دین کا غلبہ کیسے ممکن ہے؟

السلام علیکم۔ بہت معذرت چاہتی ہوں کہ جہاد پر آپ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ میری تشفی نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اور مجاہدین سے میرے ذہن میں بچپن سے  بے پناہ محبت  بٹھا دی گئی ہے۔ اگر جہاد کے ذریعے اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا تو کیا سیاست کے میدان میں اترا جائے؟ حکومت بے حس نااہل عیاش مفاد پرست کرپٹ لوگوں کا ٹولہ ہے پھر اللہ کا دین کیسے غالب آئے گا؟  

ایک بہن

کراچی ، پاکستان

محترم بہن

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کو اختلاف رائے کا پورا حق حاصل ہے۔ میں تو اس پروگرام کے تمام شرکاء کو یہی کہتا ہوں کہ اپنے ذہن سے سوچیے اور جو بات درست لگے وہ مان لیجیے۔ میں بھی ایک عام انسان ہوں اور غلطی کر سکتا ہوں۔ اس وجہ سے آپ کو اگر میری بات درست نہ لگے تو اسے ضرور رد کر دیجیے۔

اللہ تعالی کے دین کا غلبہ ہونے کی صرف اور صرف ایک ہی صورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ کسی قوم کی غالب اکثریت اسے دل وجان سے تسلیم کر لے۔ ویسے تو اللہ تعالی جب چاہے، اپنے دین کا غلبہ کر سکتا ہے لیکن اس نے خود یہ قانون بنایا ہے کہ انسانوں کو عمل کی آزادی دی ہے تاکہ ان کا امتحان لیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کی پوری معلوم تاریخ میں صرف دو مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اللہ تعالی کا دین، ایک نظام کے طور پر غالب آیا ہے۔ ایک سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اور دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔ دونوں مرتبہ ایسا ہی ہوا کہ ان جلیل القدر انبیاء کی قوموں کی غالب اکثریت پورے دل و جان سے ایمان لے آئی۔

ہمارے دور میں صورتحال اس سے مختلف ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دین ہماری اجتماعی زندگیوں میں نافذ ہو تو اس کے لیے ہمیں ایک ایک فرد کو بدلنا ہو گا۔ حکومت اور فوج میں جو برائیاں موجود ہیں، اس کے لیے ہمیں حکم یہی ہے کہ ہم اللہ تعالی کا پیغام ان تک پہنچائیں۔ اگر وہ مان جائیں گے تو دنیا میں دین کا غلبہ ہو جائے گا اور اگر نہیں مانیں گے تو ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ ہمارا اجر اللہ تعالی کے ہاں محفوظ ہو گا۔ ہمارے ذمے پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے ہمارے لیے عمل کا میدان یہ مقرر کیا ہے کہ ہم نصیحت کے ذریعے خیرخواہی کے ساتھ حکمرانوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کریں۔ اگر وہ مان لیں گے تو انشاء اللہ دین غالب ہو جائے گا اور نہیں مانیں گے تو پوری قوم کا گناہ انہی کے سر ہو گا۔

اس کے برعکس اگر ہم قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیں گے تو ہم نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے بلکہ اپنے پورے معاشرے کو جرائم کا شکار کر دیں گے۔ حالیہ تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن جن ممالک میں لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا، وہاں جرائم پیشہ گروہوں ہی کو غلبہ نصیب ہوا، دین کبھی غالب نہ آیا۔ افغانستان، فلسطین، عراق، صومالیہ اور اب پاکستان کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے جہاں غلبہ دین کی جدوجہد کو کامیابی حاصل ہوئی ہو۔

بہرحال آپ کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اس ضمن میں آپ دونوں نقطہ ہائے نظر کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد کوئی رائے قائم کیجیے۔ حال ہی میں میں نے ان دونوں نقطہ ہائے نظر کو ان کے دلائل سمیت اپنی نئی کتاب تقابلی مطالعہ پروگرام کے اندر درج کر دیا ہے۔ اگر آپ کو دلچسپی محسوس ہو تو بتائیے، میں یہ سلسلہ کتب آپ کو فارورڈ کر دوں گا۔ تفصیلات آپ یہاں دیکھ سکتی ہیں۔

دعاؤں کی درخواست ہے۔ اگر ہو سکے تو اردو میں میل لکھنا شروع کر دیں کیونکہ رومن اردو پڑھنا مجھے کافی مشکل لگتا ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply as soon as possible if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com.

سورۃ التوبہ 9 ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے نتائج ۔۔۔ اسی دنیا میں جزا و سزا کا   پریکٹیکل  عمل تاکہ قیامت کی مثال ہمیں مل سکے۔

آیات 1-12: مشرک منکرین عرب  کی قرارداد جرم اور ان کے لیے سزا  کا اعلان اور اسی  سزا  کا اسی دنیا میں عمل (Criminal Judgment)

تعمیر شخصیت لیکچرز

دین کا غلبہ کیسے ممکن ہے؟
Scroll to top