سوال: سورہ القریش میں اللہ تعالی نے اپنی ایک نعمت کا ذکر کیا کہ اللہ تعالی نے قریش میں سردی اور گرمی کے سفر کی محبت پیدا کی۔ برائے مہربانی سفر کی محبت کی وضاحت فرما دیں۔
ڈاکٹر ثوبان انور، فیصل آباد
جواب:یہاں پر محبت سے مراد ماٹیویشن ہے۔ اس کے لیے آپ کو جاہلیت کی ہسٹری میں دیکھنا ہو گا۔ جاہلیت میں مسئلہ یہ تھا کہ کوئی انسان دوسرے قبیلے کے علاقے سے گزر نہیں سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص یا قافلہ دوسرے قبیلے کے اندر گزرتا تو پھر ان سب کو پکڑ لیا جاتا اور ان کی اشیاء پر قبضہ کر لیا جاتا اور انسانوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ صرف چار مہینے تھے، جن میں سفر ممکن تھا ۔ یہ مہینے حج کے لیے اور ایک عمرہ کے لیے۔سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما الصلوۃ والسلام نے جو کچھ سکھایا تھا، وہ تو جاہلیت میں بھول چکے تھے، لیکن حج اور چار مہینوں کا احساس ان میں باقی تھا۔
قریش کے لیے معاشی طور پر فائدہ یہی تھا کہ حج کے لیے بہت سے قبائل آتے تو وہاں میلے میں بزنس چلتا تھا اور قریش کی اکنامکس اس طرح چلتی تھی۔ 500 عیسوی کیلنڈر کے زمانے میں قریش کی اکنامکس خراب ہوئی تھی اور وہ بہت پریشان تھے۔ اس وقت اس قبیلے کے ہیڈ جناب ہاشم صاحب تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑدادا تھے۔ انہوں نے قریش کو ماٹیویٹ کیا کہ یمن سے لے کر فلسطین تک بزنس شروع کرو۔
قریش ڈر رہے تھے کہ ان کے قافلے پر ڈکیتی ہو جائے گی لیکن مکہ کے اہم لیڈر ہاشم صاحب نے سمجھایا کہ حرم شریف کی وجہ سے آپ کا احترام ہو گا۔ جب قریش حضرات نے یہ بزنس شروع کیا تو حرم شریف کی وجہ سے انہیں سکون مل گیا اور اس زمانے کے انٹرنیشنل بزنس کی حیثیت قریش کی بن گئی۔ یمن میں چین، انڈیا، افریقہ کی اشیاء پہنچنے لگیں جنہیں قریش لے کر تمام قبائل کو بیچتے اور پھر فلسطین میں لے جاتے۔
وہاں سے یہ اشیا یورپ اور شمالی افریقہ پہنچ جاتیں۔ دوسری طرف یورپ اور شمالی افریقہ کی اشیا فلسطین میں آ جاتیں اور قریش ہی خرید کر یمن میں لے جاتے جہاں سے یہ اشیا انڈیا اور چین میں چلی جاتیں۔ قریش کے اس امن کی وجہ سے دیگر قبائل بھی اپنی رقم کو قریش میں انویسٹمنٹ کرنے لگے تھے۔
اس سورت القریش میں سفر کی ماٹیویشن کو اللہ تعالی نے اپنی عنایت فرمایا ہے اور انہیں یہ بھی بتایا ہے کہ یہ سب سے بڑا سکون بھی انہیں حرم شریف کی وجہ سے ملاتھا۔ اسے آپ میرے اس لیکچر میں دیکھ سکتے ہیں جس میں میں نے خود اس لوکیشنز میں سفر کر کے دیکھا تھا۔
اہل عرب کی تاریخ 1-610
HS10 – History of Arab Trible Countries during 0-610CE
جازان، ابہا اور فیفا ماؤنٹین
سوال:قرآن میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اللہ تعالی بہت سے معاملے میں اصول وضع کر دیتے ہیں اور پھر لوگوں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنے حالات کے حساب سے اس اصول کا اطلاق کرتے جائیں۔ سورہ شوری کی آیت 40 میں اللہ تعالی نے ایک اصول بیان کیا ہے ہے برائی کا بدلہ اِسی جیسی برائی ہے۔
اب اگر کوئی شخص اس کو ایک اصول کے طور پر دیکھے تو وہ لازماً اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ قتل کا بدلہ قتل ہوگا، آنکھ کے نقصان کا بدلہ آنکھ کا نقصان ہوگا نیز کسی بھی برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہوگا۔ لیکن بدلے کے ساتھ ‘برائی’ کا لفظ استعمال کرنے سے کیا اس بات کا بھی امکان نہیں بن جاتا کہ کوئی شخص اس سے یہ استدلال کرے کہ کسی نے اگر اس کے گھر کے کسی فرد کی عصمت دری کی ہے تو بدلے میں وہ بھی اتنی ہی برائی یعنی اس کی بھی عصمت دری کا حق رکھتا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ ‘برائی’ لفظ کے استعمال سے معاملہ مشتبہ سا نہیں ہو جاتا؟
جواب: لفظ برائی دو مختلف معنی میں آتا ہے۔ ایک تو گناہ ہوتا ہے جس میں ہم اللہ تعالی کے حکم کے خلاف عمل کر رہے ہوتے ہیں۔اس کی مثال ہے کہ جیسے ہم جھوٹ بولیں، نماز چھوڑیں، زکوۃ ادا نہ کریں، فراڈ کر لیں وغیرہ۔
دوسری شکل ایسی ہوتی ہے جو اصل میں برائی نہیں ہوتی لیکن دوسرے شخص کے ذہن میں برائی لگتی ہے۔ ایک مجرم کو جب حکومت سزا دیتی ہے، تو اللہ تعالی کے حضور جج اور پولیس کے لیے برائی نہیں ہوتی ہے کیونکہ قرآن مجید میں عدالت اور پولیس کو یہ اجازت دی ہوئی ہے۔ ہاں اس مجرم کے نقطہ نظر سے یہ برائی محسوس ہے۔ اس صورتحال میں اصل میں اس شخص کی نفسیاتی اعتبار سے برائی بیان ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقی برائی ہے اور دوسری مجازی برائی ہے جو اصل میں برائی نہیں ہے۔اس آیت میں اس مجرم کے ذہن میں جو برائی ہوتی ہے، وہ بیان ہوئی ہے کہ جب وہ دوسروں پر ظلم کرتا ہے، تو پھر یہی برائی جو دوسروں پر ظلم کر رہا ہوتا ہے، وہ اس مجرم کو بھی پہنچ جاتی ہے۔
آپ کا اصل سوال یہ ہے کہ برائی لفظ کے استعمال سے معاملہ مشتبہ سا نہیں ہو جاتا؟
یہ مشتبہ نہیں ہوتا ہے بلکہ مجرم کو برائی محسوس ہوتی ہے۔ ورنہ تمام انسان اسے حق ہی سمجھتے ہیں کہ اس مجرم کو سزا دی گئی ہے۔ اس میں مشورہ یہی عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں ایک لفظ کا معنی ہی نہ سمجھا کریں بلکہ اس پورے جملے کو پڑھ کر غور کیا کریں تاکہ سیاق و سباق سامنے آ جائے۔
سوال: سورہ رحمن کی آیت 19 میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ‘اس نے دو دریا جاری کر دیے، جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں’۔ یہ کسی خاص دریاؤں کی بات ہو رہی ہے یا عمومی بات ہورہی ہے کہ جہاں بھی دو دریا ملتے ہیں وہاں یہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے؟
جواب: یہاں کسی خاص دریا کی بات نہیں ہے بلکہ زمین میں بہت سے مقامات ہوتے ہیں جہاں دو دریا ایک دوسرے سے میچ کرتے ہیں۔ جب دریا آخر میں سمندر میں گرتا ہے تو اس وقت سمندر بھی دریا کے اندر گھس جاتا ہے۔ یہ ڈیلٹا کا علاقہ ہوتا ہے اور وہاں آپ خود دریائے سندھ کے آخر میں چیک کر سکتے ہیں کہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے اور دریا کا میٹھا پانی ہوتا ہے۔ میں خود ایک بار کیٹی بندر میں گیا تو وہاں کے کشتی والے کہہ رہے تھے کہ آپ کو وہ علاقہ بھی دکھا دیتا ہوں کہ ایک طرف ٹچ کریں تو کھارا پانی اور دوسرے طرف ٹچ کریں تو میٹھا پانی ملے گا۔
عربی میں دریا اور سمندر کے لیے ایک ہی لفظ “بحر” استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں ہم نے الگ لفظ بنا دیے ہیں جبکہ عربی میں ایک ہی لفظ دونوں پر استعمال ہوتا ہے۔ ڈیلٹا کا ٹوور ازم کبھی کیجیے گا تو اس میں آپ کو خود نظر آ جائے گا کہ کھارا اور میٹھا پانی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے میں مکس نہیں ہوتے ہیں۔
سوال: سورہ رحمن کی آیت 36 میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ تم پر آگ کے شعلے اور تانبہ چھوڑا جائے گا، پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اسی طرح اور بھی آیتوں میں عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ پھر تم رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں پر عذاب نعمت کس طرح ہوئے؟
جواب: عذاب بھی تو انسانیت کے لئےایک نعمت ہے۔ خاص طور پر وہ مجرم جو ہمیں دہشت گردی، تشدد اور دیگر حرکتیں کرتےنظر آتے ہیں تو انہیں دیکھ کر ہمارے دل میں کتنی خواہش ہوتی ہے کہ ان مجرموں کو سزا ملے۔ اس لیے جب آخرت میں ہم اپنے ان مجرموں کو سزا میں پڑا ہوادیکھیں گے تو پھر ہمیں اس نعمت کا احساس ہو گا اور کتنا سکون ہو گا۔ ابھی بھی اگر عدالت میں کسی مجرم کو سزا ملتی ہے اور اس جرم کے متاثرین میں ہم ہوں، تو پھر ہمیں اس سزا پر کتنا سکون ملتا ہے۔ اس سے ہم اس نعمت کو سمجھ سکتے ہیں۔
سوال: قرآن عام طور پر مسلمانوں کو جنت میں سیرت اور صورت کے لحاظ سے ایک بہترین ہمسفر کی بشارت دیتا ہے۔یہاں پر ان پاکیزہ خواتین کا ذکر ہے جو ہمیں آخرت میں ملیں گی جنہیں عربی میں حور خاتون کہتے ہیں۔ ہمارے علماء کا عام طور پر یہ ماننا ہے کہ مسلمانوں کو جنت میں حوریں ملیں گی اور ان حوروں کی سردار ہماری دنیاوی بیویاں ہوں گی۔ لیکن اس دنیا میں بہت ساری عورتیں ایسی بھی ہوں گی جن کی شادیاں ان کی بغیر مرضی کے کرائی گئی یا بہت ساری ایسی بھی ہوں گی جو جنت میں تو چلی جائیں گی لیکن ان کے خاوند شاید جنت میں نہ جا سکیں۔ ایسی عورتوں کے بارے میں ہمیں قرآن کیا بتاتا ہے؟
اس سوال کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر آج کل حقوق نسواں کی علمبردار عورتوں کے ذہن میں یہ عام سوال اٹھتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس دین پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جن انعامات کا اعلان کیا ہے وہ بظاہر صرف مردوں کے لیے نظر آتے ہیں۔ وہ عام طور پر یہی سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ ہمارے رب نے ہم عورتوں کو کیا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایک مرد کی تابعدار بیوی رہنے کے لئے بنایا ہے؟
جواب: مستقبل میں جو کچھ ہو گا، اس کا جب ہم تجربہ کریں گے تو اس وقت معلوم ہو گا۔ بہت سے علماء نے ان متشابہات میں بحثیں کر دی ہیں جس سے احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرما دیا تھا۔ لیکن مسلمانوں میں جب یونانی فلسفہ پھیلا تو انہوں نے جنت اور جہنم کی متشابہات پر بحثیں شروع کر دی تھیں۔
سوال کے دوسرے حصے کے متعلق قرآن میں اللہ تعالی نے کچھ نہیں بتایا ۔ ہاں لاجک سے ہم خود سمجھ سکتے ہیں کہ میاں اور بیوی دونوں نیک ہوں اور جنت میں پہنچ جائیں تو پھر دونوں ایک دوسرے کے پارٹنر بن سکتے ہیں اور دونوں میاں بیوی انجوائے کرسکتے ہیں۔ اگر میاں یا بیوی جنت میں نہ جائے تو پھر اس کی شادی کسی اور سے کی جا سکتی ہے۔
قدیم زبانوں میں خواہ عربی، اردو، انگلش سب میں وہی الفاظ استعمال ہوتے تھے جو مردوں سے متعلق ہیں، لیکن ان الفاظ کا تعلق خواتین سے بھی تھا۔ مثلاً یہ کہا کہ تمام انسان بہت اچھے ہیں۔ اب کہنے میں تو انسان سے کوئی مرد کہہ دے لیکن اس سے مراد مرد اور خاتون سب ہی ہوتے تھے۔
حقوق نسواں کی تحریک کے نتیجے میں یہ کہا گیا کہ دونوں کے الفاظ الگ کریں۔ ان کے اس نقطہ نظر سے متفق ہوا تو میں ترجمے میں اس طرح لکھتا ہوں کہ ہی اینڈ شی جہاں تک تابعداری کا تعلق ہے، تو اس کا تعلق مرد یا عورت سے نہیں ہے بلکہ فیملی کے رشتے میں ہے۔ فیملی تب بنتی ہے جب مرد اور عورت میں معاہدہ پیدا ہوتا ہے جسے ہم نکاح کہتے ہیں۔ ہزاروں صدیوں سے یہ معلوم ہے کہ گھر کے ادارے کی فائنانشل ذمہ داری شوہر کی ہوتی ہے جبکہ خواتین پر فائنانشل ذمہ داری نہیں ہوتی رہی۔
اسی بنیاد پر اللہ تعالی نے بتا بھی دیا کہ اپنی فائنانشل ذمہ داری کی بنیاد پر شوہر کو گھر کے ادارے کا ہیڈ بنایا گیا ہے کیونکہ وہی فائنانس انویسٹ بھی کرتا ہے اور ساری عمر تک اخراجات اٹھاتا ہے۔ اب بیوی کو اللہ تعالی نے یہی بتا دیا کہ وہ تابعدار رہے یعنی اپنے ادارے کے ہیڈ کے ساتھ اچھا تعلق رکھے اور معاہدے کے عین مطابق عمل کرے۔ اسی طرح شوہر پر بھی اس معاہدے میں ذمہ داریاں ہوتی ہیں جس میں کم از کم اخراجات اسی نے ادا کرنے ہوتے ہیں۔
اب ہمارے ہاں انڈین کلچر میں الٹے اثرات پیدا ہوئے تھے۔ انڈیا میں خواتین پر بہت سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور انہوں نے دینی طور پر بیوہ خاتون پر یہ ذمہ داری عائد کی ہوئی تھی کہ وہ بھی شوہر کے ساتھ ستی کر کے اسی آگ میں مر جائے جہاں اس کے شوہر کی لاش جلائی جائے گی۔ جب یہ ہندو مسلمان ہوئے، تو وہ اپنی رسمیں اور عادتیں اسلام میں لے آئے۔ پھر یہی لوگ جب فقہا بن گئے تو انہوں نے ہندومت کی جو پابندیاں تھیں، انہیں بھی علم الفقہ کے اندر پھنسا دیا اور اس طرح اسلام میں بھی بڑی پابندیاں شامل ہو گئیں۔
پچھلی صدی میں خواتین میں تعلیم کا رجحان پیدا ہوا اور وہ معاشی طور پر کافی انڈیپنڈنٹ بن گئیں تو انہوں نے تحریک نسواں کو پاکستان اور انڈیا میں پھیلایا اور انہوں نے فقہا پر بھی شدید تنقید کی۔ اب فقہاء کو یہ مصیبت پیدا ہوئی کہ انہوں نے فقہ کی کتابوں میں مدارس میں جو پڑھا تھا، اس کی روشنی میں انہیں لگا کہ تحریک نسواں تو دین کے خلاف ہے۔ حالانکہ فقہاء اگر قرآن مجید کو پڑھ کر فقہ میں جو کچھ ہندومت سے آیا تھا، اسے نکال دیتے تو جان چھٹتی تھی۔
یہ ساری بحث آپ کو علامہ اقبال کی کتاب دی ریکن سٹرکشن آف اسلامک تھاٹ میں مل سکتی ہے۔ پھر بہت سے فقہاء میں اختلاف پیدا ہوا اور بحثیں جاری رہیں۔ اس کی تفصیل آپ میرے ان لیکچرز میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان لیکچرز میں سبھی فقہاء کے دلائل موجود ہیں۔ پھر آپ خود قرآن مجید سے میچ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔
والسلام
محمد مبشر نذیر
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com