علوم الحدیث: ایک تعارف

اگر آپ سوال جواب کے لیے آن لائن استاذ کی بلا معاوضہ خدمات سے استفادہ کرنا چاہیں تو رجسٹریشن فارم حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

Registration-Form-ISP

اس پروگرام کے چار ماڈیولز ہیں۔

HS01 : احادیث نبویہ کے منتخبات

HS02 : علوم الحدیث ایک تعارف

https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1VXuUWeZ-p4Lukd1Y12T-GNT58h8cnMi-

ان دونوں کتابوں کا ڈیزائن ۔۔۔ شیخ اعجاز صاحب ۔۔۔ آرٹسٹ ۔۔۔خطاط وگرافک ڈیزائنر

HS03 : احادیث کے جانچ پڑتال کے فن کی پریکٹس

HS04 : کتب حدیث  اور ان کی شروحات کا مطالعہ

اردو لیکچرز میں تیسرے چوتھے ماڈیولز کا حصہ ہے۔

English Lectures

اگر آپ کے ذہن میں اس کتاب سے متعلق کوئی سوال ہو یا آپ اپنے تاثرات شائع کروانا چاہیں تو بلا تکلف پر ای میل کیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

حصہ اول: تعارف

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

سبق 1: تدوین حدیث کی تاریخ

  History of Hadith Compilation

سبق 2: احادیث کی چھان بین کے طریقے

سبق 3: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات(1)

سبق 4: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات(2)

سبق 5: دور جدید میں حدیث کی خدمت کی کچھ نئی جہتیں

سبق 6: علوم حدیث کی اہم اور مشہور کتب

سبق 7: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات (1)

سبق 8: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات (2)

سبق 9: کتب حدیث کا ایک تعارف

سبق 10: مشہور محدثین کا تعارف

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 2: خبر کی اقسام

سبق 1: تاریخی معلومات کے حصول کے ذرائع

سبق 2: خبر متواتِر

سبق 3: خبر واحد

سبق 4: خبر مشہور

سبق 5: خبر عزیز

سبق 6: خبر غریب (اکیلے شخص کی خبر)

یونٹ 3: خبر مقبول

سبق 1: خبر واحد کی قوت (قابل اعتماد ہونے) کے اعتبار سے اس کی تقسیم

سبق 2: صحیح حدیث (1)

سبق 3: صحیح حدیث (2)

سبق 4: حسن حدیث

سبق 5: صحیح لغیرہ

سبق 6: حسن لغیرہ

سبق 7: خبر واحد جسے شواہد و قرائن کی بنیاد پر قبول کیا جائے

سبق 8: مُحکَم اور مُختَلِف حدیث

سبق 9: ناسخ اور منسوخ حدیث

یونٹ 4: خبر مردود (مسترد شدہ خبر)

سبق 1: خبر مردود اور اسے مسترد کرنے کے اسباب

سبق 2: ضعیف حدیث

سبق 3: اسقاط سند کے باعث مسترد کردہ حدیث

سبق 4: معلق حدیث

سبق 5: مُرسَل حدیث

سبق 6: مُعضَل حدیث

سبق 7: مُنقطِع حدیث

سبق 8: مُدَلّس حدیث

سبق 9: مُرسَل خفی

سبق 10: مُعََنعَن اور مُؤَنَن احادیث

سبق 11: راوی پر الزام کے باعث مردود حدیث

سبق 12: موضوع حدیث

سبق 13: متروک حدیث

سبق 14: “مُنکَر” حدیث

سبق 15: مُعَلَّل حدیث

سبق 16: نامعلوم راوی کی بیان کردہ حدیث

سبق 17: بدعتی راوی کی بیان کردہ حدیث

سبق 18: کمزور حفاظت والے راوی کی بیان کردہ حدیث

سبق 19: ثقہ راویوں کی حدیث سے اختلاف کے باعث مردود حدیث

سبق 20: مُدرَج حدیث

سبق 21: مَقلُوب حدیث

سبق 22: “المَزید فی مُتصل الاسانید” حدیث

سبق 23: “مضطرب” حدیث

سبق 24: “مُصحَّف” حدیث

سبق 25: “شاذ” اور “محفوظ” حدیث

یونٹ 5: مقبول و مردود دونوں قسم کی احادیث پر مشتمل تقسیم

سبق 1: نسبت کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم

سبق 2: “مَرفُوع” حدیث

سبق 3: “مَوقُوف” حدیث

سبق 4: “مَقطُوع” حدیث

سبق 5: “مُسنَد” حدیث

سبق 6: “مُتَصِّل” حدیث

سبق 7: زیادات الثقات

سبق 8: اعتبار، متابع، شاھد

حصہ سوم: جرح و تعدیل

یونٹ 6: راوی اور اسے قبول کرنے کی شرائط

سبق 1: جرح و تعدیل کا تعارف

سبق 2: راوی کے قابل اعتماد ہونے کی شرائط

سبق 3: جرح و تعدیل سے متعلق چند اہم مباحث

یونٹ 7: جرح و تعدیل سے متعلق تصانیف

سبق 1: جرح و تعدیل سے متعلق تصانیف

یونٹ 8: جرح و تعدیل کے درجات

(Levels)

سبق 1: جرح و تعدیل کے بارہ درجات

سبق 2: تعدیل کے مراتب اور اس سے متعلق الفاظ

سبق 3: جرح کے مراتب اور اس سے متعلق الفاظ

حصہ چہارم: روایت، اس کے آداب اور اس کے ضبط کا طریق کار

یونٹ 9: ضبط روایت

سبق 1: حدیث کو حاصل، محفوظ اور روایت کرنے کا طریق کار

سبق 2: حدیث کو حاصل کرنے کے مختلف طریقے

سبق 3: کتابت حدیث اور حدیث سے متعلق تصانیف کا طریق کار

سبق 4: روایت حدیث کا طریق کار

سبق 5: غریب الحدیث

یونٹ 10: آداب روایت

سبق 1: محدث کے لئے مقرر آداب

سبق 2: حدیث کے طالب علم کے لئے مقرر آداب

حصہ پنجم: اسناد اور اس سے متعلقہ علوم

یونٹ 11: اسناد سے متعلق اہم نکات

سبق 1: عالی اور نازل اسناد

سبق 2: مسلسل

سبق 3: اکابر کی اصاغر سے حدیث کی روایت

سبق 4: باپ کا بیٹے سے حصول حدیث

سبق 5: بیٹے کا باپ سے حصول حدیث

سبق 6: مُدَبَّج اور روایت الاَقران

سبق 7: سابق اور لاحق

یونٹ 12: اسماء الرجال (راویوں کا علم)

سبق 1: صحابہ کرام

سبق 2: تابعین

سبق 3: راویوں میں رشتہ

سبق 4: متفق اور مفترق راوی

سبق 5: مُوتلِف اور مختلِف راوی

سبق 6: متشابہ راوی

سبق 7: مُہمَل راوی

سبق 8: مبُہَم راوی

سبق 9: وُحدان راوی

سبق 10: راویوں کے مختلف نام، القاب اور کنیتیں

سبق 11: راویوں کے منفرد نام، صفات اور کنیت

سبق 12: کنیت سے مشہور راویوں کے نام

سبق 13: القاب

سبق 14: اپنے والد کے علاوہ کسی اور سے منسوب راوی

سبق 15: کسی علاقے، جنگ یا پیشے سے منسوب راوی

سبق 16: راویوں سے متعلق اہم تاریخیں

سبق 17: حادثے کا شکار ہو جانے والے ثقہ راوی

سبق 18: علماء اور راویوں کے طبقات

سبق 19: آزاد کردہ غلام

سبق 20: ثقہ اور ضعیف راوی

سبق 21: راویوں کے ممالک اور شہر

حصہ ششم: حدیث کو پرکھنےکا درایتی معیار

یونٹ 13: درایت حدیث

سبق 1: درایت حدیث کا تعارف

سبق 2: شاذ حدیث

سبق 3: علم و عقل کے مسلمات کے خلاف حدیث

سبق 4: حدیث کا سیاق و سباق اور موقع محل

سبق 5: حدیث کو تمام متعلقہ آیات و احادیث کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی اہمیت

سبق 6: موضوع حدیث کی پہچان

مصادر اور مراجع

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1RFxyLpsICcqDWrb5Zh60UuY3JsUmsnGI

(نوٹ: اس کتاب کے یونٹ 2-12 ڈاکٹر محمود طحان کی “تیسیر مصطلح الحدیث” سے ماخوذ ہیں۔)

تعارف کورس

دیباچہ

پچھلی صدی میں جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے بعض افراد کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث ہم تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی ہیں۔ اس غلط فہمی کے پھیلنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کو پھیلانے والے حضرات اعلی تعلیم یافتہ اور دور جدید کے اسلوب بیان سے اچھی طرح واقف تھے۔ اہل علم نے اس نظریے کی تردید میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جو اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

          میرے نقطہ نظر کے مطابق اس ضمن میں ایک بہت ہی اہم کام کرنا باقی تھا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کو جانچنے اور پرکھنے کے طریق کار کو دور جدید کے اسلوب میں تعلیم یافتہ طبقے تک پہنچا دیا جائے۔ اگر یہ کام کر دیا جائے تو علم و عقل کی بنیاد پر سوچنے والا ہر غیر متعصب شخص باآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث ہم تک نہایت ہی قابل اعتماد ذرائع سے پہنچی ہیں اور اس ضمن میں ہمارے محدثین نے جو خدمات انجام دی ہیں ان کا معیار نہایت ہی بلند ہے۔

          اس کام کو کرنے کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ اصول حدیث سے متعلق جدید انداز میں ایک کتاب لکھ دی جاتی اور دوسری صورت یہ تھی کہ اس فن کا جو بہت بڑا علمی ذخیرہ عربی زبان میں موجود ہے اسے جدید طرز کی اردو زبان میں منتقل کر دیا جاتا۔ میں نے دوسری صورت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ خدمت انجام دینے کی کوشش کی ہے۔

          اس خدمت کے لئے میں نے پہلے تو امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی “نزهة النظر في شرح نخبة الفكر” کا انتخاب کیا لیکن اس کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوا کہ اس کتاب کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کے لئے کتاب میں کافی تصرفات کرنا ہوں گے۔ اس کے برعکس دور جدید ہی کے ایک عرب عالم ڈاکٹر محمود طحان کی کتاب “تیسیر مصطلح الحدیث” پہلے ہی دور جدید کے اسلوب میں لکھی گئی ہے تو کیوں نہ اسی کتاب کے مندرجات کو آسان اردو میں پیش کر دیا جائے۔

          یہ کتاب بہت سے دینی مدارس کے نصاب میں اصول حدیث کی ابتدائی کتاب کے طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمود طحان کا تعلق شام سے ہے اور ان کی ساری عمر سعودی عرب اور کویت کی یونیورسٹیوں میں حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی تدریس میں گزری ہے۔ اس کتاب میں ہم نے آزاد ترجمانی کا اصول اختیار کر کے مصنف کی کتاب کو آسان انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں پہلے اور آخری یونٹ کا اضافہ ہم نے خود کیا ہے۔ پہلی یونٹ کے اضافے کی وجہ یہ تھی کہ علم حدیث کا تعارف کروا دیا جائے اور اس پر پیدا ہونے والے کچھ سوالات کا جائزہ لیا جائے ۔ آخری یونٹ کے اضافے کی وجہ یہ تھی کہ فاضل مصنف نے درایت کے اصولوں کو اپنی کتاب میں شامل نہیں کیا۔ درایت کے اصولوں کی اہمیت روایت کے اصولوں سے  اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے ، جس کی وجہ سے مجھے اس حصے کا اضافہ کرنا پڑا۔

          اگرچہ اس کتاب کا اردو ترجمہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ اس ترجمے میں فاضل مترجم نے مصنف کی تحریر کو من و عن اردو میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ترجمے میں بہت سے مقامات پر ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو دینی مدارس کے طلباء کے لئے تو یقیناً قابل فہم ہیں لیکن ایک عام تعلیم یافتہ قاری کے لئے انہیں سمجھنا مشکل ہو گا۔

          اس کے علاوہ مجھے یہ ضرورت بھی محسوس ہوئی کہ بہت سے مقامات پر قارئین کو کچھ نکات کی وضاحت کی ضرورت درکار ہو گی۔ دینی مدارس کے طلباء کے لئے تو یہ وضاحت ان کے اساتذہ کتاب کی تدریس کے دوران ہی کرتے رہتے ہیں لیکن پورے پس منظر سے عدم واقفیت کے باعث ایک جدید تعلیم یافتہ قاری کے لئے اس وضاحت کے بغیر پوری بات کو سمجھنا ممکن نہ ہو گا۔ اس وجہ سے ترجمے کے ساتھ ساتھ بہت سے مقامات پر میں نے اضافی معلومات فراہم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

کتاب کو اردو اسلوب میں ڈھالنے کے لئے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔ یہ کوشش کی گئی ہے کہ فنی اصطلاحات میں وہیں گفتگو کی جائے جہاں قاری اس اصطلاح سے پہلے ہی واقف ہو چکا ہے ورنہ اس بات کو سادہ زبان میں بیان کیا جائے۔

۔۔۔۔۔ مصنف نے کتاب کی ترتیب کے لئے ‘باب’ اور ‘فصل’ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ چونکہ فصل کا لفظ جدید کتب میں اب کم ہی استعمال کیا جاتا ہے، اس وجہ سے میں نے ‘باب’ کو ‘حصہ’ اور ‘فصل’ کو ‘یونٹ’ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔ مختلف مباحث کو نمبروار درج کر دیا گیا ہے۔ یونٹ 3 میں کچھ مباحث کی ترتیب میں معمولی سی تبدیلی کی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔ قارئین کو علوم الحدیث سے جدید انداز میں روشناس کروانے کے لئے شروع میں ایک یونٹ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس یونٹ میں تدوین حدیث کی تاریخ، حدیث سے متعلق اہم سوالات کے جوابات، اصول حدیث کی مشہور کتب کا تعارف اور فن حدیث کی بنیادی اصطلاحات کو شامل کر دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔ مصنف نے چونکہ “درایت حدیث” سے متعلق مواد اپنی کتاب میں درج نہ کیا تھا، اس وجہ سے ضمیمے کے طور پر خطیب بغدادی کی کتاب “اصول کفایۃ”، جلال الدین سیوطی کی کتاب “تدریب الراوی” اور حافظ ابن قیم کی “منار المنیف” سے متعلقہ مباحث نقل کر دیے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔ فن حدیث کے بعض مباحث کی توضیح کے لئے ڈائیا گرامز سے مدد لی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔ لفظی ترجمے کی بجائے آزاد ترجمانی کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔

          اس کوشش میں میں اپنے استاذ محمد عزیر شمس صاحب کا بہت مشکور ہوں جن کی راہنمائی مجھے اس کام کے دوران حاصل رہی۔  قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے تاثرات اور تنقید بلا جھجک مجھے بھیجیں تاکہ اس کتاب کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اسی طرح جن قارئین کے ذہن میں علم حدیث سے متعلق کوئی بھی سوال موجود ہو، وہ بلاتکلف مجھے لکھ بھیجیں۔ انشاء اللہ میں جلد از جلد اس کا اپنے ناقص علم کی حد تک جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

محمد مبشر نذیر

mubashirnazir100@gmail.com

مارچ 2008

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ آپ سے محبت کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آپ کا ذکر خیر پڑھا اور سنا جائے ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی کام ہے تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا اور خود کو آپ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا، محبت رسول کا ایک ایسا تقاضا ہے جسے پورا کیے بغیر محبت کا ہر دعوی بے اصل ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بیٹا اپنے باپ کی جی بھر کر نافرمانی کرے، لیکن ساتھ ہی اس کی محبت کا دم بھی بھرتا رہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین کا بنیادی ماخذ ہیں۔ آپ نے یہ دین ہمیں دو صورتوں میں دیا ہے: ایک قرآن مجید اور دوسرے آپ کی سنت۔ قرآن مجید اور اس سے متعلقہ علوم کا مطالعہ ہم “علوم القرآن” کے مضمون میں کر رہے ہیں جبکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت  کا مطالعہ “علوم الحدیث” سیریز کا حصہ ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور  عمل کے ریکارڈ کا نام حدیث ہے۔ صرف یہی وہ ذریعہ ہے جس کی مدد سے ہمیں علوم نبوت تک رسائی ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو کیسے سمجھا اور پھر اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک کیسے پہنچایا؟ ان صحابہ کے ذہن میں جو سوالات پیدا ہوئے، ان کا آپ نے کیا جواب دیا؟ زندگی کی عملی صورتوں پر آپ نے  دینی احکام کا اطلاق کیسے کیا؟ یہ سب تفصیلات ہمیں حدیث کے ذریعے ملتی ہیں۔

حدیث اس رپورٹ کو کہتے ہیں جس میں کسی صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد، عمل یا زندگی کے کسی واقعے کو بیان کیا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان علوم نبوت کو مرتب کر کے انہیں اگلی نسلوں تک منتقل کیا جنہوں نے بلا کم و کاست انہیں کتابوں کی صورت میں مرتب کیا۔   عام طور پر یہ رپورٹس بہت مختصر ہوتی ہیں اور محض تین چار لائنوں میں بات مکمل ہو جاتی ہے۔ استثنائی طور پر بعض احادیث طویل ہوتی ہیں۔ ان علوم نبوت کا مطالعہ “علوم الحدیث پروگرام” میں کیا جائے  گا۔

علوم اسلامیہ پروگرام کے دیگر کورسز کی طرح  اس پروگرام کے مخاطب وہی لوگ ہیں جن میں مطالعے کا زبردست رجحان پایا جاتا ہو۔  اگر آپ نے اپنی زندگی کا مقصد اللہ کے دین کی علمی خدمت کو بنا لیا ہے تو پھر آپ کو کتابوں سے تعلق قائم کرنا ہو گا۔  مطالعے کا ذوق اپنے اندر پروان چڑھانا ہو گا،  ذہن کو تجزیاتی  مطالعے کا عادی بنانا ہو گا اور کھلے ذہن کے ساتھ دیگر لوگوں کے علمی کام کا تنقیدی مطالعہ کرنا ہو گا۔ اس کا اجر آپ کو آخرت میں اللہ تعالی کی رضا کی صورت میں ضرور ملے گا اور جنت میں آپ کا مقام عام لوگوں سے کہیں بلند ہو گا، انشاء اللہ۔

علوم الحدیث پروگرام کا انداز تعلیم

دین کے ایسے طالب علم جو علم اور ذہانت کے اعتبار سے مختلف  سطح پر ہوں، ان کی ضروریات مختلف ہوتی ہے۔  طالب علموں میں اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پروگرام کو آٹھ ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے:

پہلا ماڈیول: یہ بالکل ابتدائی درجے کے طلباء کے لئے ہے۔ اس میں ہم احادیث نبوی کے کچھ منتخبات کا مطالعہ کر کے ان پر عملی کا کریں گے۔ اس ماڈیول کے اختتام پر ہم  اس پیغام کی ایک جھلک دیکھ چکے ہوں گے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے تھے۔ اسی ماڈیول میں ہم یہ کوشش کریں گے کہ اپنا تزکیہ نفس کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ آئیڈیل کے مطابق ڈھال سکیں۔ اس ماڈیول کو محمد جاوید اختر صاحب نے مرتب کیا ہے جو علوم دینیہ کے فہم اور اپنی عملی زندگی میں ان کا اطلاق کرنے میں غیر معمولی  صلاحیت کے حامل ہیں۔

دوسرا ماڈیول: یہ درمیانے درجے کے طلباء کے لئے ہے۔ اس میں ہم علوم الحدیث کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔ احادیث نبوی میں کچھ متعصب اور عاقبت نا اندیش لوگوں نے  جعلی احادیث کی ملاوٹ کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علوم حدیث کے  ماہرین نے غیر معمولی محنت کر کے ایک ایسا فن تشکیل دیا ہے، جس کی بدولت صحیح (قابل اعتماد)، ضعیف  (کمزور اور ناقابل اعتماد) اور موضوع  (جعلی) احادیث میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ اس ماڈیول کے اختتام پر ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ  ماہرین حدیث کے کیے ہوئے اس غیر معمولی  کام کو سمجھ سکیں۔

تیسرا ماڈیول: یہ ماڈیول ان طلباء کے لئے ہے جو علوم الحدیث میں گہری بصیرت حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب احادیث کے پورے ذخیرے میں سے ایک پچاس احادیث کا ایک سیمپل (Sample)لے کر علوم الحدیث کا اس پر اطلاق کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ  اصلی اور جعلی احادیث کی جانچ پڑتال کیسے کی جاتی ہے؟  روایت اور درایت کے اصولوں کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ اور کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیےجاتے ہیں؟ اس ماڈیول کے اختتام پر انشاء اللہ ہم اس علوم الحدیث کا عملی اطلاق کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

چوتھا ماڈیول: مشتمل اس سیریز میں ہم حدیث کی اہم کتب کا مطالعہ کریں گے۔ اس کا مقصد یہ ہو گا کہ حدیث کی اہم  کتب میں کیا کیا احادیث بیان ہوئی ہیں؟ ہزاروں کی تعداد میں احادیث پر ہم علوم الحدیث کا اطلاق کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم، فہم، فقہ اور حکمت  سے فیض یاب ہونے کی کوشش کریں گے۔ اس ماڈیول میں انشاء اللہ ہم صحیح بخاری، مسلم، موطاء امام مالک، ترمذی، ابو داؤد،  نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد ، ابن حبان،  ابن خزیمہ، مستدرک حاکم اور احادیث کے دیگر مجموعوں میں موجود منتخب احادیث  کا مطالعہ کریں گے اور اس کے ساتھ یہ دیکھیں گے کہ مشہور شارحین حدیث نے ان کی کیا تشریح کی ہے؟

علوم الحدیث پروگرام کے مقاصد

اس پروگرام کے مقاصد یہ ہیں۔

۔۔۔۔۔ احادیث نبوی میں بیان کردہ علوم کا تفصیلی مطالعہ

۔۔۔۔۔ اپنی شخصیت اور کردار کو سنت نبوی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش

۔۔۔۔۔ حدیث کی جانچ پڑتال کے فن (روایت اور درایت) سے واقفیت  اور اس کا بھرپور اطلاق

۔۔۔۔۔ حدیث کی مختلف شروح کا تقابلی مطالعہ

۔۔۔۔۔ احادیث سے متعلق  اہم علمی، عقلی اور عملی مسائل کا تعارف

·      حدیث کی اہم کتب کے اسالیب اور منہج (Methodology) کا تقابلی مطالعہ

·      اس بات کا فہم کہ مختلف دینی، فقہی اور مسلکی پس منظر سے تعلق رکھنے والے شارحین (حدیث کی تشریح لکھنے والے) حدیث کو کیسے سمجھتے ہیں؟

مطالعے کا طریق کار

علم التعلیم کے میدان میں ہونے والی مختلف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عام ذہانت کا حامل انسان جو کچھ سنتا  ہے ، وہ اس کا 30 سے 40 فیصد یاد رکھتا ہے؛ جو کچھ وہ دیکھتا ہے، اس کا 60 تا 70فیصد اس کے ذہن میں راسخ ہو جاتا ہے اور جو کچھ وہ عملاً کرتا ہے، اس کا  80 سے 90 فیصد وہ سیکھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس پروگرام میں ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس میں طالب علم کو احادیث نبوی کے ایک منتخب نصاب پر عملی کام کرنا پڑے۔  اس عملی کام کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس کی روح کی گہرائیوں میں اترتی چلی جائیں اور قرآن و سنت کا پیغام اس کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے لگے۔

ہر سبق میں چند احادیث مطالعہ کے لیے گئی ہیں ۔ آپ نے ان کا مطالعہ کرنے کے بعد ان پر کچھ عملی کام کرنا ہے۔  ہم نے کوشش کی ہے کہ ہر سبق میں دی گئی احادیث سبق کے ٹائٹل سے مطابقت رکھتی ہوں تاہم پھر بھی ایسا ہوا ہے کہ ہر سبق میں بعض احادیث ایسی آ گئی ہیں جو ٹائٹل سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایسا ایک خاص مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ حدیث کی کتب میں بہت مرتبہ ایسا ہو جاتا ہے کہ کسی باب میں بیان کردہ حدیث کی مطابقت  باب کے موضوع سے  معلوم نہیں ہو پاتی۔ اس کورس کے دوران آپ کو کتب حدیث کے اس اسلوب سے واقفیت حاصل ہو جائے گی۔

یہ کام اسائن منٹس کے اندر دیا گیا ہے۔ سہولت کے لیے اسائن منٹس کو یہ ٹائٹل دیے گئے ہیں۔

·      اپنی عقل و دانش کو استعمال کیجیے:  ان مشقوں میں احادیث نبوی کے عقلی اور علمی پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ آپ ایسی ہر اسائن منٹ میں سوچنے اور سمجھنے کا ایک چھوٹا سا پراجیکٹ مکمل کریں گے۔

·      عملی کام کیجیے: ان مشقوں میں آپ تجربہ کر کے کچھ سیکھیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں یہ تجربہ پہلے ہی حاصل کر چکے ہوں یا پھر آپ کو نیا تجربہ کرنا پڑے۔ اس طریقے سے آپ عملی مشق سے احادیث نبویہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

·      تحقیق و جستجو: ان مشقوں میں احادیث سے متعلق آپ کو کچھ معلومات تلاش کرنے کا کہا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے آپ انٹرنیٹ یا کسی لائبریری سے معلومات اکٹھی کریں گے۔

·      علوم الحدیث کارنر: علوم الحدیث سے متعلق بنیادی نوعیت کی معلومات اس سیکشن میں فراہم کی جائیں گی۔ آپ نے ان معلومات کو ذہن نشین کرنا ہو گا۔ انشاء اللہ ماڈیول HS02 میں آپ تفصیل کے ساتھ ان علوم کا مطالعہ کریں گے۔

·      کیس اسٹڈی: ان مشقوں میں آپ کو انسانوں کی حقیقی زندگی کا کوئی مسئلہ ایک کیس اسٹڈی کی صورت میں دیا جائے گا جس کا حل آپ کو قرآن و حدیث میں غور کر کے نکالنا ہو گا۔

·      فیلڈ اسٹڈی: ان مشقوں میں آپ سے کہا جائے گا کہ آپ میدان عمل میں اتر کر کچھ عملی کام کریں تاکہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل یا ان سے انحراف کے نتائج آپ خود ملاحظہ کر سکیں۔

ایڈمیشن کی شرائط اور کورس کا طریقہ کار

اس کورس کا مقصد آپ کو ذاتی سطح پر (Personalized) تعلیمی خدمت فراہم کرنا ہے۔  ایڈمیشن کا طریقہ کار بالکل سادہ ہے۔ متعلقہ لنک سے رجسٹریشن فارم ڈاؤن لوڈ کر کے mubashirnazir100@gmail.com پر بھیج دیجیے۔ آپ کو کورس بکس اور متعلقہ استاذ کا ای میل ایڈریس فراہم کر دیا جائے گا۔ روزانہ بنیادوں پر آپ کو ایک سبق کا از خود مطالعہ کرنا ہو گا اور اس ضمن میں جو سوالات پیدا ہوں، انہیں بذریعہ ای میل اپنے استاذ کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔  اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آپ بذریعہ Skype یا Gmail آن لائن رابطہ کر کے بھی اپنے سوالات ڈسکس کر سکیں گے۔ آپ کا استاذ سے ون ٹو ون تعلق اس کورس میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہو گا۔

ہر ہفتے، آپ کو ایک پراگریس رپورٹ بھیجنا ہو گی جس میں اس ہفتے میں کیے گئے مطالعے کی تفاصیل فراہم کرنا ہوں گی۔ جیسے ہی آپ ایک ماڈیول ختم کریں گے، ایک مختصر سا امتحان لیا جائے گا جس کے بعد آپ اگلے ماڈیول کا آغاز کریں گے۔

پروگرام کی فیس

اس پروگرام میں شرکت کی فیس یہ ہے کہ آپ جو رقم ہر ماہ آسانی سے نکال سکیں، وہ آپ اپنے قریب کسی ایسے ضرورت مند شخص کو ادا کریں گے، جو کہ پیشہ ور بھکاری نہ ہو بلکہ محنت و مشقت کرتا ہو مگر اس کے اخراجات پورے نہ ہو پاتے ہوں۔ اپنی پراگریس رپورٹ میں ہر ماہ آپ یہ کنفرمیشن دیں گے  کہ آپ نے فیس ادا کر دی ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو قرآن مجید  اور معارف نبوی کا صحیح فہم  عطا فرمائے  اور ان کی تعلیمات کو ہماری شخصیت کا حصہ بنائے۔

محمد مبشر نذیر

جمادی الاخری 1433/ مئی 2012

اگر آپ سوال جواب کے لیے آن لائن استاذ کی بلا معاوضہ خدمات سے استفادہ کرنا چاہیں تو رجسٹریشن فارم حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

Registration-Form-ISP

علوم الحدیث: ایک تعارف
Scroll to top