بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

چین مارکیٹنگ

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم

انٹرنیٹ پر ایک کاروبار   ہے، جس میں کچھ اشیا بیچی جاتی ہیں، انہیں جو شخص بکوائے گا، اسے وہ کمیشن دیتے ہیں۔ پھر اس سے آگے جو شخص سیل کرتا ہے، تو اس کا کمیشن پہلے اور دوسرے کو ملتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص مزید آگے بیچتا ہے تو پہلے تینوں کو کمیشن ملتا ہے  اور یہ سلسلہ آگے چلتا رہتا ہے۔  کیا یہ جائز ہے؟

ایک بھائی

کراچی، پاکستان

جون 2012

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے جو تفصیل بیان کی ہے، اس کے مطابق یہ چین مارکیٹنگ ہے اور صرف یہی لوگ نہیں بلکہ اور بھی بہت سی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں کہ ایک سے دوسرے کو بیچتے چلے جائیے اور اس پر کمیشن پہلے والوں کو ملتا رہے گا۔ یہ بہت پرانا طریقہ ہے۔سیلز پر کمیشن تو جائز ہے البتہ چین مارکیٹنگ میں بعض اخلاقی پہلوؤں سے قباحت پائی جاتی ہے۔

ایک تو یہ کہ اس سے انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ گاہک گھیر کر لائے جائیں، تاکہ زیادہ کمیشن بنے۔ اس سے انسان کی اپنی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے اور وہ ہر دم گاہک گھیرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔

دوسرے یہ کہ بعض لوگ اس مقصد کے لیے جھوٹ بھی بول دیتے ہیں۔

تیسرے یہ کہ لوگوں کو ترغیب دلا کر ایسی چیزیں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے جن کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

چوتھے یہ کہ عام طور پر ان اشیاء کی کوالٹی ناقص ہوتی ہے۔ مثلاً جو زیور آپ کسی جاننے والے سنار سے خریدیں گے، اس کی کوالٹی اور انٹرنیٹ پر خریدے گئے زیور کی کوالٹی میں فرق ہو گا۔

پانچویں یہ کہ اس میں معاشرے کی کوئی حقیقی خدمت نہیں ہو رہی ہوتی۔ جیسے ایک دکاندار اگر مال بیچ کر پیسہ کماتا ہے تو وہ ایک حقیقی خدمت فراہم کر رہا ہے کہ اشیاء کو لوگوں کے گھر کے پاس لا کر بیچ رہا ہے اور اس میں رسک لے رہا ہوتا ہے۔ چین مارکیٹنگ میں یہ سب مصنوعی ہو رہا ہوتا ہے اور لوگ اس مال کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں جسے کمانے کے لیے حقیقی محنت نہ کرنی پڑے۔

اس وجہ سے آپ کو میرا مشورہ یہی ہے کہ اگر آپ کاروبار کرنا چاہیں، تو کوئی ایسا کاروبار کیجیے جس میں معاملہ صاف اور سیدھا ہو اور معاشرے کی حقیقی خدمت ہو رہی ہو۔ 

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  علم الفقہ پروگرام   /    مذاہب عالم پروگرام   /    مسلم تاریخ پروگرام   /    عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات   /     سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter