مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی پر تبصرہ

السلام علیکم

سر سوری کافی دن سے میل نہیں کر سکا کیونکہ میرا نیٹ کا پیکج ختم ہو گیا تھا۔ سر آپ کی کتابیں حقیقت سے انتہائی قریب ہیں چاہے آپ کی کتاب “اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں” دیکھ لیں یا “مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی” یا کوئی بھی دیکھ لیں۔ سب ہماری معاشرتی  زندگی کے نہایت قریب  ہیں۔ خاص کر ہمارے گھرانے جیسے مڈل کلاس گھرانوں کی حقیقت ہے۔ اور آپ یہ انتہائی اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہمارے جیسی غلام ذہنوں کو جگانے کا کام بہت مشکل ہے اور یہ بہت لمبا سفر ہے کیونکہ صدیوں سے ہماری گرد لپٹی آ رہی غلامی کی زنجیریں اتارنا آسان نہین ہے۔ اس نیک میں اللہ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی مدد فرمائے۔ آپ کے مشن کو آسان بنائے اور آپ کو  اجر دے۔ آمین۔

سر آپ اور لکھیے، ضرور لکھیے کیونکہ آپ کے لکھنے اور سمجھانے میں وہ انداز ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ او کے سر اب اجازت دیجیے۔ کافی رات بھی ہو رہی ہے۔ صبح جلدی اٹھنا ہوتا ہے کیونکہ ہماری ڈیوٹی صبح 5:45  پر شروع ہوتی ہے۔ اللہ حافظ

عبدالقدیر

ریاض، سعودی عرب

جون 2010

ڈئیر عبدالقدیر صاحب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

تاخیر کے لئے بہت معذرت۔ آپ کی محبت کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ ذہنی غلامی کی زنجیریں کھلنے کا سفر بہت طویل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزار میل کے سفر کا آغاز بھی ایک قدم سے ہی ہوتا ہے۔ الحمد للہ اس معاملے میں میں نے پہلا قدم نہیں اٹھایا بلکہ یہ پراسیس پچھلے دو سو برس سے جاری ہے۔ انشاء اللہ آگے بھی جاری رہے گا اور یہ زنجیریں کھلتی رہیں گی۔

دعاؤں کی درخواست ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی پر تبصرہ
Scroll to top