بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

Comments on "Deen dar afrad key lie Ma'ash aur Ruzgar key Masail"

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ڈئیر مبشر نذیر صاحب

آپ نے اپنی ایک تحریر میں یہ جملہ لکھا ہے، اس پر میرا تبصرہ یہ ہے:

"انسان کو ایسے دینی حلقوں سے وابستگی اختیار کرنی چاہئے جن کے بارے میں معاشرے میں اچھا تاثر پایا جاتا ہو۔"

 

انسان کو ایسے دینی حلقوں سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے جو قران اور سنت پر قائم ہوں - بیشک معاشرے میں ان کے بارے میں منفی رائے رکھی جاتی ہو - اگر آپ کے اصول کی روشنی میں دیکھیں تو ہمیں کہنا پڑے گا کے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کری جب پوری قوم کی اور ان کے دینی حلقوں کی مخالفت کری اور اس عقیدے سے چمٹے رہے جس کی پوری قوم مزمت کرتی تھی - محترم زیادہ لوگوں یا معاشرے کے پیچھے چلنے سے تو آپ نے خود اپنے ایک مضمون میں منع فرمایا تھا جو ابھی ابھی میں نے اتفاقا پڑھا ہے - پھر تو یہ بھی ذہنی غلامی ہی ہوئی کے میں معاشرے کی ان قدروں پر چلوں جن کا نہ اللہ نے حکم دیا نہ رسول نے اور نہ ہی کبھی میرے ننھے منے سے بھیجے نے۔

معاشرۃ / سوسائٹی / جمہوریت بھی نئے دور کے بت ہی ہیں جو تلتے نہیں ہیں بس گنے جاتے ہیں-اور ذہنی پسماندگی کی بدترین مثال ہیں - یہ کیا بات ہوئی کے اگر میرے پڑوس میں دس گدھے رہتے ہوں جو ڈھینچون ڈھینچوں کو اچھا سمجھتے ہوں تو میں بھی کیا ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگوں - صرف اس لیے کے گدھوں کے معاشرے میں میرے اچھا تاثر قائم ہو جاَے ؟ اور یہ کیا بات ہوئی کے امتحان کے پرچے میں پورے نمبر لینے کیلئے میں یہ لکھوں کے شروع میں ہم بندر ہوتے تھے آہستہ آہستہ انسان بن گئے اور اب آہستہ آہستہ پھر بندر بنتے جارہے ہیں جب کے یہ بات میرے مذہب کے بھی مخالف ہے اور میری عقل کے بھی

ہوسکتا ہے کہ ابراہیم اکیلا ہو مگر ہو حق پر - اور موسی اور ہارون ہوں مگر ہوں حق پر - اور شاید کوئی 'دہشتگرد' ہو مگر ہو حق پر - کیا نہیں ہوسکتا ؟

ذیشان ضیا

مسقط، عمان

مئی 2010

ڈئیر ذیشان بھائی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وربرکاتہ

آپ کی ای میل کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے جس جملے کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے، اس میں واقعی کچھ ابہام پایا جاتا ہے۔ یہ میری تحریر کی خامی تھی۔ آپ نے توجہ دلائی، بہت بہت شکریہ۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے۔

میں اس میں مزید کچھ جملوں کا اضافہ کر رہا ہوں تاکہ بات بالکل واضح ہو جائے۔ سیاق و سباق کے ساتھ اضافہ شدہ عبارت یہ ہو گی:

بعض دینی جماعتوں کی انتہا پسندی اور چند غلط اقدامات کی وجہ سے معاشرے میں ان کا منفی امیج پایا جاتا ہے۔ ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی عملی زندگی میں اپنی جماعتوں کے مخالفین یا ان کے بارے میں منفی تاثر رکھنے والے افراد کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری رائے میں ایسی جماعتوں میں شمولیت سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ انسان کو ایسے دینی حلقوں سے وابستگی اختیار کرنی چاہئے جن کے بارے میں معاشرے میں اچھا تاثر پایا جاتا ہو۔ اچھے تاثر سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ وہ معاشرے کی ہر پسند و ناپسند کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے ہوں بلکہ اچھے تاثر کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ دین پر عمل کے اعتبار سے معاشرے میں اچھے سمجھے جاتے ہوں۔ان کا اخلاق و کردار اتنا مضبوط ہو کہ دشمن بھی ان کے کردار کی مضبوطی کی گواہی دے۔ ان کی محفلوں میں بیٹھنے سے اللہ، اس کے رسول اور انسانیت کی محبت کی خوشبو آتی ہو۔ وہ کسی کے خلاف نفرت پھیلانے میں مشغول نہ ہوں۔ ان کے ہاں انسانوں کی کردار سازی کی جاتی ہونہ کہ کردار کشی۔ وہ انسانوں کیاخلاقی تربیت میں مشغول ہوں نہ کہ ان کی برین واشنگ میں۔

 

امید ہے کہ اس سے بات واضح ہو جائے گی۔ آپ کو چونکہ اس موضوع میں دلچسپی ہے، اس لئے اگر میری اس کتاب کا مطالعہ کر کے اس پر اپنی رائے سے نوازیں تو بہت مہربانی ہو گی۔

http://www.mubashirnazir.org/ER/Slavery/L0019-00-Intslavery.htm

 

مجھے آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ بھیڑ چال کے پیچھے چلنا ہرگز دین کا تقاضا نہیں ہے۔ اس کے برعکس بلا خوف لومۃ لائم حق کا علم بلند کرنا خواہ معاشرہ اس کی حمایت کرے یا مخالفت، ہمارے دین کا تقاضا ہے۔ یہی انبیاء کرام علیہم السلام نے کیا۔

اصل بات جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں، وہ اخلاق و کردار کی تربیت ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے کردار کا یہ عالم تھا کہ ان سے شدید اختلاف رکھنے والے بھی ان کے کردار کے معترف تھے۔ آپ کی ذات پر دشمنوں کے اس اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ہجرت کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن آپ پر حملہ کرنے والے تھے مگر اس وقت بھی ان کی امانتیں آپ کے پاس موجود تھیں۔ آپ نے اسے ٹھیس نہیں پہنچائی بلکہ جان کے خطرے کے باوجود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ امانتیں لوٹانے پر مامور فرمایا۔

ایک بات عرض کرتا چلوں کہ "دہشت گرد" کبھی حق پر نہیں ہو سکتا۔ بے گناہ بوڑھوں، بچوں، خواتین اور مردوں کو نشانہ بنانا ایسا جرم ہے جس کی کوئی گنجائش نہ دین میں موجود ہے اور نہ انسانیت میں ۔ قرآن مجید نے تو ایک انسان (خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم) کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ دہشت گرد، ایک انسان کو تو کیا بیسیوں انسانوں کو قتل کرتا ہے جس کی سزا اسے اللہ تعالی سے مل کر رہے گی۔

اس وقت جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کا طوفان برپا کیے ہوئے ہیں، وہ دین کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں کا اہل مغرب کو تو کیا نقصان پہنچے گا، سب سے بڑا نقصان خود اسلام اور امت مسلمہ کو پہنچ رہا ہے۔ یہ لوگ یا تو اسلام دشمن ہیں یا پھر اسلام دشمنوں کے ہاتھوں دانستہ و ناداستہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

ایسا ضرور ممکن ہے کہ کوئی دہشت گردی میں ملوث نہ ہو اور اس پر اس کا جھوٹا الزام لگ جائے۔ ایسی صورت میں اس شخص یا گروہ کو چاہیے کہ ہر ممکن طریقے سے اس الزام کو دھونے کی کوشش کرے۔ کم سے کم اتنا تو ہر کوئی کر سکتا ہے کہ دہشت گردی کی غیر مشروط مذمت کی جائے اور جو لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے سائے سے بھی دور رہا جائے۔ اگر کوئی زبانی مذمت پر بھی تیار نہ ہو، اور بدستور دہشت گردوں سے روابط رکھے، تو پھر ایسے شخص، جماعت یا ادارے کو دور سے ہی سلام کرنا ضروری ہے۔

دہشت گردی ایسا جرم ہے جو اسلام اور امت مسلمہ کے سر پر اسلام کے دانا دشمنوں اور نادان دوستوں کی جانب سے تھوپ دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف زبانی، قلمی اور عملی جہاد وقت کی ضرورت ہے خواہ اس کے لئے ہمیں معاشرے کی کتنی ہی مخالفت کیوں نہ سہنی پڑے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

 

مصنف کی دیگر تحریریں

Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program / علوم القرآن پروگرام / قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

Description: page hit counter