بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

New articles and books are added this website on 1st of each month.

 

کیا حجر بن عدی صحابی تھے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

السلام علیکم

آج  کل فیس بک پر کچھ ویڈیوز اور تحریریں چل رہی ہیں، جن کے مطابق شام میں حضرت حجر بن عدی کے مزار کو تباہ کیے جانے پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔  یہ کون صحابی تھے اور ان کا کارنامہ کیا ہے؟ ان کے مزار کی شہادت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

محب الرسول قادری

لاہور، پاکستان

مئی 2013

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  محب بھائی

 سب سے پہلے تو اصولی طور پر کچھ باتیں عرض کر دوں، پھر اس مسئلے پر بات کرتے ہیں۔ صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں وقت گزارا ہو اور آپ سے دین سیکھا ہو۔ جس صحابی نے جتنا زیادہ وقت گزارا ہو گا اور آپ کے احکام پر جتنا عمل کیا ہو گا اور آپ کے مشن کے لیے جتنی قربانیاں دی ہوں گی، ان کا درجہ اسی اعتبار سے بلند ہو گا۔  یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام میں ’’السابقون الاولون‘‘ کا درجہ سب سے بلند ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا او ر اس کے لیے قربانیاں دیں اور تکالیف سہیں۔ ان سابقون میں بھی دس صحابہ کا درجہ غیر معمولی طور پر بلند ہے: حضرات ابوبکر، عمر، عثمان، علی، ابوعبیدہ، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔  سابقون کے بعد صحابہ کرام کے درجات کی تفصیل یہ ہے:

1.  جو جنگ بدر (2H/624CE)سے پہلے ایمان لائے،

2.  پھر جنگ بدر و احد کے درمیان (2-3/624-625)ایمان لانے والے،

3.  پھر جنگ احد و خندق کے درمیان (3-5/625-627)ایمان لانے والے،

4.  پھر جنگ خندق اور صلح حدیبیہ کے درمیان (5-6/627-628)ایمان لانے والے ،

5.  پھر صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان (6-8/628-630)ایمان لانے

6.  پھر فتح مکہ کے بعد وفات نبوی تک (8-11/630-632)ایمان لانے والے صحابہ

7.  آخری درجہ ان صحابہ کا ہے جو عہد نبوی میں بچے تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔ ان میں سے جو بچے آپ کے زمانے میں سن شعور کو پہنچ گئے، ان  کا درجہ ان بچوں سے بلند ہے جو سن شعور کو نہیں پہنچے۔

صحابہ کرام کے یہ درجات خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر کیے تھے اور اسی کی بنیاد پر انہوں نے ان صحابہ کی پنشن مقرر کی تھی۔  (تفصیل کے لیے دیکھیے ابو عبید، کتاب الاموال) جس نے جتنا جلد اسلام قبول کیا، اس کی پنشن اتنی ہی زیادہ رکھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی شروع میں اسلام لانا ایک مشکل کام تھا اور ایسا کرنے والے کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جنگ بدر کے بعد مشکلات کچھ کم ہوئیں مگر پھر بھی بہت تھیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد مشکلات بہت ہی کم ہو گئیں اور فتح مکہ کے بعد تو بالکل ہی ختم ہو گئیں۔

فتح مکہ کے بعد ایسا ہوا کہ بہت سے قبائل کے وفود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس میں شامل لوگوں نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر لی۔ ظاہر ہے کہ ان صحابہ کا وہ درجہ نہیں ہو سکتا جو کہ سابقون الاولون کا ہے۔ بلکہ ان میں بھی وہی صحابہ افضل ہیں جو فتح مکہ کے بعد مستقل طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے اور دو سال آپ سے دین سیکھا۔

اس بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمیں کیسے علم ہو گا کہ کوئی شخص صحابی ہیں یا نہیں۔ جہاں تک فتح مکہ سے پہلے کے صحابہ کا تعلق ہے تو ان کے نام معلوم و معروف ہیں کیونکہ ان کی تعداد کم تھی۔ بے شمار احادیث، آثار اور تاریخی روایات میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ فتح مکہ کے بعد کے صحابہ میں بالخصوص وہ جو وفود کے ساتھ آئے یا جو بچے تھے، کے بارے میں بہت کم روایات ملتی ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے کہ کوئی صاحب صحابی ہیں یا نہیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کیونکہ جن صاحب نے ایک آدھ بار ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کی ہو گی، ان کے بارے میں اختلاف رائے پایا جا سکتا ہے۔

صحابہ کرام اور تابعین کے حالات زندگی پر جو کتابیں  لکھی گئیں، ان میں سب سے قدیم کتاب ابن سعد (d. 230/845) کی ’’الطبقات الکبری‘‘ ہے۔  بعد کی صدیوں میں اور بھی بہت سی کتب لکھی گئیں لیکن  سب کی بنیاد ابن سعد کی کتاب پر ہے۔  اس وجہ سے درست طریقہ یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی شخص کے صحابی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں معلوم کرنا ہو تو اس کے لیے ابن سعد کی کتاب کی طرف رجوع کریں۔  یہ کتاب اردو میں اس لنک پر دستیاب ہے:

http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/musannifeen/article/190-authors/2619-muhammad-bin-saad.html

ان اصولی باتوں کے بعد اب ہم حجر بن عدی کی طرف آتے ہیں۔ یہ ایک مشہور اور متنازعہ شخصیت ہیں ۔ ان کے حالات کے بارے میں تفصیل بعد میں بیان کروں گا، پہلے ہم ان کے صحابی ہونے یا نہ ہونے کی بحث کر لیں۔ ابن سعد کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک ایک شہر کو لیتے ہیں اور وہاں پر آباد ہونے والے لوگوں کے طبقات (Age Groups) کی ترتیب سے چلتے ہیں۔ پہلے اولین دور میں ایمان لانے والے صحابہ کا ذکر کرتے ہیں، پھر بعد کے صحابہ کا، پھر تابعین میں بڑی عمر کے لوگوں کا، پھر چھوٹی عمر کے تابعین کا اور اسی طرح آگے چلتے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان کی کتاب کا جائزہ لیں تو حجر بن عدی کا ذکر انہوں نے  ’’طبقات الکوفیین‘‘ میں کیا ہے۔  اوپر دیے گئے لنک سے اگر آپ اس کتاب کا ترجمہ ڈاؤن لوڈ کر لیں تو  اس کی تیسری جلد (حصہ ششم) کے شروع ہی میں آپ کو اہل کوفہ کے حالات مل جائیں گے۔

ابن سعد آغاز کوفہ میں آنے والے میں صحابہ کرام سے کرتے ہیں جن میں حضرت علی، سعد، سعید بن زید ، عبداللہ بن مسعود، عمار بن یاسر اور خباب بن ارت رضی اللہ عنہم سر فہرست ہیں۔ یہ سب سابقون الاولون میں شمار ہوتے  ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اور بھی بہت سے صحابہ کا ذکر کیا ہے مگر ان میں حجر بن عدی کا نام نہیں ہے۔ صحابہ کے بعد وہ تابعین کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے نو طبقات (Generations / Age Groups) بیان کرتے ہیں۔ ان میں پہلا طبقہ ان تابعین کا ہے جنہوں نے حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی  اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ سے علم حاصل کیا ہے۔ ان میں حجر بن عدی کا نام ہے اور ان  کا ذکر ص 147 (پی ڈی ایف فائل کا ص 539) پر ہے۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن سعدانہیں صحابہ کرام میں شمار نہیں کرتے بلکہ تابعین میں کرتے ہیں ۔ ابن سعد لکھتے ہیں: ’’حجر نے جاہلیت کا زمانہ بھی پایا اور اسلام کا بھی۔ بعض علم کے راویوں نے کہا ہے  کہ یہ اپنے بھائی ہانی بن عدی  کے ساتھ ایک وفد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔‘‘

ابن سعد نے یہاں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے ’’علم کے راوی‘‘ ہیں جنہوں نے یہ بات کہی ہے؟ کیا وہ لوگ قابل اعتماد ہیں یا نہیں؟ کہیں وہ لوگ کسی خاص صحابی کے بارے میں متعصب تو نہیں؟  لیکن ابن سعد نے خود ان راویوں کی بات کو مسترد کر کے حجر بن عدی کو تابعین میں شمار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجر بن عدی کے صحابی ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ مشکوک ہے۔ کچھ نامعلوم لوگ انہیں صحابی قرار دینا چاہتے ہیں۔ آج کل اگر آپ اخبارات اور فیس بک وغیرہ کی تحریریں دیکھیں تو ان کے نام کے ساتھ ’’صحابی جلیل‘‘ لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ شاید حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے درجے کے صحابی تھے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔  اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ وفد میں آئے تھے، تب بھی ان کا درجہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقیم ہو جانے والے صحابہ جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے برابر نہیں ہو سکتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی اور بھی شخصیات ہوں گی جن کے بارے میں اس نوعیت کا اختلاف پایا جاتا ہے تو ہم نے حجر بن عدی ہی کو لے کر ان سے متعلق اتنی تحقیق کیوں کی ہے؟ اس کی وجہ حجر بن عدی کی زندگی کا ایک خاص واقعہ ہے جس کی آڑ میں دراصل نہایت ہی جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر تنقید کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ بھی ابن سعد نے اسی مقام پر درج کیا ہے اور وہاں بھی اس کی کوئی سند نہیں دی بلکہ انہی نامعلوم راویوں کے حوالے سے پورا واقعہ بیان کیا ہے۔ اگر ہم تاریخ طبری کو دیکھیں تو ان نامعلوم راویوں کے نام سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ دراصل  مشہور اخباری ابو مخنف لوط بن یحیی (d. 157/774)ہیں۔ یہ وہ صاحب تھے جن کی زندگی کا مقصد ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کرنا تھا اور یہ انہی کا پراپیگنڈا ہے کہ حجر بن عدی صحابی تھے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ  کچھ باغی لوگوں نے ایک پارٹی بنا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ  کسی شخص کو برائے نام خلیفہ بنا دیں اور اس کے پردے میں اپنی حکومت قائم کریں۔ انہوں نے حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم تینوں کو کٹھ پتلی خلیفہ بننے کی آفر کی  مگر تینوں نے اس سے انکار کر دیا۔ پھر کچھ مصلحتوں کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ معاملات کو کنٹرول میں لیا جائے اور پھر ان  باغیوں کی سرکوبی کی جائے۔ اس پر ان باغیوں نے آپ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر جلیل القدر صحابہ جن میں حضرت طلحہ، زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم نمایاں تھےاٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت علی ان باغیوں کو لے کر ان کے پاس آئے ۔ آپ کا ارادہ یہ تھا کہ سب صحابہ مل کر اتحاد کر لیں اور پھر باغیوں کی سرکوبی کریں۔ باغیوں نے رات کے اندھیرے میں دونوں جانب حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں جنگ جمل ہوئی۔ حضرت علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے اس جنگ کو روکنے کی بھرپور کوشش کی جو بالآخر حضرت علی کی کوششوں سے کامیاب ہوئی۔

باغی تحریک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شام کے گورنر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے اور یہ چاہتے تھے کہ انہیں معزول کروا دیں مگر اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔انہوں نے ایک لشکر تیار کر کے شام پر چڑھائی کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس لیے ساتھ گئے کہ ان باغیوں کو جنگ سے روک سکیں لیکن انہوں نے لشکر شام پر  حملہ کر دیا۔ حضرت معاویہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہما سے قرآن پر فیصلہ کرنے کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول کر لیا اور باغیوں کے نہ چاہنے کے باوجود جنگ بندی کر دی۔ اس پر باغیوں کا ایک بڑا حصہ حضرت علی کے خلاف ہو گیا اور پھر انہی نے آپ کو بھی شہید کر دیا۔ آپ کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور انہوں نے دستبردار ہو کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحا د کر کے انہیں خلیفہ بنا لیا۔

جب حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں اتحاد ہوا اور عالم اسلام میں  خوشی کی لہر دوڑ گئی تو اس سے ان لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی جو کہ مسلمانوں میں جنگ و جدال چاہتے تھے۔  ان میں حجر بن عدی بھی شامل تھے۔ ان کی نیت کا حال تو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے لیکن تاریخی روایات (جن کے مستند ہونے کا ہمیں علم نہیں ہے) کے مطابق انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے کی بھرپور کوشش کی:

(صلح کے بعد) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ملاقات سب سے پہلے حجر بن عدی سے ہوئی۔ اس نے حضرت حسن کو ان کے اس فعل (صلح) پر شرم دلائی اور دعوت دی کہ وہ (حضرت معاویہ سے) دوبارہ جنگ شروع کریں اور کہا: "اے رسول اللہ کے بیٹے! کاش کہ میں یہ واقعہ دیکھنے سے پہلے مرجاتا۔ آپ نے ہمیں انصاف سے نکال کر ظلم میں مبتلا کر دیا۔ ہم جس حق پر قائم تھے، ہم نے وہ چھوڑ دیا اور جس باطل سے بھاگ رہے تھے، اس میں جا گھسے۔ ہم نے خود ذلت اختیار کر لی اور اس پستی کو قبول کر لیا جو ہمارے لائق نہ تھی۔ "

حضرت حسن کو حجر بن عدی کی یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے فرمایا : ’’میں دیکھتا ہوں کہ لوگ صلح کی طرف مائل ہیں اور جنگ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ کیوں اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میں لوگوں پر وہ چیز مسلط کروں جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ میں نے خاص طور پر اپنے شیعوں کی بقا کے لیے یہ صلح کی ہے۔ میری رائے کہ جنگوں کے اس معاملے کو  مرتے دم تک ملتوی کر دیا جائے۔ یقیناً اللہ ہر روز نئی شان میں ہوتا ہے۔‘‘

اب حجر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، ان کے ساتھ عبیدہ بن عمرو بھی تھے۔ یہ دونوں کہنے لگے: "ابو عبداللہ! آپ نے عزت کے بدلے ذلت خرید لی۔ زیادہ کو چھوڑ کر کم کو قبول کر لیا۔ آج ہماری بات مان لیجیے، پھر عمر بھر نہ مانیے گا۔ حسن کو ان کی صلح پر چھوڑ دیجیے اور کوفہ وغیرہ کے باشندوں میں سے اپنے شیعہ کو جمع کر لیجیے ۔ یہ معاملہ میرے اور میرے ساتھیوں کے سپر د کر دیجیے۔ ہند کے بیٹے (معاویہ) کو ہمارا علم اس وقت ہو گا جب ہم تلواروں کے ذریعے اس کے خلاف جنگ کر رہے ہوں گے۔‘‘

حضرت حسین نے جواب دیا: "ہم بیعت کر چکے اور معاہدہ کر چکے۔ اب اسے توڑنے کا کوئی راستہ نہیں۔" (الاخبار الطوال۔ ص 233-234)

حجر بن عدی اور ان کے ساتھی اس کے بعد کوفہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت منظم کرتے رہے ۔ آپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر  مقرر کیا جنہوں نے ان کے ساتھ نہایت محبت کا سلوک کیا۔ حضرت مغیرہ کی وفات کے بعد زیاد بن ابی سفیان رحمہ اللہ نے کوفہ کا چارج سنبھالا ۔ یہ وہی زیاد تھے جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دور میں ایران کا گورنر بنایا تھا۔ حجر بن عدی نے ان کے زمانے میں بغاوت کا علم بلند کیا۔ پولیس کاروائی کے ذریعے یہ گرفتار ہوئے ۔ انہوں نے اس شرط پر گرفتاری دی کہ ان کا فیصلہ حضرت معاویہ خود کریں گے۔ زیاد نے پورے واقعے کی تحقیقات کروائیں ۔ ستر گواہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ حجر بغاوت منظم کر رہے تھے۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سات ساتھیوں سمیت موت کی سزا دے دی گئی۔  اس واقعے کی تفصیل آپ یہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں:

http://www.mubashirnazir.org/ER/0025-History/L0025-06-04-Hasan-Muawiya.htm

ویسے میرا مشورہ ہے کہ اس پوری کتاب ہی کو پڑھ لیجیے ، جس میں ان تمام واقعات کی تحقیق کی گئی ہے۔

http://www.mubashirnazir.org/ER/0025-History/L0025-00-00-History.htm

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حجر بن عدی ایک باغی تھے اور انہیں بغاوت کے جرم میں پوری قانونی کاروائی کے بعد سزا دی گئی۔  اس سے زیادہ ہمیں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہیے۔ انہوں نے اقدام کیا اور اس کی سزا دنیا ہی میں پا لی۔ آخرت میں ان کی نجات کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا  کہ باغی تحریکوں کو جب سزا ملتی ہے تو یہ بہت واویلا کرتے ہیں اور سزا یافتہ لوگوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پراپیگنڈا کے ذریعے حکومت کو بدنام کیا جائے اور اس طرح اپنے اقتدار کی راہ ہموار کی جائے۔ یہی کچھ حجر بن عدی کے ساتھ ہوا اور اسی باغی پارٹی کے پراپیگنڈا ونگ کے اہم لیڈر ابو مخنف وغیرہ نے ان کا درجہ بلند کرنے کے لیے انہیں صحابی بنانے کی کوشش کی۔  ایک خاص زمانے میں ان  کا مزار تعمیر ہوا اور اسے خاص تقدس کی شکل دی گئی۔

جہاں تک مزار بنانے کا تعلق ہے تو یہ بھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ اس میں میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات پیش کر رہا ہوں، ان کی روشنی میں آپ خود فیصلہ فرما لیجیے:

حدثنا موسى بن إسماعيل: حدثنا أبو عوانة، عن هلال، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها قالت:  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي لم يقم منه: (لعن الله اليهود والنصارى، اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد). لولا ذلك أبرز قبره، غير أنه خشي، أو خشي، أن يتخذ مسجدا.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (آخری) مرض میں جس کے بعد آپ صحت یاب نہیں ہوئے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے ان یہودیوں اور نصرانیوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے  اپنے انبیا کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔‘‘ سیدہ فرماتی ہیں کہ اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ رسول اللہ کی قبر مبارک کو مسجد بنا لیں گے تو اسے بھی ظاہر کر دیا جاتا۔ [یعنی قبر انور کو اسی لیے بند کمرے میں بنایا گیا تاکہ لوگ اسے زیارت اور عبادت کا مقام نہ بنا لیں۔] (بخاری، کتاب الجنائز، حدیث 1324)

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة. حدثتا حفص بن غياث عن ابن جريج، عن أبي الزبير، عن جابر ؛ قال:  نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر. وأن يقعد عليه. وأن يبنى عليه.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے، ان پر بیٹھنے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم، کتاب الجنائز، حدیث 970)

یہ دونوں احادیث بخاری اور مسلم جیسی کتب میں ہیں۔ ان سے آپ خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ قبروں پر عمارتیں تعمیر کر کے انہیں عبادت کا مقام بنانے کا حکم کیا ہے۔

والسلام

مبشر

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام  /  علم الفقہ پروگرام   /    مذاہب عالم پروگرام   /    مسلم تاریخ پروگرام   /    عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات   /     سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of Man’s Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: page hit counter