مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی

لوگوں کو نفسیاتی غلام بنانے سے متعلق اسلام کی تعلیمات کیا ہیں؟ مسلم تاریخ میں نفسیاتی غلامی کا ارتقاء کیسے  ہوا؟ موجودہ دور میں نفسیاتی غلام کیسے بنائے جاتے ہیں؟ اس صورتحال کا سدباب کیسے کیا جائے ؟

اگر آپ کے ذہن میں اس کتاب سے متعلق کوئی سوال ہو یا آپ اپنے تاثرات شائع کروانا چاہیں تو بلا تکلف پر ای میل کیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

دیباچہ

باب 1: اسلام اور نفسیاتی آزادی

نفسیاتی غلامی: اسلام سے پہلے

فکری آزادی  کے معاملے میں اسلام کی اصلاحات

غور و فکر کی قرآنی دعوت

آزادی اظہار سے متعلق رسول اللہ کا طرز عمل

آزادی اظہار سے متعلق خلفاء راشدین کا طرز عمل

باب 2: مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء (Intellectual Slavery)

اندھی تقلید

استاذ و شاگرد اور مرشد و مرید کے نئے تعلقات

خلاصہ بحث

باب 3: موجودہ دور میں نفسیاتی غلامی

فکری غلام بنائے جانے کا طریق کار

مذہبی راہنما کو مقدس بنائے جانے کی مہم

مقربین خاص کی ٹیم کی تیاری

مذہبی راہنماؤں کا ظاہری مشن اور خفیہ ایجنڈا

اپنے پیغام کو خدا کا پیغام بنا کر پیش کرنے کا عمل

علم دین پر اجارہ داری

عقل کے استعمال کی حوصلہ شکنی

اختلاف رائے کی مخالفت

“مخالفین” کی تخلیق

برین واشنگ کا عملی نظام

تربیتی نشستیں

خاص مبلغین کے بیانات

مکمل معلومات کی عدم فراہمی

سماجی ری انفورسمنٹ اور جذباتی بلیک میل

(Social Reinforcement)

عقل کی بجائے جذباتیت کو اپیل

اہم لوگوں سے خصوصی ملاقات

وفاداری کا امتحان

نام کی تبدیلی

سوالات کی حوصلہ شکنی

معاشرے سے قطع تعلق

مخصوص وضع قطع

برین واشنگ کے لئے مذہب کا استعمال

خدا اور بندے کے درمیان واسطے کا تصور

اطاعت امیر کی احادیث کا استعمال

جنت اور جہنم کے عقیدے کا استعمال

اعتراف اور توبہ

روحانی تجربات

نفسیاتی غلامی کی اگلی نسلوں کو منتقلی

باب 4: نفسیاتی غلامی کا سدباب

آزادی فکر کی تحریک

اسلامی اور مغربی آزادی فکر میں فرق

آزادی فکر کے لئے درکار عملی اقدامات

مخلص اور مفاد پرست مذہبی راہنماؤں میں فرق کرنے کی صلاحیت

نظام تعلیم میں درکار اصلاحات

عربی کی تعلیم

قرآن کو دینی تعلیم کا محور بنانے کی ضرورت

حدیث کی تعلیم میں نقد حدیث اور سیاق و سباق کی اہمیت

تقابلی مطالعے کا طریق تعلیم

جدید دنیاوی علوم کی تعلیم

دینی تعلیم کی آن لائن سرٹیفیکیشن کا نظام

ڈی کنڈیشنگ کا عمل

ڈی کنڈیشنگ: نفسیاتی غلام کی آزادی کا عمل

ڈی کنڈیشنگ سے متعلق داعی حق کا کردار

ڈی کنڈیشنگ کے بعد کے نفسیاتی اتار چڑھاؤ

اگر آپ کے ذہن میں اس کتاب سے متعلق کوئی سوال ہو یا آپ اپنے تاثرات شائع کروانا چاہیں تو بلا تکلف پر ای میل کیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

Comments on “Intellectual Slavery in the Muslim World”

السلام علیکم

سر سوری کافی دن سے میل نہیں کر سکا کیونکہ میرا نیٹ کا پیکج ختم ہو گیا تھا۔ سر آپ کی کتابیں حقیقت سے انتہائی قریب ہیں چاہے آپ کی کتاب “اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں” دیکھ لیں یا “مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی” یا کوئی بھی دیکھ لیں۔ سب ہماری معاشرتی  زندگی کے نہایت قریب  ہیں۔ خاص کر ہمارے گھرانے جیسے مڈل کلاس گھرانوں کی حقیقت ہے۔ اور آپ یہ انتہائی اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہمارے جیسی غلام ذہنوں کو جگانے کا کام بہت مشکل ہے اور یہ بہت لمبا سفر ہے کیونکہ صدیوں سے ہماری گرد لپٹی آ رہی غلامی کی زنجیریں اتارنا آسان نہین ہے۔ اس نیک میں اللہ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی مدد فرمائے۔ آپ کے مشن کو آسان بنائے اور آپ کو  اجر دے۔ آمین۔

سر آپ اور لکھیے، ضرور لکھیے کیونکہ آپ کے لکھنے اور سمجھانے میں وہ انداز ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ او کے سر اب اجازت دیجیے۔ کافی رات بھی ہو رہی ہے۔ صبح جلدی اٹھنا ہوتا ہے کیونکہ ہماری ڈیوٹی صبح 5:45  پر شروع ہوتی ہے۔ اللہ حافظ

عبدالقدیر

ریاض، سعودی عرب

جون 2010

ڈئیر عبدالقدیر صاحب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

تاخیر کے لئے بہت معذرت۔ آپ کی محبت کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ ذہنی غلامی کی زنجیریں کھلنے کا سفر بہت طویل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزار میل کے سفر کا آغاز بھی ایک قدم سے ہی ہوتا ہے۔ الحمد للہ اس معاملے میں میں نے پہلا قدم نہیں اٹھایا بلکہ یہ پراسیس پچھلے دو سو برس سے جاری ہے۔ انشاء اللہ آگے بھی جاری رہے گا اور یہ زنجیریں کھلتی رہیں گی۔

دعاؤں کی درخواست ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
Scroll to top