RTP LIVE Slot Gacor Slot Terbaru Slot Deposit Pulsa Slot Online Slot Hoki Situs Slot Slot Gacor

 

 

خلع کی عدت

سوال:مبشر بھائی اگر میاں بیوی میں 19 سال سے ازدواجی رشتہ نہیں ہے اب 19 سال بعد اس لڑکی کیلئے ایک رشتہ آتا ہے اب محض خانہ پوری کیلئے اب خلع کی پیپر پر اسکی دستخط لیتے ہیں تو کیا اس عورت کو اب بھی عدت گزارنی ہوگی حالانکہ خاوند اور بیوی الگ الگ شہر میں ہی رہتے ہیں ان دونیں کی ملاقات بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی ازدواجی تعلقات ہی رہے۔ 

جواب:بھائی آپ نے بہت دلچسپ سوال بھیجا ہے۔ میاں بیوی میں قانونی نکاح تو ہوا ہے۔ اب خاتون خلع کر لیتی ہیں تو پھر وہ صرف تین ماہ تک ہی انتظار کرلیں تاکہ عدت پوری ہو جائے۔ عدت کا اصل مقصد یہی ہے کہ قانونی طور پر ثبوت مل جائے کہ اب خاتون سے بچہ پیدا ہو جائے گا، تو پھر کنفرم رہے گا کہ یہ بچہ پہلے شوہر کا بیٹا نہیں ہو سکتا ہے۔ 

خلع کرنے کے بعد اگر خاتون فوراً دوسری شادی کر لیں گی اور 9 ماہ میں بچہ پیدا ہو جائے گا، تو پھر یہ مقدمہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پہلا شوہر کہے کہ میرا بیٹا ہے اور دوسرا شوہر کہے کہ میرا ہے۔ اس طرح آپس میں لڑائی جھگڑا اور عدالتی مقدمے جاری ہو جائیں گے۔اس میں جو بھی رزلٹ ہوا تو تب بھی اس بچے کو مستقبل میں کنفیوژن رہے گی اور جب وہ جوان ہو گا تو اس میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ا س لیے مستقبل کے کسی بھی لڑائیوں کو بچانے کے لیے عدت ہی صحیح طریقہ ہے ۔ اس میں تین پیریڈ میں زیادہ ٹائم بھی نہیں ہوتا ہے اور اس میں کوئی ایشو بھی نہیں ہے۔ اب تین ماہ بعد وہ شادی کر لیں گے تو بالفرض 9 ماہ بعد بچہ پیدا ہو جائے تو اس میں کوئی کنفیوژن نہیں رہے گی۔ 

اس سے ملتا جلتا معاملہ پاکستان میں ہوا تھا  جس میں دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ میاں بیوی تھے اور ایک  ٹی وی ڈرامہ میں بھی وہ میاں بیوی بنے۔ اس ڈرامہ کے اندر میاں نے طلاق کر دی۔ اب یہ حقیقت میں کوئی طلاق نہیں تھی لیکن ایک مفتی صاحب نے اسی رات میں اعلان کر دیا کہ یہ سچ مچ طلاق ہو گئی ہے اور وہ ہیرو ہیروئن   حقیقت میں علیحدہ ہو جائیں۔   ان کا فتوی ٹی وی اور اخبارات میں جاری ہوا اور ایسا ایشو مشہور ہو گیا کہ ان کا ڈرامہ ہٹ ہو گیا تھا۔ اس سے کچھ عرصے بعد انڈیا سے UP یا شاید دہلی کے ایک بڑے عالم  لاہور تشریف لائے تھے اور میں ان سے ملنے گیا تھا۔ اس وقت ایک صاحب نے یہی صورتحال بیان کی۔

دہلی کے یہ عالم بڑی دیر تک ہنستے رہے لیکن ان کی تہذیب میں ہنسنے کا طریقہ بھی یہ تھا کہ ان کا منہ کھلا نہ ہو سکے اور دانت سامنے نہ آ سکے۔   کافی مشکل سے وہ ہنسی کو ختم کر چکے تو ارشاد فرمایا کہ ان مفتی صاحب کے سارے فتوے قابل اعتماد نہیں ہوں گے کہ وہ کیا  ڈرامہ دیکھتے تھے؟ اس سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ   پرانی تقلید کے ساتھ ایسے اثرات  بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ 

علم الفقہ ۔ اردو لیکچرز