کمزور روایتوں کی بنیاد پر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی کردار کشی

السلام علیکم

آپ نے جو  ‎‏ معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت لکھا ہے اس سے میں متفق نہیں ہوں اس کے متعلق میں ایک بڑے عالم کی ایک کتاب کے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں۔

بعض حضرات تاریخی روایات کو جانچنے کے لئے اسماءالرجال کی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں فلاں راویوں کو ائمہ رجال نےمجروح قرار دیا ہے، اور فلاں راوی جس وقت کا واقعہ بیان کرتا ہے اس وقت تو وہ بچہ تھا یا پیدا ہی نہیں ہوا تھا، اور فلاں ایک روایت جس کے حوالے سے بیان کرتا ہے اس سے تو وہ ملا ہی نہیں. اسی طرح وہ تاریخی روایات پر تنقید حدیث کے اصول استعمال کرتے ہیں اور اس بنا پر اس کو رد کردیتے ہیں کہ فلاں واقعہ سند کے بغیر نقل کیا گیا ہے، اور فلاں روایت کی سند میںانقطاع ہے. یہ باتیں کرتے وقت یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ محدثین نے روایات کی جانچ پڑتال کے یہ طریقے دراصل احکامی احادیث کے لیے اختیار کیے ہیں، کیوں کہ ان پر حرام و حلال، فرض و واجب اور مکروہ و مستحب جیسےاہم شرعی امور کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ دین میں کیا چیز سنت اور کیا چیز سنت نہیں ہے . یہ شرائط اگر تاریخی واقعات کے معاملہ میں لگائی جائیں ، تو اسلامی تاریخ کے ادوار ما بعد کا تو سوال ہی کیا ہے، قرن اول کی تاریخ کا بھی کم از کم 10/9 حصہ غیر معتبر قرار پائے گا، اور ہمارے مخالفین ان ہی شرائط کو سامنے رکھ کر ان تمام کارناموں کو ساقط الاعتبار قرار دے دیں گے جن پر ہم فخر کرتے ہیں، کیوں کہ اصول حدیث اور اسماءالرجال کی تنقید کے معیار پر ان کا بیشتر حصہ پورا نہیں اترتا. حد یہ ہے کہ سیرت پاک میں بھی مکمل طور پر اس شرط کے ساتھ مرتب نہیں کی جا سکتی کہ ہر روایت ثقات سے ثقات نے متصل سند کے ساتھ بیان کی ہو۔

محمّد صدیق، سری نگر، انڈیا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا سوال بہت اچھا ہے اور میں ان عالم کے احترام کے باوجود ان کے اس نظریے سے شدید ترین اختلاف رکھتا ہوں۔ آپ نے بہت اچھا کیا،  کہ یہ سوال اٹھایا۔  اب میں اس جواب کو بھی شامل کر دوں گا۔

یہ درست ہے کہ تاریخی روایات کو پرکھنے کا معیار احکام سے متعلق احادیث سے متعلق معیار کی نسبت نرم ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان روایات سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی ہستیوں کی ایک کرپٹ صورت سامنے آ رہی ہو، تو کیا پھر بھی ان روایتوں کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے؟ یہ مسئلہ تو فقہی اور احکامی مسائل سے کہیں آگے عقائد سے متعلق ہے۔ کیونکہ ان روایتوں کو دیکھ کر تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن میں ناکام رہے اور آپ کے بعد یہ قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں آئی، وہ یا تو کرپٹ تھے یا پھر انہوں نے کرپٹ حکمرانوں کا ساتھ دیا۔ ایسی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کامیابی پر اعتراضات اٹھتے ہیں۔

پھر یہ مسئلہ محض تاریخی ہی نہیں بلکہ امت میں دو فرقوں کی بنیاد بنا ہے۔ انہی روایات کی بنیاد پر ایک گروہ خلفاء ثلاثہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں جبکہ دوسرے گروہ   کے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں۔ عقائد سے متعلق ان روایات پر تنقید بہت ہی ضروری ہے۔ جب یہ معلوم ہو جائے کہ یہ تمام روایتیں پانچ افراد ہی کی وساطت سے ہم تک پہنچی کی ہیں اور وہ پانچوں پرلے درجے کی جھوٹی روایتیں قبول کرنے والے ہیں تو پھر ان پر اعتماد کر کے صحابہ کرام جیسی جلیل القدر ہستیوں کو کیسے مطعون کیا جا سکتا ہے؟ یہ پانچ افراد محمد بن اسحاق، محمد بن سائب الکلبی، ہشام بن محمد بن سائب الکلبی ، محمد بن عمر الواقدی اور ابو مخنف لوط بن یحیی ہیں اور آپ علم رجال کی کسی بھی کتاب جیسے میزان الاعتدال میں ان حضرات کی بے احتیاطی کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔

رہا  یہ سوال کہ اس سے تاریخ کا ۹/۱۰ حصہ ضائع ہو جائے گا تو یہ درست نہیں۔ مسلمانوں کی فتوحات کی روایتوں کو اس وجہ سے زیادہ پرکھنے کی ضرورت نہیں ہیں کیونکہ ان فتوحات کا زندہ ثبوت یہاں موجود مسلم حکومتوں اور آبادیوں کی صورت میں موجود ہے۔ روایتوں سے محض اس زندہ حقیقت کی تائید ہی ہوتی ہے۔ ان روایتوں سے زیادہ سے زیادہ کچھ جزوی تفصیلات کا علم ہو جائے گا اور بس۔ اگر کسی کو ان روایات پر شک ہو تو وہ نہ مانے۔ اس زندہ ثبوت کو تو وہ جھٹلانے سے رہا۔

ایک اور مثال پیش کرتا ہوں۔ زندگی کے عام معاملات کے بارے میں ہم ہر کس و ناکس کی دی ہوئی خبر کو قبول کر لیتے ہیں۔ جیسے کسی سے راستہ پوچھنا ہو، یا روز مرہ زندگی کے کسی واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہوں لیکن جو معاملات اہمیت رکھتے ہوں، انہیں ہم اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد ہی قبول کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی ایرا غیر ا نتھو خیرا  والدین پر خدانخواستہ بدکاری کا الزام عائد کر دے، تو کیا ہم محض اس وجہ سے اس شخص کی بات کو قبول کر لیں گے کہ ہم روز مرہ زندگی میں اس کی اور باتوں کو بھی قبول کر لیتے ہیں اور اگر اس کی بات کو ہم نے قبول نہ کیا تو ہم پر جانبداری کا الزام آئے گا؟  ایک ناقابل اعتماد راوی اگر یہ بیان کر رہا ہو کہ فلاں جنگ فلاں مقام پر ہوئی یا فلاں جنگ میں فلاں شخص شریک ہوا تو یہ عام سی معلومات ہیں جنہیں تاریخی روایات کے معیار پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر وہ کسی صحابی رسول کی کردار کشی کرنے کے لیے ان پر کوئی گھناؤنا الزام عائد کر رہا ہو تو پھر اسے کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وقعت ہمارے والدین سے بھی کم ہے؟

سیرت طیبہ سے متعلق کمزور روایات کو قبول کر کے ہمارے بعض علماء نے بہت بڑی غلطی کا ثبوت دیا ہے۔ انہی روایات کی بنیاد پر مستشرقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات پر بہت کیچڑ اچھالا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات بھی ایسی ہی ایک روایت پر مبنی ہیں۔

ان فاضل مصنف  کی یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ سیرت پاک کمزور روایتوں کے بغیر مرتب نہیں کی جا سکتی ہے۔ سیرت کا سب سے بڑا ماخذ قرآن مجید ہے جس کا موضوع ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی جدوجہد کے مختلف مراحل کو بیان کرنا ہے۔ اس کے بعد صحیح روایات اتنی ہیں کہ جو سیرت طیبہ کی مکمل تصویر پیش کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تفصیل کے لیے آپ علامہ البانی کی صحیح و ضعیف سیرت ابن ہشام دیکھ سکتے ہیں جس میں انہوں نے سیرت ابن ہشام کی صحیح اور ضعیف روایات کو الگ کر دیا ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جو سیرت پر لکھی گی بعد کی کتب کی بنیاد ہے۔

امید ہے کہ بات واضح ہو گئی ہو گی۔ اس مسئلے پر مزید سوال ہو تو بلا تکلف لکھ دیجیے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

السلام علیکم

آپ نے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ اگر ان روایات سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی ہستیوں کی  ایک کرپٹ صورت سامنے آرہی ہو تو کیا پھر بھی ان روایتوں کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ تاریخ کے معاملہ میں چھان بین ، اسناد اور تحقیق کا وہ اہتمام نہیں ہوا ہے جو احادیث کے معاملے میں پایا جاتا ہے . لیکن یہ کہنا بھی تو مشکل ہے کہ ابن سعد ، ابن عبد البر ، ابن جریر ، ابن حجر ، ابن کثیر اور ابن اثیر جیسے لوگوں نے دور اختلاف کے حالات نقل کرنے میں اتنی سہل انگاری اور بے احتیاطی برتی ہے کہ بالکل بے اصل باتیں اپنی کتابوں میں صحابہ کی طرف منسوب کر دیں . کیا وہ ان باتوں کو بیان کرتے وقت اس بات سے بےخبر تھے کہ ہم کن بزرگوں کی طرف یہ واقعات منسوب کر رہے ہیں ؟

مثال کے لئے میں یہاں علامہ ابن جریر طبری کے متعلق دوسرے ائمہ کے اقوال نقل کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابن خزیمہ ان کے متعلق کہتے ہیں کہ میں اس وقت روئے زمین پر ان سے بڑے کسی عالم کو نہیں جانتا۔

ابن کثیر کہتے ہیں کہ وہ کتاب و سنت کے علم اور اس کے مطابق عمل کے لحاظ سے ائمہ اسلام میں سے تھے۔

ابن حجر کہتے ہیں  کہ وہ بڑے اور قابل اعتماد ائمہ اسلام میں سے تھے۔

خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ وہ ائمہ علماء میں سے تھے۔ ان کے قول پر فیصلہ کیا جاتا ہے اور ان کی رائے کی طرف رجوع کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے علم و فضل کے لحاظ اس لائق ہیں۔ علوم میں ان کی جامعیت ایسی تھی کہ ان کے ہم عصروں میں کوئی ان کا شریک نہ تھا۔

ابن الاثیر کہتے ہیں کہ تاریخ نگاروں میں سب سے زیادہ بھروسے کے لائق ہیں۔ ابن الاثیر اپنی تاریخ الکامل کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ اصحاب رسول کے مشاجرات کے معاملہ میں میں نے ابن جریر طبری پر ہی دوسرے تمام  مؤرخین کی بہ نسبت زیادہ اعتماد کیا ہے کیونکہ ابن کثیر بھی اس دور کی تاریخ میں انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں نےشیعی روایات سے بچتے ہوئے زیادہ تر ابن جریر پر اعتماد کیا ہے۔

اب رہے وہ چند اشخاص جو غیر ثقات میں سے ہیں ان کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال نقل کر کے بڑے زور کے ساتھ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ حدیث ہی نہیں تاریخ میں بھی ان لوگوں کا کوئی بیان قابل قبول نہیں ہے . لیکن جن علماء کی کتابوں سے ائمہ جرح و تعدیل کے یہ اقوال نقل کئے جاتے ہیں نہوں نے صرف حدیث کے معاملہ میں ان لوگوں کی روایات کو رد کیا ہے . رہی تاریخ ، مغازی اور سیر ، تو ان ہی علماء نے اپنی کتابوں میں جہاں کہیں ان موضوعات پر کچھ لکھا ہے وہاں وہ بہ کثرت واقعات انھی لوگوں کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں . مثال کے طور پر حافظ ابن حجر کو دیکھیے جن کی تہذیب التہذیب سے ائمہ رجال کی یہ جرحیں نقل کی جاتی ہیں . وہ اپنی تاریخی تصنیفات ہی میں نہیں بلکہ اپنی شرح بخاری تک میں جب غزوات اور تاریخی واقعات کی تشریح کرتے ہیں تو اس میں جگہ جگہ واقدی اور سیف بن عمر اور ایسے ہی دوسرے مجروح راویوں کے بیانات نقل کرتے چلے جاتے ہیں . آپ کے جواب میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ ایسی بحثوں سے صحابہ کی پوزیشن مجروح ہوتی ہے مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ صحابہ بھی انسان ہی تھے ان سے بھی غلطیوں کا صدور ہو سکتا تھا وہ بھی خطا کر سکتے تھے مگر اس سے ان کی بزرگی میں کوئی فرق نہیں آتا . کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جو بزرگ ہوتا ہے وہ علطیاں نہیں کرتا اور جو غلطی کرتا ہے وہ بزرگ نہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے۔

امید ہے بات واضح ہو گئی ہوگی۔

والسلام

صدیق

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہاں صحابہ کرام کی کوئی غلطی نقل ہوئی ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ معصوم نہیں تھے اور ان سے غلطی کا صدور ممکن ہے۔ بعض صحیح احادیث میں بھی ان کی انفرادی غلطیوں کا ذکر ہے۔مسئلہ ان تاریخی روایات میں یہ ہے کہ ان سے صحابہ کرام جن میں سابقون الاولون اور عشرہ مبشرہ کی ہستیاں ہیں، پر کرپشن، اقربا پروری، سیاسی جوڑ توڑ اور کھینچا تانی کے الزامات ہیں۔ اگر ان روایات کو مان لیا  جائے تو معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین پراڈکٹ اور موجودہ دور کے سیاستدانوں میں کچھ فرق نہیں رہ جاتا۔

اس وجہ سے میرے لیے یہ نہایت ہی آسان ہے کہ میں ان صحابہ کے بارے میں روایات کو قبول کرنے کی بجائے ابن جریر، ابن اثیر، ابن کثیر اور ابن حجر وغیرہ کی غلطی کو مان لوں۔ اگر صحابہ کرام کی غلطی کو مانا جا سکتا ہے تو پھر پھر ان حضرات سے غلطی کیوں نہیں ہو سکتی؟ بعد کی تمام تواریخ، طبری ہی سے ماخوذ ہیں، اس وجہ سے اصل کتاب تاریخ طبری ہی ہے۔ طبری کا بھی اگر آپ مطالعہ کریں تو جگہ جگہ وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ واقدی یا ابو مخنف کی کتاب میں اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں تھیں، جن کا ذکر مناسب نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود انہوں نے بھی واقدی اور ابو مخنف کی ہر بات کو نہیں لے لیا بلکہ اس میں سے انتخاب کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انتخاب کرتے ہوئے وہ بھی بہت جگہ غیر محتاط ہو گئے ہیں۔ اس سے ان کی جلالت علمی پر فرق نہیں آتا تاہم طبری کی علمی غلطی  پر  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کی کردار کشی نہیں کی جا سکتی ہے۔

میرا موقف یہ ہے کہ واقدی، ابومخنف، سدی، کلبی اور ہشام کلبی کی کسی ایسی روایت کو قبول نہ کیا جائے جس سے صحابہ کرام پر جرح ہو رہی ہو کیونکہ یہ لوگ خود مجروح ہیں اور ان پر جرح بھی معمولی نہیں ہے بلکہ روایتیں وضع کرنے کے لیے یا گھڑی ہوئی روایتوں کو قبول کرنے کے لیے یہ لوگ مشہور ہیں۔ یہاں معاملہ یہ نہیں ہے کہ کسی راوی کی تاریخ پیدائش کا دوسرے کی تاریخ وفات سے موازنہ کرنے کا مسئلہ درپیش ہے بلکہ یہاں تو سیدھا سیدھا جھوٹی روایتیں گھڑنے اور انہیں قبول کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔

اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان حضرات کی بیان کردہ روایتوں کی بنیاد پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو موجودہ دور کے کرپٹ سیاستدانوں جیسا ثابت کرنا چاہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پھر مسئلہ محض تاریخ تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ سوال بھی زیر بحث آئے گا کہ کیا  نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن میں ناکام رہے اور ان کے جو بہترین ساتھی تھے، انہیں بھی معاذ اللہ موجودہ سیاستدانوں جیسوں پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ پھر آپ قرآن و حدیث کو کیسے قبول کریں گے جو انہی صحابہ کی وساطت سے ہم تک پہنچے ہیں۔ میرے خیال میں چاہے سیدنا علی ہوں یا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما، ان کی کردار کشی کرنے والوں کے پیش نظر یہی تھا کہ ان ہستیوں کے کردار کے اجلے دامن کو داغدار کر دیا جائے تاکہ اس سے آگے بڑھ کر اسلام  کے اصلی مآخذ  سے متعلق شکوک و و شبہات پیدا کیے جا سکیں۔

اگر آپ ان گروہوں کی تحریروں کا مطالعہ فرمائیں تو وہ اسلام کی ان جلیل القدر ہستیوں کو انہی جھوٹی روایتوں کی بنیاد پر مجرم ٹھہراتے ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے ان کی ایک تحریر دیکھی جس میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایسی ہی بعض روایتوں کی بنیاد پر نعوذ باللہ کریمینل وار قرار دیا گیا تھا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ دوسرا گروہ سیدنا علی ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے ساتھ  کرتے ہیں اور ان پر نہایت ہی گھناؤنے الزام عائد کرتے ہیں جن کو نقل کرنے سے قلم لرزتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ معاذ اللہ اچھے کردار کے حامل نہ تھے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کیوں کی اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بیعت کیوں فرمائی اور ان کے زیر سایہ بیس سال تک رہے؟

اللہ تعالی ابن جریر طبری پر رحم فرمائے کہ انہوں نے ان حضرات کی روایات کو قبول کر کے امت کو ایک فتنے میں مبتلا کیا۔  طبری نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ان کی کتاب میں تمام روایات صحیح اور مستند ہیں۔ اللہ تعالی موجودہ دور کے ان مصنفین پر بھی رحم فرمائے کہ انہوں نے ان روایات کی بنیاد پر اپنی کتب لکھیں جس کے نتیجے میں امت ایک بڑے فتنے میں مبتلا ہوئی۔

میرے خیال میں ہم ایک دوسرے پر اپنا نقطہ نظر واضح کر چکے ہیں اور اس موضوع پر مزید بحث کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ آپ بھی اسی ضمن میں دونوں نقطہ ہائے نظر کا مطالعہ کر کے جو رائے قائم فرمانا چاہیں، کر لیجیے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply as soon as possible if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com.

تعمیر شخصیت لیکچرز

کمزور روایتوں کی بنیاد پر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی کردار کشی
Scroll to top