RTP LIVE Slot Gacor Slot Terbaru Slot Deposit Pulsa Slot Online Slot Hoki Situs Slot Slot Gacor

 

 

عثمان رض الله عنہ پر پانی بند کرنے کے ذمے دار

سوال:کیا طلحہ رضی الله عنہ عثمان رض الله عنہ پر پانی بند کرنے کے ذمے دار تھے۔اس روایت کے بارے میں بتائیں۔اس کی سند میں مجھے کوئی اعتراض نظر نہیں آیااس کا درایتی تجزیہ کیا ہوگا؟

جواب:اس میں درایتی تجزیہ ہی ہو سکتا ہے۔ پہلے تو یہ دیکھ لیجیے کہ یہ دینی معاملہ نہیں ہے بلکہ تاریخی روایت ہے جس میں جانچ پڑتال کسی نے نہیں کی ہے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا عمل آپ تاریخ ہی میں جانتے ہیں کہ بغاوت کو ختم کرنے کی جیسی کاوش انہوں نے کی تھی اور اپنی جان بھی اس میں دے دی تھی، اس میں باغیوں کی مدد والا کوئی کام عقلاً نہیں ہو سکتا ہے۔ اب آپ اس روایت کو دیکھیے۔ یہ روایت سیاق و سباق سے ہٹ کر تو نہیں پیش کی گئی؟

قال سفيان ( بن عيينة ثقة )، وحدثنا إسماعيل بن أبي خالد ( ثقة )، عن حكيم بن جابر ( ثقة ) قال: كلم علي طلحة – وعثمان في الدار محصور – فقال: إنهم قد حيل بينهم وبين الماء. فقال طلحة: أما حتى تعطي بنو أمية الحق من أنفسها فلا  (تاريخ المدينة لابن شبه النميري – ج4 – ص 1169)

رجاله ثقات

ترجمہ دیکھ لیجیے کہ: عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں قید کیے گئے تھے۔  اس وقت انہوں نے فرمایا کہ ان باغیوں نے پانی کو روک دیا ہے۔ اس پر طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  “ابوامیہ کو آپ ان کا حکم کیوں نہیں دے رہے ہیں؟” 

اس سے یہی لگتا ہے کہ طلحہ رضی اللہ عنہ باغیوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات معقول ہے کیونکہ باغیوں کی تین پارٹیاں تھیں۔ ایک گروپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے، دوسرا گروپ طلحہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے جبکہ تیسرا گروپ زبیر رضی اللہ عنہما کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ ہر گروپ کا خیال تھا کہ وہ ان صحابی کو قابو کر سکیں گے۔ اس روایت میں لگتا ہے کہ وہ طلحہ رضی اللہ عنہ اس گروپ کو سمجھا رہے ہوں گے کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے حقو ق دیں۔ یہ پورا گینگ بنو امیہ سے نفرت رکھتے تھے۔ 

جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس طاقت نہیں آئی تھی، اس وقت تک علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم تینوں باغی پارٹیوں  کی اصلاح کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا ارادہ یہی تھا کہ اتنا ٹائم مل جائے کہ بڑی تعداد میں مخلص افراد حج کر کے مدینہ آ جائیں اور اس ٹائم تک عثمان رضی اللہ عنہ کو بچا سکیں۔  جب اکثر لوگ واپس آ جاتے اور تب تک عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ نہ ہو رہا ہوتا تو پھر آسانی سے تینوں باغی پارٹیوں کو پکڑ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے پہلے ہی ایکشن کر دیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ ان میں لگتا ہے کہ ایک پارٹی میں زیادہ طاقت تھی جو علی رضی اللہ عنہ کو قابو کرنا چاہتے تھے اور انہیں خلیفہ بنانا چاہتے تھے چنانچہ وہی گینگ کامیاب ہو گیا۔ 

نیچے والی روایت میں بھی یہی بات ہے۔  رہے راوی، تو ان کے بارے میں اس ویب سائٹ میں بھی ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ آپ نے کہیں اور ان راویوں کو دیکھ لیا ہے؟ 

حدثنا يعلى بن عبيد، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن حكيم بن جابر، قال: لما حصر عثمان أتى علي طلحة وهو مستند إلى وسائد في بيته، فقال: أنشدك الله، لما رددت الناس عن أمير المؤمنين فإنه مقتول. فقال طلحة: لا والله حتى تعطي بنو أمية الحق من أنفسها.

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات

11-133H or 632-750CE عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ