تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل

اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِنْكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ۔ (البقرۃ 2: 151)

جیسا کہ ہم نے تمہارے درمیان خود تمہی میں سے ایک رسول کو بھیجا ہے جو تمہیں ہماری آیات سناتے ہیں ، تمہاری شخصیت کو (عیوب سے) پاک کرتے ہیں، اس کے لئے تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور تمہیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے۔

اللہ تعالی نے انسانوں کو ہدایت عطا کرنے کے لئے ان میں اپنے رسول بھیجے۔ یہ رسول جو مشن لے کر آتے تھے وہ قرآن کی اصطلاح میں “تزکیہ نفس” یعنی تعمیر شخصیت کہلاتا ہے۔ تزکیہ نفس کا معنی یہ ہے کہ انسانی شخصیت کو نظریاتی، اخلاقی اور عملی آلائشوں سے پاک کر کے اس میں ایسی اسپرٹ پیدا کر دی جائے کہ اس کی پوری شخصیت تبدیل ہو کر ایک اچھے انسان میں بدل جائے۔ وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی بجائے ان کے لئے نفع بخش بن جائے۔ اس تبدیلی شخصیت کے لئے جو لائحہ عمل قرآن نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے۔

  • اللہ کی آیتوں کو سمجھ کر ان کی تلاوت کر کے انسان کو اس کے آگے جھکنے اور اس کا فرمانبردار بندہ بننے کے لئے اسے تیار کیا جائے۔ قرآن مجید کو صرف پڑھ لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسے سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنا ضروری ہے۔
  • انسان کی شخصیت کو آلائشوں سے پاک کرنے کے لئے اسے “الکتاب” اور “الحکمۃ” کی تعلیم دی جائے۔

    اللہ تعالی نے جو دین رسولوں کی وساطت سے انسانوں کو دیا ہے وہ الکتاب اور الحکمۃ پر مشتمل ہے۔ الکتاب دراصل کچھ قواعد و ضوابط اور قوانین کا مجموعہ ہے۔ یہ قوانین اپنی اصل روح میں تو تمام امتوں کے لئے یکساں ہی رہے ہیں البتہ وقتی تقاضوں کے باعث ان کی ظاہری شکل و صورت میں معمولی تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ تورات بالعموم انہی قوانین کا بیان ہے اسی وجہ سے سورۃ مائدہ میں تورات کو  الکتاب کہا گیا ہے۔

    ان قوانین کے علاوہ جو چیز اللہ کی جانب سے دی گئی ہے وہ  الحکمۃ  ہے۔ حکمت دراصل انسان کے عقائد و نظریات اور اس کے اخلاق سے متعلق ہے۔ انسان کے خیالات اور اس کا عمل بہت سی گندگیوں اور آلائشوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ خدا کی حکمت اسے ان آلائشوں سے پاک کرتی ہے۔ انجیل میں اسی حکمت کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ مائدہ میں انجیل کو الحکمۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

علم کی ابتدا خدا کے خوف سے ہوتی ہے۔ لیکن بے وقوف لوگ اس حکمت اور تربیت کو حقیر سمجھتے ہیں۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام۔ (بائبل، امثال)

    قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے۔ یہ اسی “الکتاب” یعنی شریعت اور “الحکمۃ” یعنی ایمان و اخلاق کا جامع اور بیان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو سنت امت میں جاری کی ہے وہ بھی انسان کے جسم اور روح کو ظاہری اور باطنی آلائشوں سے پاک کرنے کا کام کرتی ہے۔ احادیث میں بیان کردہ حضور کی پوری سیرت کا اگر مطالعہ کیا جائے تو وہ اسی کتاب و حکمت کی تعلیم پر مشتمل نظر آتی ہے۔

    انسانی شخصیت کو تعمیر کرنے کا پیغمبرانہ طریقہ یہی ہے کہ انسانوں کو کتاب و حکمت یعنی اللہ کی شریعت، ایمان اور اخلاقیات کی تعلیم کے ذریعے ظاہری اور باطنی آلائشوں سے پاک کیا جائے۔ نبوت کے ختم ہونے کے بعد یہی فریضہ اہل علم و دانش کے سپرد ہے جو قیامت تک ان کی ذمہ داری ہے۔ دعوت اور تعلیم دین کے نام پر جتنی بھی کاوشیں دنیا میں جاری ہیں وہ کتاب و حکمت کی اسی تعلیم پر مشتمل ہیں۔ اگر ہم اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا چاہیں تو ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم اسی کتاب اور حکمت کی تعلیم حاصل کریں۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

آپ کے سوالات دوسروں کے لئے اہم ہیں۔ اپنے سوالات اور تاثرات کے لئے ای میل کیجیے۔

 mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے

  1. الکتاب اور الحکمۃ میں کیا فرق ہے؟
  2. تعمیر شخصیت سے متعلق قرآنی لائحہ عمل کو ایک پیراگراف میں بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔