اللہ تعالی کا نور

السلام علیکم مبشر بھائی

قرآن کی اس آیت کے حوالے سے سوال تھا۔

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کا کیا مفہوم ہے؟ یہاں نور سے مراد کیا اللہ تعالی خود ہے یا اللہ کی ہدایت ہے۔ تفسیری اسدی میں ہے کہ اللہ حسی اور معنوی طور سے آسمان و زمین کا نور ہے۔ اللہ خود نور ہے، اس کا حجاب نور ہے،۔ اگر وہ اس کے حجاب کو ہٹا دے تو ساری مخلوق جل کر راکھ کر دے۔

امید ہے کہ آپ کا جواب جلد آئے گا ۔

جزاک اللہ خیرا

خلیل احمد

ڈئیر خلیل بھائی

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

اگر آپ اردو میں لکھ سکیں تو نوازش ہو گی کیونکہ میرے لیے رومن اردو میں پڑھنا مشکل ہے۔

آیت کریمہ میں یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ تعالی معاذ اللہ نور کے مٹیریل سے بنا ہوا ہے بلکہ ایک تمثیل بیان کی گئی ہے کہ جیسے ایک چراغ ہوتا ہے جو کہ شیشے کے کیس میں بند ہو تو اس کی روشنی ہر جانب پھیلتی ہے اور اپنے ماحول کو منور کرتی ہے۔ ویسے ہی اللہ تعالی کا نور ہدایت پھیلتا ہے۔ یہاں معاذ اللہ، اللہ تعالی کی ہستی کا مٹیریل زیر بحث نہیں ہے۔

اللہ تعالی کی ہستی ہماری عقل کی حدود سے ماوراء ہے اور ہمارے اسلاف کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی ہستی میں غور نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ ہم اس کی ہستی کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالی کی ہستی ایک نور ہے۔ اسے تو سب ہی مانتے ہیں لیکن اس نور کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے اور نہ ہی ہم روشنی پر اسے قیاس کر سکتے ہیں کیونکہ لیس کمثلہ شییء، کوئی چیز اس کی مانند نہیں ہے۔ آسمان و زمین کا نور ہونے سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ آسمان و زمین اسی کی قدرت سے منور ہیں اور وہی سب کو ہدایت دیتا ہے۔ اللہ تعالی نور ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ اس کے نور کو ہم دنیا کی کسی روشنی سے تشبیہ نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ اس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے۔

بہت سے مفسرین کا یہ موقف ہے کہ اللہ تعالی نور ہدایت ہے۔ مجھے یہی رائے درست محسوس ہوتی ہے کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق و سباق اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہاں اللہ تعالی کے نور سے مراد ہدایت کا نور ہے۔ مکمل سیاق یہ ہے:

وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَمَثَلاً مِنْ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ (34) اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونِةٍ لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (35)

(اے نبی!) ہم نے آپ کی جانب روشن آیات نازل کی ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں بھی جو آپ سے پہلے تھے، پرہیز گاروں کے لیے ایک نصیحت۔ اللہ آسمان و زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو، وہ چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو گویا کہ وہ چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے جو کہ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہے۔ یہ نہ تو مشرقی ہے اور نہ مغربی، قریب ہے کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے۔ یہ نور کے اوپر ایک اور نور ہے۔ اللہ اپنے نور سے جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (سورۃ النور)

ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جانب اشارہ فرمایا ہے۔

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وأبو كريب. قالا: حدثنا أبو معاوية. حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة، عن أبي عبيدة، عن أبي موسى، قال:  قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس كلمات. فقال: “إن الله عز وجل لا ينام ولا ينبغي له أن ينام. يخفض القسط ويرفعه. يرفع إليه عمل الليل قبل عمل النهار. وعمل النهار قبل عمل الليل. حجابه النور. (وفي رواية أبي بكر: النار) لو كشفه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه”.

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  ہمارے مابین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کو پانچ باتیں ارشاد فرمائیں: یقیناً اللہ عزوجل نہ تو سوتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی شان کے لائق ہے کہ وہ سوئے۔ وہی میزان اعمال کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے۔ رات کا عمل دن سے پہلے اور دن کا عمل رات سے پہلے اس کی جانب بلند کیا جاتا ہے۔ اس کا حجاب نور ہے (ابو بکر کی روایت میں آگ کا لفظ ہے)۔ اگر وہ اس کا پردہ ہٹا دے، تو اس کے وجہ مبارک کی شعاعیں اس کی مخلوق کو حد نگاہ تک جلا دیں۔ (مسلم، کتاب الایمان، حدیث 293)

اللہ تعالی کے حجاب نور کی کیفیت کیا ہو گی؟ اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ ہم اللہ تعالی کی ہستی اور اس کے معاملات کا ادراک نہیں کر سکتے۔ ایسی بحثیں محض ذہن کو پراگندہ کرتی ہیں اور فکر کو الجھاتی ہیں۔ اس کی بجائے ہمیں اللہ تعالی کی قدرت، اس کے کاموں اور اس کی نعمتوں پر غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ ہمارے دل میں اس کی محبت پیدا ہو۔

امید ہے کہ بات واضح ہو گئی ہو گی۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply as soon as possible if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com.

اللہ تعالی کا نور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top