سورۃ الملک 67: اللہ تعالی کی طاقت اور کائنات کا کنٹرول جبکہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
Surah-67-68-Al-Malik-Al-Qalam-سورۃ-الملک-اور-سورۃ-القلمآیات 1-5: اللہ تعالی کا کائنات میں کنٹرول
آیات 6-18: منکرین کے لیے آخرت اور موجودہ دنیا میں سزا کا اعلان
آیات 19-24: انسان کی زندگی کا مقصد
آیات 25-28: جزا و سزا سے متعلق سوال جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وحی کا سلسلہ مکہ مکرمہ میں 609 عیسوی کیلنڈر میں ہوا۔ اس وقت شروع میں جو سورتیں نازل ہوئیں، ان میں سورۃ الملک بھی ہے۔ اس میں عربوں کے توہم پرستی کے سوالات پیدا ہوئے تو ان کا جواب بھی دے دیا۔
موجودہ زندگی میں سزا کا اعلان ان منکرین کے لیے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کے لوگ تھے۔ انہیں سزا کو سورۃ التوبہ میں کنفرم کر دیا اور اس پر عمل بھی ہو گیا۔ اس میں صرف انہی منکرین پر ایکشن ہوا جو لیڈرز تھے اور وہ سب مارے گئے لیکن ان کی اکثریت ایمان لائیاور انہیں سزا نہیں ملی۔ اس سزا کا مقصد صرف یہی تھا کہ باقی دیگر انسانوں کو ایک پریکٹیکل ایویڈنس مل جائے کہ سب انسانوں کے ساتھ آخرت میں جزا یا سزا کا سلسلہ ہونا ہی ہے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ اپنی موجودہ زندگی میں پرفارمنس کر کے آخرت کی زندگی میں کامیاب ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعدجزا و سزا کا موجودہ زندگی میں ایکشن کا سلسلہ نہیں ہوا کیونکہ عہد رسالت میں جو کچھ ہوا، وہی ایویڈنس کافی ہے۔ ہاں کبھی کبھار موجودہ زندگی میں بھی چھوٹی موٹی سزا یا نیکی کا اجر بھی مل جاتا ہے ۔ یہ صرف ایک الرٹ ہوتی ہے کہ ہمیں کس طرح کامیاب زندگی گزارنی ہے۔ مثلاً قاتل اور چور کو عدالت میں سزا ملتی ہے۔ اسی طرح ہم نیکی کرتے ہیں تو اپنے ذہن میں خوشی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ سب بھی ایویڈنس کافی ہے کہ آخرت میں کنفرم نیکی کا اجر اور برائیوں کی سزا ملنی ہے۔
Question Answers: mubashirnazir100@gmail.com
Download: https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1t4LonZnX6kYGOewLs1KcaNrJZ8niPF0t
سورۃ القلم 68: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا طریقہ کار اور آخرت سے متعلق سوال جواب
آیات 1-7: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت اور سوال جواب
آیات 8-16: دعوت کے وقت جن لوگوں سے بچنا
آیات 17-33: ناکامی اور نقصانات کی مثال
آیات 34-45: آخرت میں مخلص افراد اور مجرمین کے نتائج
آیات 46-52: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعوت کا اصول
سورۃ القلم کا موضوع یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت کی جائے۔ یہ سورۃ بھی شروع کے زمانے میں ہوئی جس میں دعوت دین کا طریقہ کار اور اہل ایمان کی تربیت کی ضرورت تھی۔ اس میں کچھ ہی عرصے میں ٹارچرز کا سلسلہ بھی آنا تھا جس میں منکرین لیڈرز نے اپنے غلاموں تک جسمانی ٹارچر شروع کرنا تھا۔ اس کے علاوہ آزاد شخصیت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر نفسیاتی ٹارچرز تو ہونے ہی تھے کیونکہ ان کے والدین اور رشتے دار جسمانی ٹارچر بھی کر سکتے تھے۔ دعوت کے دوران اہل ایمان اور منکرین دونوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوں گے تو ان کا جواب بھی انہیں اسی سورۃ القلم میں دے دیا ہے اور پھر دیگر سورتوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہی ہوا کہ اہل ایمان میں جو کنفیوشن پیدا ہو تو اس کا جواب انہیں پہلے ہی مل جائے اور ان کا ذہن واضح رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا بہترین طریقہ یہی تھا کہ قرآن مجید اونچی آواز میں تلاوت کرتے۔ عرب لوگوں کی زبان وہی تھی اور انہیں لیکچرز اور شاعری میں دلچسپی تھی۔ قرآن مجید کی زبان اتنی خوبصورت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تھی کہ منکرین بھی اسے سنتے اور متاثر ہو جاتے تھے۔ اس کے لیے ٹاپ منکر لیڈر ولیدبن مغیرہ المخزومی نے جب قرآن سنا تو بے اختیار تبصرہ کیا تھا: ’’بخدا ، تم میں سےکوئی شخص مجھ سے بڑھ کر نہ شعر سے واقف ہے ، نہ رجز اور قصیدہ سے اور نہ جنات کے الہام سے ۔ خدا کی قسم ، یہ کلام جو اس شخص (محمد) کی زبان سے جاری ہے، ان میں سے کسی چیز سے مشابہ نہیں ۔ بخدا ، اس کلام میں بڑی حلاوت او راس پربڑی رونق ہے ۔ اس کی شاخین ثمر بار ہیں ۔ اس کی جڑیں شاداب ہیں ۔ یہ لازماً غالب ہو گا، اس پر کوئی چیز غلبہ نہ پا سکے گی ۔ اور یہ اپنے نیچے ہر چیز کو توڑ ڈالے گا ۔ “ (السیرہ النبویہ لابن کثیر 499/1)
جب منکرین کا تبصرہ تھا تو ان کی کنفیوژن قرآں مجید سے کیسے کلیئر ہوتی رہی ہے۔ جو مخلص ہو گئے تو وہ ایمان لائے لیکن جن میں تعصب تھا توہ ایمان نہیں لائے۔
سورۃ الحاقۃ 69: موجودہ زندگی کے امتحان کا فائنل ریزلٹ
Surah-69-70-Al-Haqah-Al-Maarij-سورۃ-الحاقۃ-اور-المعارجآیات 1-3: اسی دنیا میں جزا و سزا کا اعلان
آیات 4-12: اسی دنیا میں جزا و سزا کی مثالیں
آیات 13-18: مستقبل میں اصل زندگی یعنی آخرت کا طریقہ کار
آیات 19-24: اسی دنیا کے امتحان کا فائنل ریزلٹ ۔۔۔ کامیابی
آیات 25-37: اسی دنیا کے امتحان کا فائنل ریزلٹ ۔۔۔ فیل
آیات 38-47: عربوں کی قرآن مجید سے متعلق غلط فہمیوں کا جواب
آیات 48-52: قرآن مجید کا مقصد
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بنیادی موضوع یہی اختیار کیا ہے کہ ہر انسان کی موجودہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس موجودہ زندگی کا مقصد امتحان ہے تاکہ مستقبل میں لا محدود زندگی میں کامیاب ہو سکیں؟ اب اس امتحان میں ہم لوگ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کے زمانے میں انہی کی اقوام کی پرفارمنس میں جزا و سزا کی مثال کےطور پر کر دیا تاکہ ہر انسان سمجھ لے کہ کامیابی کے لیے کیا پرفارمنس کرنی چاہیے اور کن غلطیوں سے بچنا ہے؟
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری رسول ہیں۔ اس لیے آپ ہی کی عرب قوم میں کامیاب لوگوں کو جزا پریکٹیکل کر کے دکھا دیا اور منکرین پر سزا کو پریکٹیکل اپلائے کر کے دکھا دیا تاکہ اگلی جنریشن میں تمام انسان کامیابی کے لیے تیاری کر سکیں۔ اب ہر انسان کو آزادانہ آپشن ہے کہ وہ جنت یا جہنم کا خود انتخاب کر سکے۔
سورۃ المعارج 70: اسی دنیا کے امتحان کے نتائج
آیات 1-7: اسی زندگی میں جزا و سزا کی ٹائم لائن
آیات 8-18: اسی دنیا کے امتحان کے نتائج ۔۔۔ آخرت
آیات 19-44: اسی دنیا کے امتحان کے نتائج ۔۔۔ ناکام اور کامیاب
سورۃ نوح 71: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت، دعوت اور فائنل رزلٹ
Surah-71-72-Nooh-Al-Jinn-سورۃ-نوح-اور-الجناللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہی اصول فرمایا ہے کہ آخرت میں ہر انسان کے ساتھ جزا یا سزا کا سلسلہ ہونا ہے، اس کے لیے اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کے ذریعے پریکٹیکل ثبوت کر کے دکھا دیا تاکہ ہر انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کا رزلٹ بھی اسی طرح کا ہونا ہے۔ یہ سلسلہ سب سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام میں لیبارٹری میں ٹسٹ کر کے دکھا دیا۔ آپ کا ٹائم تقریباً 75000BC کا زمانہ ہے۔ آپ طویل عرصے تک اللہ تعالی کا پیغام سمجھاتے رہے اور تربیت کرتے رہے۔ اس قوم کے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے تو انہیں موجودہ زندگی میں سزا یہ کر دی کہ پوری قوم کو سیلاب میں تباہ کر دیا۔ جو اہل ایمان تھے، ان سب کو شاندار اکنامکس دے دی اور وہ باقی زندگی تک انجوائے کرتے رہے جو ان کے ایمان اور نیک عمل کی جزا جو پریکٹیکل رزلٹ تھا۔
The Cradle of Civilization اس قوم کا علاقہ ترکی اور عراق کا علاقہ تھا اور تاریخ میں اس علاقے کو کہا جاتا ہے کیونکہ قدیم تاریخ میں سب سے قدیم ترین ایویڈنس آثار قدیمہ کی شکل میں مل چکا ہے۔
آیات 1-28: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت اور دعوت
مزید مطالعہ: سورۃ ھود 11
آیات 36-49: نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت کارزلٹ
سام، حام اور یافث ۔۔۔۔ انسانیت کی امیگریشن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم پر بالکل ایسی وارننگ قرآن مجید کی اکثر سورتیں اور فائنل رزلٹ سورۃ التوبہ9 میں بیان ہوا ہے جو تاریخ کی حقیقت ہے۔
سورۃ الجن 72: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کی غلط فہمیوں کا جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قرآن مجید کو مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے پاس پڑھا رہے تھے اور عام مخلص لوگ اس پر ایمان لا رہے تھے۔ جو لوگ ابھی ایمان نہیں لائے تھے لیکن وہ بھی متاثر ہو رہے تھے اور ان کی اکثریت کئی سالوں میں ایمان لے ہی آئے۔ جس وقت لیڈرز کو خطرہ پیدا ہوا کہ ان کی لیڈرشپ ختم ہو جائے گی کیونکہ یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ ان کے پیروکار اور اپنے بچوں کو دیکھا کہ وہ قرآن مجید سے متاثر ہو رہے ہیں تو انہوں نے یہ کہانی ایجاد کر دی کہ یہ اصل میں جنات نے اتنی خوبصورت زبان پیدا کی ہے اور وہی جنات ہی قرآن کو پہنچا رہے ہیں تاکہ ان نوجوانوں اور بچوں کو شرک سے نکالیں۔
اس کا جواب دیتے ہوئےاللہ تعالی نےبتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قرآن مجید پڑھا رہے تھے تو اس وقت مخلص جنات بھی ایمان لائے تھے اور انہوں نے اپنی قوم کو قرآن مجیدسنایا ہے تو ان کے بڑے لوگ بھی ایمان لائے ہیں۔ جنات میں اتنی کوئی طاقت نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو ہدایت دے سکیں۔ انہوں نے قریش کو بتایا کہ ان کے ہاں جو توہم پرستی ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ انہیں لاجیکل سوچ کر قرآن مجید کا مطالعہ کریں۔
آیات 1-15: جنات کا قرآن مجید پر تبصرہ
آیات 16-28: توہم پرست قریش پر توحید کی دعوت تاکہ توہم پرستی سے لوگ بچ سکیں۔
اس کا رزلٹ یہی ہوا کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان لائے، وہ توہم پرستی سے بچے تو شرک اور جادو ٹونا سے بچتے رہے۔
سورۃ المزمل 73 ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت ذمہ داری، مشکلات اور اس کا حل
Surah-73-74-Al-Muzzammil-Al-Muddassir-سورۃ-المزمل-اور-المدثرآیات 1-11: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت ذمہ داری، مشکلات اور اس کا حل
آیات 12-19: منکرین کے نتائج
آیت 20: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سخت ذمہ داری کا حل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داریاں اور دعوت دین کی جدوجہد کا مطالعہ کرنا چاہیے جو سیرت نبوی کی کتابوں میں ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ 609 میں ہوا۔ اس وقت آپ پر ذمہ داری تھی کہ اپنی فیملی اور قریب ترین دوستوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ دعوت کا طریقہ کار یہی تھا کہ قرآن مجید کی جو سورتیں نازل ہوتیں تو انہیں میں مشرکین اور اہل ایمان کے سوالات کا جواب ملتا رہتا اور ان کی توہم پرستی ختم ہوتی اور وہ آسانی سے ایمان لاتے۔ پہلے تین سال میں امن و سکون کے ساتھ دعوت کی ذمہ داری ادا ہوتی رہی۔
اس کے بعد 612 عیسی کیلنڈر میں مشکلات کا دور آیا۔ یہی دونوں سورتیں سورۃ المزمل اور سورۃ المدثر نازل ہوئیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ذمہ داری کا حکم آیا کہ اب آپ کھلے عام پورے مکہ مکرمہ کے لوگوں تک دعوت پہنچا دیجیے۔ تب بھی مشکلات کا دور شروع ہوا کہ منکرین لیڈرز نے اس دعوت کو روکنے کے لیے تشدد کا سلسلہ شروع کیا۔ بالخصوص غلاموں پر جسمانی تشدد جاری ہوا جبکہ آزاد لوگوں کو ان کی فیملی نے ذہنی ٹارچر اور کسی حد تک جسمانی تشدد کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی فیملی اور قریب دوستوں پر دعوت کر چکے تھے اور وہ ایمان لائے تھے۔ بالخصوص صابقون الاولون یعنی سب سے پہلے ایمان لائے جو سیدہ خدیجہ، علی، ابوبکر صدیق، زید، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف اور ابوعبیدہ، سعید بن زید رضی اللہ عنہم ایمان لائے تھے۔ ان سابقون الاولون میں سے عشرہ مبشرہ یعنی 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بشارت کا اعلان بھی ہوا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رشتے داروں سے دعوت کا سلسلہ جاری کیا تو بعض لوگ ایمان لائے لیکن آپ ہی کے چچا ابولہب نے بہت ذہنی تشدد شروع کیا۔ انہی دونوں سورتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت جاری رہی اور سخت ذمہ داریوں کا حل بھی ارشاد فرما دیا ہے۔ تشدد کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے حکم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے غلاموں کو آزاد کرنا شروع کیا اور پھر انہیں ہجرت کر کے افریقہ پہنچا دیا جہاں وہ امن و سکون سے رہنے لگے۔
سورۃ المدثر 74: بڑے پیمانے میں دعوت کا حکم جبکہ منکرین کا رویہ اور ان کے نتائج
بڑے پیمانے میں دعوت کا حکم اور منکرین کا رویہ اور ان کے نتائج
آیات 1-7: رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو بڑے پیمانے میں دعوت کا حکم
آیات 8-31: منکرین کا رویہ اور ان کے نتائج
آیات 32-51: منکرین کے مذاق کا جواب
آیات 52-56: قرآن مجید کا مقصد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پہنچاتے رہے۔ لیڈرز جیسے ابوجہل اور ابولہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذہنی ٹارچرز کرتے رہے جبکہ غلام یا اپنی اولاد پر جسمانی تشدد کرتے رہے۔ اللہ تعالی نے کچھ عرصے تک ان کے صبر کا امتحان ہوا اور پھر انہیں پہلے افریقہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ پھر کچھ سال بعد تمام اہل ایمان کو مدینہ منورہ میں جا کر سیٹل کر دیا۔ رہے منکرین تو وہ اپنی لیڈر شپ کو بچانے کے لیے کوئی ایسے آئیڈیاز نکال کر اپنے مریدوں کو واضح کرتے رہتے کہ کوئی آخرت نہیں ہے لیکن اللہ تعالی کا پیغام پہنچ گیا اور پورے عرب کے لوگ ایمان لائے۔ پھر یہی دعوت دیگر ممالک میں پھیلی اوربہت سے لوگ ایمان لائے۔
سورۃ 67 الملک: اللہ تعالی کی طاقت اور کائنات کا کنٹرول جبکہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
سورۃ 68 القلم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا طریقہ کار اور آخرت سے متعلق سوال جواب
سورۃ 69 الحاقۃ: ہماری اسی دنیا کے امتحان کا فائنل رزلٹ کیسا ہو گا؟
سورۃ 70 المعارج: ہماری موجودہ زندگی میں پرفارمنس پر امتحان کا فائنل رزلٹ
سورۃ 71 نوح: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت، دعوت، جدوجہد اور فائنل رزلٹ
سورۃ 72 الجن: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کی جنات پر توہم پرستی اور غلط فہمیوں کا جواب
سورۃ 73 المزمل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت ذمہ داری اور اس کا حل
سورۃ 74 المدثر: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بڑے پیمارے پر دعوت کی ذمہ داری اور ان کے نتائج
