سوال: سر مارٹ گیج کے بارے میں سوال تھا کہ یہ جائز ہے یا نا جائز ہے؟ جو علماء اسے حرام قرار دیتے ہیں ان کا موقف کیا ہے؟ کس بنیاد پر اسے ناجائز کہتے ہیں؟ اور جو جائز کہتے ہیں ان کا استدلال کیا ہے؟
جواب: مارٹ گیج بنیادی طور پر آپ کسی بینک سے لیتے ہیں۔ بینک آپ کو جو چیز چاہیے تو وہ خرید کر آپ کو دے دیتے ہیں اور آپ قسطوں میں رقم ادا کرتے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ آپ کی چیز 1000$ کی ہے لیکن قسطوں میں آپ ہر مہینے 100$ عطا کرتے ہیں۔ معاہدہ ہے کہ آپ نے ایک سال تک قسطیں ادا کرنی ہیں۔ اس طرح ٹوٹل رقم آپ نے 1200$ عطا کیے ہیں اور اب آپ اس چیز کے مالک بن گئے ہیں۔
روایتی فقہاء کا خیال ہے کہ آپ نے جو زیادہ رقم دی ہے تو یہ سود ہے، اس لیے حرام ہے۔ جدید تعلیم یافتہ فقہاء سمجھتے ہیں کہ یہ سود نہیں ہے کہ دونوں پارٹی جتنی رقم میں بھی معاہدہ کر لیں تو پھر کوئی سود نہیں ہے۔میرا نقطہ نظر یہ ہے ہ کسی بھی فکسڈ ایسٹس آپ مارٹ گیج میں لیں تو اس میں کوئی سود نہیں ہے۔ فکسڈ ایسٹس جیسے آپ گھر یا گاڑی خرید لیں اور قسطوں میں ادا کریں۔ اب بینک کو جو زیادہ رقم دی ہے تو اس عرصے تک آپ اس گھر کو استعمال کرتے رہے ہیں تو یہ اس کا کرایہ ہے۔
ہاں اگر وہ اشیاء خریدیں جو فکسڈ ایسٹ نہیں ہے تو پھر قسطوں میں زیادہ رقم سود ہو گا۔ جیسے آپ نے بینک سے چاول خریدے ہیں اور قسطوں میں ادا کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی کرایہ نہیں ہے بلکہ زیادہ رقم جو دینی پڑی ہے تو وہ بینک سود لے رہا ہے۔ گھر اور چاول کی مثال میں دیکھیے کہ گھر ختم نہیں ہوتا ہے۔ چاول آپ لیں گے تو وہ پھر کھا کر ختم کر چکے ہوں گے۔ اس لیے وہ سود ہے۔ تفصیل سے آپ میری اس کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔
https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1AiWnZN0yBq-VGbYeJSZNjCZNB027ZxPd
سوال: سر سود والے حصہ میں جو احادیث بیان ہوئی ہیں جس میں ایک ہی جنس کی چیزوں کی خریدوفروخت میں کمی بیشی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً 100 کلو چاول کے بدلے 150 کلو چاول کو نہیں بدلا جا سکتا اسے سود قرار دیا گیا ہے۔ یہ سود کسطرح ہے کیونکہ یہاں قرض کا لین دین تو ہو نہیں رہا تو پھر سود کا لفظ یہاں کیوں بولا جا رہا ہے؟
جواب: حدیث میں راوی پوری صورتحال واضح نہیں کرتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے، اس لیے کنفیوژن پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی حدیث کو دیگر تمام روایات کو اکٹھا کریں تو کہیں پر کوئی وضاحت مل جاتی ہے۔ اس طرح کی روایات میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ قرض کی شکل میں کھجور یا چاول خریدتے تھے اور پھر زیادہ رقم دیتے تھے۔ اس زمانے میں کرنسی نہیں ہوتی تھی تو وہ اشیاء ہی کے ذریعے قرض کی ٹرانزیکشنز ہوتی تھیں۔ اب ایک شخص نے 100 کلو چاول خریدے اور طے کر دیا کہ ایک سال بعد آپ کو 150 کلو چاول دے دوں گا۔ ظاہر ہے کہ اس میں سود ہی ہے۔ خریدنے والا 100 کلو چاول رکھتا تو نہیں بلکہ وہ استعمال کر کے ختم کر دیتا۔ پھر وہ کھیت میں چاول پیدا کرتا اور تب جا کر قرض ادا ہوتا۔
اس لیے خریدنے والے کو ڈبل پابندی ہو جاتی کہ وہ 100 کلو قرض ادا کرے اور مزید 50 کلو چاول جو دیے ہیں تو پھر وہ سود ہی ہوا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سے سو روپے لیے اور معاہدہ کر لیا کہ آپ کو واپسی پر ڈیڑھ سو روپے دوں گا تو پھر یہ معاہدہ ہی سود پر ہے۔ سود کی برائی اسی وجہ سے ہے کہ انسان پہلے رقم حاصل کرے اور پھر قرض ادا کرے لیکن پھر قرض سے زیادہ مزید رقم دینی پڑے۔ ظالم لوگ اسی طرح سود در سود لیتے ہوئے لوگوں کی آمدنی کو قانونی طور پر چھین لیتے ہیں۔
سوال: یا یہ حکم سود ذریعہ کی حیثیت رکھتا ہے؟ کہ اس میں دھوکہ دہی کا خطرہ موجود ہے اور ان احادیث کا اطلاق قرآن مجید کے اس حکم( ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ) کے تحت ہو گا؟ اگر ایسا ہے تو سود کا لفظ کیوں بولا جا رہا اس پر؟
جواب: اس میں جو معاہدہ ہے ، اسے سود اس لیے کہا گیا ہے کہ یہاں قرض کی ٹرانزیکشن ہے۔ سود ہی تو دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے کھانا ہی تو ہے۔ اس میں آپ اس کے الٹ بھی دیکھیے تو احادیث میں اسے جائز فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ کیش ٹرانزیکشن ہے۔ ایک آدمی سو کلو عمدہ کوالٹی کھجور خریدتا ہے تو ڈیڑھ کلو ہلکی کوالٹی والی کھجور دے دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔ یہ ٹرانزیکشن اسی وقت ادا ہو رہی ہے۔ دونوں پارٹی اس کوالٹی جو جانتے ہیں اور اس کی قیمت بھی سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس میں جائز کام ہے کہ وہ ایک دوسرے مال کو باطل طریقے سے نہیں لے رہے ہیں۔
اس کے برعکس آپ دیکھیے کہ ایک شہری آدمی جسے کھجور کی کوالٹی کا علم نہیں ہے تو اس کے ساتھ اس میں فراڈ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ ٹرانزیکشن حرام ہو سکتی ہے کہ جس میں فراڈ کا چانس موجود ہو۔
اس حدیث کی مثال آپ دیکھیے کہ سود ٹرانزیکشن کو روکا گیا تاکہ کوئی سود نہ شروع کر دے۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ , وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ , فَقَالَ:" أَنَّى لَكُمْ هَذَا؟" , قَالُوا: ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا , فَقَالَ:" لَا تَفْعَلْ , فَإِنَّ هَذَا لَا يَصِحُّ , وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ , وَاشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ"۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس «ریان» (نامی عمدہ) کھجوریں لائی گئیں اور آپ کی «بعل» نامی (گھٹیا قسم کی) سوکھی کھجور تھی تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس یہ کھجوریں کہاں سے آئیں؟“ لوگوں نے کہا: ہم نے اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے اسے ایک صاع خریدی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اس لیے کہ یہ چیز صحیح نہیں، البتہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر اس نقدی سے اپنی ضرورت کی دوسری کھجوریں خریدو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4558]
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ , فَجَاءَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" , قَالَ: لَا , وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِصَاعَيْنِ , وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ , بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ , ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا"۔
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا، وہ «جنیب» (نامی عمدہ قسم کی) کھجور لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں؟“ وہ بولا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم یہ کھجور دو صاع کے بدلے ایک صاع یا تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، گھٹیا اور ردی کھجوروں کو درہم (پیسوں) سے بیچ دو، پھر درہم سے «جنیب» خرید لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4557]
کوالٹی کے لحاظ سے قیمت کا جو فرق تھا، اسے روکا تاکہ لوگ اس بہانے سے سود نہ کریں۔ یہ فرمایا کہ آپ پہلے کیش کی شکل میں بیچیں اور پھر دوسری کوالٹی والی کھجور خرید لیں تاکہ کوئی سود جیسی حرکت نہ کر سکے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفقہ حدیث کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک (برابر برابر اور) ہاتھوں ہاتھ فروخت کرو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا۔
اس حدیث کو دیکھیے تو اس میں وضاحت موجود ہے کہ سود کس طرح پیدا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ"۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، اور انہیں مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) پھر مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما نے بلایا۔ اور ہم نے (اپنے معاملہ کی) بات چیت کی۔ اور ان سے میرا معاملہ طے ہو گیا۔ وہ سونے (اشرفیوں) کو اپنے ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ذرا میرے خزانچی کو غابہ سے آ لینے دو۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی ہماری باتیں سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو، ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ جَو، جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے اور کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2174]
اس سے یہی معلوم ہوا کہ سود تب بنتا ہے جب کریڈٹ ٹرانزیکشن ہو۔ فوراً ادا کر رہے ہیں تو پھر اس میں سود نہیں ہوتا ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کیش ٹرانزیکشن تھی تو انہوں نے ہلکی کوالٹی کھجور دے کر اچھی کوالٹی کھجور لے لی اور دونوں کے وزن کا فرق تھا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے سود نہیں کمایا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی سمجھایا آپ پہلے درہم کی شکل میں بیچ کر اسی درہم کے بدلے اچھی کوالٹی لے لیا کریں۔
اس کی وجہ یہی تھی کہ صحابی کے کام پر لوگ سودی معاملے کو جائز سمجھ کر ایسی حرکتیں کریں۔
Send your questions at email mubashirnazir100@gmail.com
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com
تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس
اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز
Islamic Studies – English
Quranic Studies – English Books
علوم القرآن ۔ کتابیں
علوم القرآن اردو لیکچرز
Quranic Studies – English Lectures
Quranic Arabic Language
Quranic Arabic Language Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English
Methodology of Hadith Research English
علوم الحدیث سے متعلق کتابیں
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
علوم الحدیث اردو لیکچرز
علوم الفقہ پروگرام
Islamic Jurisprudence علم الفقہ
مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار
Personality Development
Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN
علوم الحدیث: ایک تعارف
Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ
تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست
کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی
Quranic Studies – English Lectures
Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures
علوم القرآن اردو لیکچرز
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے آخری معاہدہ 5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ 6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی 34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114
Hadith Research English Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research
علوم الحدیث اردو لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف
Personality Development
تعمیر شخصیت لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ مثبت شخصیت کی وابستگی
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ منفی شخصیت سے نجات
اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق اور انسانوں کے ساتھ رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز
(Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ سیاست
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ
BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
امت مسلمہ کی ریکوری کا دور ۔۔۔ سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟
Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”
