ دو الفاظ عربی اور ایک  ہندی یا انگریزی کا ملا کر ایک نئی ترکیب ایجاد کی جائے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter