Slot Tergacor Situs Slot Tergacor Situs Slot Gacor Slot Gacor Slot Gacor Slot Gacor Slot Deposit Pulsa Slot Terbaru Slot Tergacor

 

 

سطحی زندگی

میں نے بہت کوشش کی کہ یہ سمجھ سکوں کہ لوگ اس قدر ذوق و شوق سے میڈیا کیوں دیکھتے ہیں۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ دورِ جدید میں لوگوں نے انتہائی سطحی زندگی جینا شروع کردی ہے۔ان کی سطحیت کا عالم یہ ہے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ غیر حقیقی ہے۔جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہ سب مصنوعی ڈرامہ اور فلم ہے۔ یہ سب اداکار ہیں۔ جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ حقیقی زندگی کا حصہ نہیں ہے۔یہ محض جھوٹ اور فریب کی دنیا ہے۔یہ حسن مصنوعی، یہ کہانی جعلی اور یہ خوشی و غم کے قصے گھڑے ہوئے ہیں، مگر لوگ پھر بھی ان کو حقیقت سمجھ کر دیکھتے اور واقعہ سمجھ کر متاثر ہوجاتے ہیں۔

    لوگوں کی یہ سطحیت صرف میڈیا دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ لوگوں نے فارغ اوقات میں بھی وہ ساری مصروفیات ڈھونڈ لی ہیں، جن کی گنجائش کسی ایسے انسان کی زندگی میں نہیں ہوسکتی جو دنیا کی حقیقت سے واقف ہو۔تفریح، کھیل کود، شاپنگ، ذوق جمال کی تسکین،سہولیات کی خواہش بری چیزیں نہیں، مگر آج لوگوں نے انہیں مقصدِحیات بنالیا ہے۔ وڈیو گیمز، اسپورٹس، سیر و تفریح، گھومنا پھرنا، ہوٹلنگ یا باہر کھانا، دعوتیں کرنا اور ان میں شریک ہونا، شاپنگ کرنا، نت نئے فیشن کے ملبوسات اور زیورات کے پیچھے لگے رہنا، گھر اور اپنے اطراف میں ہر وقت نت نئی تبدیلیوں پر پیسے خرچ کرنا، یہ اور ان جیسی کتنی چیزیں ہیں جن کو فنی بنیادوں پر غلط قرار دینا ممکن نہیں مگر آج لوگ انہی کو نصب العین بنا کر جیتے ہیں۔

غرور اپنے ساتھ رسوائی لے کر آتا ہے جبکہ عجز و انکسار سے حکمت و دانش جنم لیتی ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

مذہبی لوگ

اس وقت ایک طرف تو مسئلہ لوگوں کی یہ سطحی دلچسپیاں ہیں اور اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ دعوت و اصلاح کے کام پر اٹھے ہیں وہ لوگوں کو دنیا کی سطحیت سے نکال کر اُس سطحیت کی طرف لے جارہے ہیں جو دین کے نام پر پھیلی ہوئی ہے۔یہ وہ سطحیت ہے جس میں لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کو دین کی طرف بلا رہے ہیں حالانکہ وہ انہیں چند ظاہری اعمال کی طرف بلارہے ہوتے ہیں ۔

    وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو توحید کی طرف بلارہے ہیں، مگر دراصل وہ انہیں اپنے مفروضہ اکابرین کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں، مگر دراصل وہ انہیں اپنی جماعت کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو قرآن و حدیث کی طرف بلارہے ہیں، مگر دراصل وہ انہیں گھڑی ہوئی داستانوں کی طرف بلاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اسلام کے احیا کی طرف بلا رہے ہیں، مگردراصل وہ سیاست کے بازار کی آوارہ گردی کے لیے بلارہے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو فردوس کی بادشاہی کی طرف بلارہے ہیں،مگر دراصل وہ ثواب کی اس دکانداری کی طرف بلاتے ہیں جہاں آدمی اپنے بے روح عمل کو جنت کی قیمت سمجھتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو روحانیت کی طرف بلارہے ہیں،مگر دراصل وہ انہیں ظاہری شکل و صورت کی تبدیلی کی طرف بلاتے ہیں۔

بارہ سو سال پہلے لکھی گئی کتاب الرسالہ، جو کہ اصول الفقہ کی پہلی کتاب ہے، کا مطالعہ کیجیے۔ اس کتاب کے مصنف امام شافعی ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ اصول الفقہ کے قواعد کو ضوابط کو مرتب کیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اس لنک پر دستیاب ہے۔

خدا تنہا ہے

بات یہ ہے کہ دین آج بھی اجنبی ہے۔وہ دین جس میں خدا زندگی کا حاصل ہے، اس کا پیغمبر آخری حجت ہے، اس کی جنت آخری مقصود ہے۔یہ دین اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔خدا جس طرح اپنی عظمت کے ساتھ تنہا ہے، آج اپنے دین کے ساتھ بھی تنہا رہ گیا ہے۔خدا کے ملک میں پہلے بھی بغاوت ہوئی ہے۔ اس وقت خدا کا ساتھ دینے کا مطلب یہ تھا کہ آدمی دنیا بھر سے ٹکراجائے۔وہ بغاوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے پہلے حصے نے ختم کردی۔

    آج ایک دفعہ پھر بغاوت پھیلی ہے اور خدا ایک دفعہ پھر تنہا رہ گیا ہے۔آج خدا کا ساتھ دینے کا مطلب دنیا بھر سے ٹکراجانے کا نام نہیں ۔ یہ اپنے آپ سے ٹکراجانے کا نام ہے۔یہ دنیا داروں کی سطحیت چھوڑدینے اور دین داروں کی سطحیت سے بلند ہوجانے کا نام ہے۔یہ خدا کی یاد اور فردوس کی ابدی بادشاہی کی امید میں جینے کا نام ہے۔ یہ رب کی بندگی اور اس کی محبت کے احساس کو زندگی بنالینے کا نام ہے۔یہ دنیاپر آخرت کو ترجیح دینے کا نام ہے۔یہ اعلیٰ اخلاقی زندگی کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ یہ عجز و اعتراف کی نفسیات میں ڈھل جانے کا نام ہے۔

    خدا کی وفاداری میں جینے والے شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کوانسانوں سے متعلق خدا کا منصوبہ بتائے۔ انہیں اس زندگی کی طرف بلائے جو کل قیامت کے بعد شروع ہوگی۔دنیا کی سطحی چیزوں کی بے معنویت لوگوں پر واضح کرے۔وہ لوگوں کو اشیاء سے اٹھاکر حقائق کی طرف لائے۔ظاہری اعمال سے اٹھاکراعلیٰ اخلاق کی طرف لائے۔مادیت کے بنجر صحرا سے نکال کر معرفت کی سرسبز وادی میں لائے۔دنیا کی محبت سے ہٹا کر جنت کی نعمتوں کی حب شدید میں مبتلا کردے۔دنیا کی سختیوں کو غیر اہم بنا کر آخرت کے عذاب کو اہم تر کرے۔

خدا آرہا ہے

خدا بہت جلد آرہا ہے۔ اب دیر نہیں رہی۔ وہ غیب کا نقاب الٹ کر اپنے نور سے زمین کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدلنے والا ہے۔ آج اس کے ملک میں بغاوت ہے۔مگر یہ آخری بغاوت ہے۔اب بہت جلد وہ اپنی زمین میں فیصلہ کن طور پر اپنا اقتدار بحال کرنے والا ہے۔وہ زلزلۂ قیامت برپا کرنے والا ہے۔وہ انسانی اقتدار کے ایک ایک نام و نشان کو مٹاکر اپنی عظمت سے زمین کو ہموار کرنے والا ہے۔وہ ہر ظلم اور بربریت کی ہر طاقت کو لگام ڈالنے والا ہے۔اس نئی بغاوت کے بس آخری دن ہیں۔ جو ان چند دنوں میں خدا کی طرف سے لڑنے کے لیے اٹھ گیا۔ ۔ ۔ جو خدا کے لیے جی لیا، جوخدا کے لیے مرگیا ،وہی ہوگا جس کے سر پر بہت جلد وفاداری کا تاج رکھا جائے گا۔

    سو وفادارو! جھوم اٹھو، خدا آرہا ہے۔وہ آئے گا اور زمین کی بادشاہی اپنے وفاداروں میں تقسیم کردے گا۔آخری پیغمبر کی آمد کا مقصد یہی اعلان کرنا اور اس دعویٰ کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنا تھا۔ ان کے ذریعے سے خدا نے دکھادیاکہ کس طرح وہ وقت کے فرعونوں، ابوجہل اور ابو لہب کو ہلاک کردیتا ہے اور کس طرح مظلوم اور کمزوروں کے قدموں میں قیصر و کسریٰ کے تاج لا ڈالتا ہے۔یہی وہ اعلان ہے جو خدا کے مسیح نے کیا تھا کہ خدا کی آسمانی بادشاہی قائم ہونے کو ہے۔اس کا یہی فیصلہ زبور میں نازل ہوا تھا۔اور اسی کو قرآن میں آخری دفعہ دہرادیا گیا۔سو اس فیصلے کو سنو اور جھوم اٹھو۔اس لیے کہ اب انتظار ختم ہونے کو ہے۔

وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ۔ اِنَّ فِی ھٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِیْنَ۔ وَمَا أَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔(الانبیا 21:105)

ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔ اس میں بڑی خبر ہے عبادت گزار بندوں کے لئے اور اے پیغمبر! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

 mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے

  • ہم نے سطحی زندگی کو کیوں اختیار کر لیا ہے؟ اس کے اسباب بیان کیجیے۔
  • سطحی زندگی سے اٹھ کر کسی اعلی مقصد کے لئے خود کو وقف کر دینے سے انسانی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔