RTP LIVE Slot Gacor Slot Terbaru Slot Deposit Pulsa Slot Online Slot Hoki Situs Slot Slot Gacor

 

 

اگر پیریڈ بدھ کو ختم ہوئے ہیں تو کیامیاں بیوی انٹر کورس کر لیں جب کہ بیوی نے ابھی پیریڈ کا غسل نہ کیا ہو؟

سوال: اگر پیریڈ بدھ  کو ختم ہوئے ہیں تو کیامیاں  بیوی انٹر کورس کر  لیں جب کہ بیوی نے ابھی پیریڈ  کا  غسل نہ  کیا ہو؟

اس کے لیے بہترین طریقہ یہی ہے کہ پہلے غسل ہی کیا جائے۔ اس میں صرف 2-3 منٹ ہی کی بات ہے جس میں نہانا ہی تو ہے ۔تو یہ بہتر طریقہ ہے تاکہ پاکیزگی مکمل ہو جائے۔ قرآن و سنت کا بتایا ہوا طریقہ یہی ہے۔اگر کوئی  شدیدمسئلہ ہو جیسے  پانی نہیں ہے یا شدید سردی ہے تو پھر مجبوراً غسل کے بغیر بھی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ کوشش یہی کرنی چاہیے کہ سنت کا بہترین طریقہ ہی اختیار کرنا چاہیے۔ کوئی مجبوری ہو تو الگ بات ہے۔ 

   سوال: میرا سوال یہ تھا کہ ہم اگر اپنے ماں باپ سے بات نہ کریں یا کم بات کریں، کام کی بات کریں زیادہ بات نہ کریں تو کیا یہ والدین کی نافرمانی میں  تو نہیں آتا؟  بات نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ حیا کی وجہ سے بات کرنی نہیں آتی۔

جواب:قرآن مجید کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں کہ  آپ پر والدین کی خدمت کی کیا ذمہ داری ہے؟ اسی بنیاد پر آپ خود فیصلہ کر لیجیے کہ اس خدمت کے خلاف کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ 

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا (22) وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (24) رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا  [الإسراء: 22 – 25]

 (اب آخرت  کی  کامیابی  کا  طریقہ  کار  یہ  ہے:)

 اللہ کے ساتھ آپ  کوئی دوسرا معبود نہ بنا  لیجیے  گا  کہ (روز قیامت) ملامت زدہ اور بے یارومددگار بیٹھے رہ   جائیں  گے۔  آپ  کے  رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ  لوگ تنہا اُسی کی عبادت کرتے  رہیے۔

 ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرتے  رہیے۔اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں اگر آپ  کے  سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ اُن کو (بدتمیزی میں)  اف نہ  کہہ  دیجیے  گا  اور نہ اُن کو جھڑک کر جواب   نہ  دیجیے  گا۔ آپ  اُن سے ادب کے ساتھ بات   کیجیے  گا۔

اُن کے لیے نرمی  سے عاجزی کے بازو جھکائے رکھیے  گا اور دعا کرتے رہیے  گا  کہ اے رب! اُن پر رحم فرما  دیجیے! جس طرح انہوں نے (رحمت و شفقت کے ساتھ) مجھے بچپن میں پالا تھا۔

(لوگو!) آپ  کے  دلوں میں جو کچھ ہے ، اُسے آپ  کا  رب خوب جانتا ہے۔ اگر آپ  سعادت مند رہیں  گے تو پلٹ کر آنے والوں کے لیے وہ بڑا درگذر فرمانے والا ہے۔(بنی اسرائیل 17:23-25)

وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14) وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ  [لقمان: 14، 15]

(اِس میں شبہ نہیں کہ)ہم نے انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں بھی نصیحت کی ہے۔ اُس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اُس کو پیٹ میں رکھا اور (پیدائش کے بعد) کہیں دو سال میں جا کر اُس کا دودھ چھڑانا ہوا۔(ہم نے اُس کو نصیحت کی ہے) کہ میرے شکرگزار رہو اور اپنے والدین کے، (اور یاد رکھو کہ بالآخر) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ لیکن اگر وہ تم پر زور ڈالیں کہ کسی کو میرا شریک ٹھیراؤ جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اُن کی بات نہ ماننا۔ دنیا میں، البتہ اُن کے ساتھ نیک برتاؤ رکھنا اور پیروی اُنہی کے طریقے کی کرنا جو میری طرف متوجہ ہیں۔پھر تم کو میری ہی طرف پلٹنا ہے۔ پھر میں تمہیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔(سورۃ لقمان 32:14, 15) 

ہمارے ہاں انڈین کلچر میں والدین کے لیے بہت سی ذمہ داریاں بنا دی گئی ہیں لیکن اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ انڈین کلچر میں لفظ “نافرمانی” پر بہت سا کملی کیٹ کیا ہوا ہے۔ اس میں آپ کو چاہیے کہ خود فیصلہ کر لیں کہ کیا معقول ہے اور کیا نہیں ہے۔

آپ یہ خود سوچ سکتے ہیں کہ والدین سے کم گفتگو کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ آفس سے واپس آ کر بہت کم ٹائم ملتا ہے تو آپ والدین سے بہت عمدہ طریقے سے کچھ منٹس یا گھنٹہ جتنا بھی ہے تو ان کے لیے مل لیں۔ پھر  نماز پڑھ کر سو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ 

مزید وجہ پر غور فرما لیجیے کہ  اگر والدین سے آپ کا مزاج مختلف ہے اور اس میں یہ خطرہ ہے کہ گفتگو میں کوئی بدتمیزی نہ ہو جائے تو پھر بہتر ہے کہ آپ کم ٹائم ہی ان سے گفتگو کریں۔ بس جا کر چند منٹ تک سلام کر لیں، عزت سے ملیں اور ان کی کوئی خدمت کرنی ہے تو وہ کر لیجیے۔ ان کی جو ذمہ داری آپ پر ہے  وہ معاش کی ہو گی تو معاشی خدمت کر لیجیے۔ 

مزید آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کو ٹائم نہ ملنے کی وجہ کیا ہے؟ اگر وجہ معلوم ہے تو فیصلہ کر لیجیے۔ اگر میری خدمت درکار ہے تو اپنی وجہ بتا دیجیے تو پھر عرض کرتا ہوں۔ یہ مشورہ دوں گا کہ آپ سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ لقمان ضرور پڑھ لیجیے جنہیں میں نے لیکچرز میں کیا ہے۔ 

سورۃ الحجر – سورۃ مریم 19-15

سورۃ الفرقان – سورۃ السجدہ 25-32