اسم اشارہ اور موصول، اور  مشار الیہ اور مبتدا میں فرق

ڈئیر مبشر بھائی

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے آپ ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔ آپ نے سوالات کے بارے میں پوچھا تھا تو آج سے ہی پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

عربی کے حوالے سے سوال ہے کہ: اسم اشارہ اور اسم الموصول میں کیا فرق ہے۔؟ کیونکہ مجھے تو دونوں استمال کے لحاظ سے اور معنوں کے اعتبار سے ایک جیسے لگے ہیں۔ البتہ تعداد میں فرق ضرور ہے؟ دوسرا سوال بھی اسی سبق سے متعلق یہ ہے کہ مبتدا اور مشارالیہ کی تعریف کیا ہے؟  مشارالیہ تو شاید وہ چیز ہوتی ہے جس کے بارے میں اشارہ ہو لیکن مبتدا کی سمجھ نہیں آ رہی۔

محمد جاوید اختر

دوحہ، قطر

مارچ 2012

ڈئیر جاوید بھائی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

کافی عرصے بعد سوالات دیکھ کر خوشی ہوئی۔  جواب یہ ہیں۔

یہ، وہ اسم اشارہ ہیں جبکہ جو، جس، جن اسم موصول ہیں۔ عربی میں ان کے متبادل استعمال ہوتے ہیں۔ استعمال اردو اور عربی میں ایک سا ہی ہے۔ جب ہم عام طور پر کسی حسی فزیکل چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو عربی میں بالعموم ھذا، ذالک ، اردو میں یہ وہ اور انگریزی میں دس دیٹ استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں اسم اشارہ کہا جاتا ہے۔  اس کے برعکس اسم موصول کا استعمال کسی ایسی چیز کے لیے ہوتا ہے جو بولنے والے کے ذہن میں موجود ہو۔  عربی میں ما اور من، اردو میں جو، جس ، جن اور انگریزی میں ہو، وچ، ہیم  قسم کے اسم موصول استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ عمومی اصول ہے۔ کبھی اس کا الٹ بھی ہو جاتا ہے جس کی تفصیل آپ عربی کے ایڈوانسڈ ماڈیول میں پڑھیں گے۔

(who, which, whom)

۲۔ مشار الیہ کی مثال ہے “یہ کتاب۔” اس میں کتاب مشار الیہ ہے۔ مبتدا کی مثال ہے “یہ کتاب ہے۔” اس میں لفظ ‘یہ’ مبتدا ہے جبکہ “کتاب ہے” اس کی خبر ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ بناتے ہیں جبکہ اسم اشارہ اور مشار الیہ مل کر کوئی جملہ نہیں بناتے بلکہ یہ ایک نامکمل جملہ ہوتا ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

تعمیر شخصیت لیکچرز

اسم اشارہ اور موصول، اور  مشار الیہ اور مبتدا میں فرق
Scroll to top