اسلامی شریعت سے متعلق سزاؤں کے نفاذ میں دور جدید میں کیا تبدیلی ممکن ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ الله وبركاتہ

کیا حال ہے ؟ اُمید کرتا ہوں آپ  بخیریت ہوں گے!

دورانِ مطالعہ میرا ذہن اسلامی حدود سے متعلق سزا کے نفاذ کے متعلق منتقل ہوا۔ کیا دینِ اسلام کی مقرر کردہ   شرعی سزاؤں جیسے سے  ہاتھ کاٹنا، کوڑے مارنا یا سنگساری وغیرہ جیسی  سزاؤں میں انسانی تہذیب و تمدن  میں تبدیلی کی وجہ سے تبدیلی ممکن ہے ؟کیونکہ اسلام نے بھی اُس وقت کی عربی تہذیب و تمدن  کا لحاظ کر کے ہی سزائیں مقرر کی تھی۔

آپ کا کیا کہنا ہے ؟

شکریہ

طلحہ خضر

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بیٹا

کافی دن بعد علمی ڈسکشن کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ کیا حال ہے اور کیسی زندگی گزر رہی ہے؟ تبصرہ حاضر ہے۔

شرعی سزاؤں میں فقہاء کے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قرآن مجید میں یہ چار جرم پر سزاؤں کا حکم دیا ہے اور اس حکم کے عمل کی ذمہ داری حکومت پر دے دی ہے۔ اب ان سزاؤں کو نوعیت اور صورتحال کے ساتھ کیا تبدیلی ہو سکتی ہے یا نہیں تو اس میں فقہاء میں کچھ اختلاف ہے۔ بعض شدت پسند فقہاء کہتے ہیں کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے جبکہ اکثر فقہاء کے نزدیک یہ ہے کہ یہ سزائیں آخری لمٹ کی حیثیت سے ہے۔ یعنی ان سزاؤں سے زیادہ نہیں ہو سکتا ہے لیکن مجرم کے حالات اور صورتحال کے لحاظ سے کمی ہو سکتی ہے۔ 

چوری، بدکاری، قتل اور دہشت گردی میں قرآن مجید میں جو سزائیں بتائی گئی ہیں تو وہ زیادہ سے زیادہ سزا کا حکم ہے۔ اتنی سزا ہی ممکن ہے جبکہ اس سے زیادہ بڑی سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہاں مجرم کی صورتحال اور حالات کے لحاظ سے حکومتی عدالت سزا میں کمی کر سکتی ہے۔ اس کے دلائل حاضر خدمت ہیں۔

چوری کی سزا

چوری کی سزا میں جو حکم ہے  وہاں شدت کے ساتھ جرم کا حکم ہے۔ 

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ. (38)

جو چور مرد ہو یا عورت، (اُن کا جرم ثابت ہو جائے  اور ان کے حالات کی بنیاد پر کسی وجہ سے انہیں مجبوری نہ ہو تو ان کی انتہائی سزا یہ ہے کہ) ان کے ہاتھ کاٹ دیجیے۔ ان کے عمل کی پاداش میں اور اللہ تعالی  کی طرف سے عبرت ناک سزا کے طور پر کیونکہ اللہ تعالی  سب پر غالب ہے اور وہ بڑی وزڈم کا مالک ہے۔ (المائدۃ) 

اس سے  دیکھیے کہ لفظ السارق و السارقہ سے مراد وہ مرد یا عورت جو چور ہو تو اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔ اس  میں لفظ ’’ال سارق‘‘ میں ال کی سٹریس موجود ہے کیونکہ آپ عربی کو جانتے ہیں کہ جب ال آ جائے تو وہاں اسٹریس موجود ہوتا ہے۔ یعنی وہ مرد یا عورت جنہوں نے چوری کو اپنا پروفیشن تیار کر دیا ہے۔ وہ مسلسل ہی چوری کر کے زندگی گزارتے ہیں۔ 

اسی سٹریس کو آپ احادیث میں دیکھ سکتے ہیں جیسے ایک لڑکا بھوک کی وجہ سے کسی باغ سے کھجور یا انگور لے کر کھا بیٹھا تو کیا وہ پروفیشنل چور ہے یا نہیں۔ احادیث میں ایسے کیس میں یہی نظر آتا ہے کہ اس لڑکے کے ہاتھ نہیں کاٹے گئے بلکہ اسے وارننگ ہی کر دی کہ ایسا کبھی ہو تو باغ کے مالک یا منیجر سے مل کر اجازت سے ایسا کھا سکتا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لٹکے ہوئے پھل کی چوری کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر کوئی شخص بھوکا ہو اور کھا لے مگر ساتھ نہ لے جائے تو اس پر کوئی سزا نہیں اور جو شخص دامن بھر کر نکلے تو اس سے دوگنی قیمت وصول کی جائے اور سزا دی جائے۔ اور جو شخص پھلوں کو محفوظ مقام پر پہنچائے جانے کے بعد اس میں چوری کرے اور پھل کی قیمت ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے اور اگر قیمت ڈھال سے کم ہو تو دوگنی قیمت لی جائے اور سزا دی جائے۔‘‘ (ابو داؤد۔ کتاب الحدود۔ باب مالایقطع فیہ )

اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حکومت میں قحط کی حالت ہوئی تو اس میں کھانا پکڑ کر کھانے والے کو چور نہیں قرار دیا اور اسے سزا نہیں دی گئی۔ لیکن ظاہر ہے کہ جس نے زیادہ رقم کے پھل چوری کر کے اپنے خزانے میں ڈال دیا تو انہیں سزا ضروری دی گئی ہے۔ 

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ:" مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَرِينُ الْجُوخَانُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہو گی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4390]

دہشت گردی کی سزا

دوسری دلیل آپ دہشت گردی میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں اللہ تعالی ہی نے چار آپشنز ہی دے دی ہیں۔ چار آپشنز کی وجہ یہ ہے کہ نوعیت کے لحاظ سے مجرم مختلف ہو سکتا ہے اور حکومت کی طاقت بھی مختلف ہو سکتی ہے، تب ہی اللہ تعالی نے چار آپشنز دے دی ہیں کہ عبرت ناک طریقے کا قتل یا سولی یا ہاتھ پاؤں کاٹنا یا جلا وطنی۔

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ. (33)

جو لوگ اللہ تعالی  اور اس رب کے رسول سے جنگ کریں گے اور اِس طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کی سزا پھر (ان کے جرم کی نوعیت اور صورتحال کو دیکھ کر اس میں سے کوئی بھی  ایک سزا) یہی ہے کہ:

۔۔۔۔۔ عبرت ناک طریقے سے قتل (مثلاً سنگسار) کیے جائیں۔

۔۔۔۔۔ یا سولی پر چڑھائے جائیں۔

۔۔۔۔۔ یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں۔

۔۔۔۔۔ یا انہیں علاقے سے نکال دیا جائے(مثلاً جیل  میں  پھینک  دیا  جائے۔) یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے  اور آخرت میں ان کے لیے ایک بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ)

ظاہر ہے کہ ایک مجرم کسی گینگ کا ہیڈ ہو اور ساری زندگی تک زنا بالجبر کرتا رہا ہے تو احادیث میں آپ سنگساری کی سزا نظر آتی ہے۔  یہودی لیڈر کعب بن اشرف کو بھی عبرت ناک طریقے سے قتل کیا گیا۔ لیڈرز سے متاثر ہو کر چھوٹا موٹاجرم جس نے کیا تو انہیں بس جلا وطنی کی حد تک ہی دی ہے۔ 

بدکاری کی سزا 

بدکاری کی سزا کو آپ دیکھیے کہ اللہ تعالی نے وہاں بھی دو آپشنز دے دی ہیں۔ نارمل آزاد مرد و عورت کی سزا 100 کوڑے ہے لیکن لونڈی کو آدھی سزا 50 کوڑے دی ہے۔ اس سے یہی معلوم ہوا کہ لونڈی کو تو بچپن سے طوائف کی تربیت کی گئی تھی۔ اس لیے اسے کم سزا دی گئی ہے۔ 

ان دلائل سے آپ دیکھ لیجیے کہ اکثر فقہاء کے نزدیک مجرم کی نوعیت کے لحاظ سے اسے کسی حد تک کم سزا دینے کی اجازت دی ہے۔ 

اب آپ کا سوال تہذیب و تمدن کی بنیاد پر ہے تو اس میں اختلاف کروں گا۔ محض تہذیب و تمدن کی تبدیلی ہو گئی تو محض اس کی وجہ سے جرم کی سزا کی کمی کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ اس کی بجائے مجرم کی نفسیاتی حیثیت اور تربیت کے لحاظ سے ہی سزا میں کمی ہو سکتی ہے لیکن محض تہذیب کے لحاظ سے کوئی عقل نہیں مانتی ہے۔ 

موجودہ زمانے میں یہ ضرور فیکٹر موجود ہے کہ مسلم ممالک آزاد نہیں ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ذریعے قرض دے دے کر مسلم ممالک کو غلام بنا دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا ابا جان تو امریکہ بنا بیٹھا ہے۔ اب کوئی مسلم ملک  امریکہ کی اجاز ت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اس لیے مسلم حکومت میں جب تک طاقت نہ پیدا ہو تو ان پر ذمہ داری اتنی نہیں ہو سکتی ہے۔ 

اس کی مثال آپ سورۃ النساء میں دیکھ لیجیے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ میں حکومت ملی تھی تو ابھی یہ حکومت مضبوط نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے شروع میں جو سزائیں دی گئیں تو وہ کم ہوئی ہیں۔ جیسے طوائف کو سزا صرف یہ دی گئی کہ وہ اپنے گھر میں بند رہیں اور آزاد مرد و عورت کو سزا یہی کہ انہیں جوتے وغیرہ مار کر وارننگ کی گئی۔

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا. (15)

وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَحِيمًا. (16)

(اے حکمران!) آپ  کے  پاس جن عورتوں میں سے جو (طوائف کے طور پر) بدکاری کرتی ہیں، ان پر اپنے اندر سے 4 گواہ طلب کریں۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو (حکومت کی پولیس) انہیں گھروں میں بند کر  دیں، یہاں تک کہ ان کی موت آجائے یا اللہ تعالی  اُن کے لیے کوئی (مزید سورۃ النور کی شریعت کا) راستہ نکال دے۔ 

جو مرد و عورت آپ  کے  لوگوں میں سے اس جرم کا ارتکاب کریں، (تو حکومتی عدالت) انہیں اذیت دیں۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگذر کر  دیجیے۔ بے شک، اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہے کیونکہ اس کی شفقت ہمیشہ کے لیے ہے۔ (سورۃ النساء)

اس کے بعد چھ سال بعد جا کر سورۃ النور میں حکم دیا کہ انہیں  سو یا پچاس کوڑے تک کی لمٹ دی ہے جو آج تک موجود ہے۔ 

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ. (النور 24:2)

الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ. (24:3)

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ. (24:4)

إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ. (24:5)

بدکار  عورت ہو یا بدکار  مرد، تو (ان کا جرم عدالت  میں  ثابت ہو جائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو 100 کوڑے ماریں اور اللہ کے اِس قانون (کو نافذ کرنے) میں ان کے ساتھ کسی نرمی کا جذبہ آپ  کے ذہن میں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ  اللہ تعالی  پر اور آخرت کے دن پر فی الواقع ایمان رکھتے ہیں۔ انہیں سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ بھی وہاں موجود ہونا چاہیے  (تاکہ  انہیں  بھی  عبرت  محسوس  ہو۔)

(اس اگزیکیوشن کے بعد) یہ بدکار  مرد  کسی بدکار  عورت  یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے گااور اس طوائف  کو بھی کوئی بدکار  یا مشرک مرد  ہی اپنے نکاح میں شادی کرے گا۔ ایمان والوں پر اسے حرام کر دیا گیا ہے۔

جو لوگ پاک دامن خواتین  پر (زنا کی) تہمت لگائیں مگر (اس کے ثبوت میں  عدالت  تک) 4 گواہ نہ لا سکیں تو پھر ان تہمت کرنے والوں کو 80 کوڑے ماریں۔ (مزید یہ سزا کہ مستقبل میں بلیک لسٹ بنا کر)  ان کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کیجیے گا کہ یہی لوگ گناہگار ہیں۔

ہاں جو لوگ ، اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں، وہ اللہ  تعالی کے نزدیک فاسق نہیں رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی  بخشنے والا ہے کیونکہ اس کی شفقت ہمیشہ کے لیے ہے۔ (سورۃ النور)

وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ ۚ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ ۚ فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ ۚ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ ۚ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ. (25)

آپ  میں سے جو آزاد مسلمان خواتین  کے ساتھ نکاح کی طاقت  نہ رکھتے ہوں، انہیں چاہیے کہ آپ  ان مسلمان لونڈیوں سے شادی کر لیں جو آپ  کی لمٹ میں ہوں۔ (یاد رکھیے کہ) اللہ تعالی  آپ  کے ایمان کی کوالٹی سے خوب واقف ہےجبکہ آپ سب انسان ایک ہی جنس سے پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کر لیجیے اور صحیح  قانون  کے مطابق اُن کے مہر بھی اس  خاتون  کو  ادا  کر دیجیے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ (شادی کیجیے) کہ وہ خاتون  پاک دامن رہی ہوں، بدکاری کرنے والی اور چوری چھپے آشنائی کرنے والی نہ ہوں۔

پھر جب وہ پاک دامن (لونڈی) رکھی جائیں اور اس کے بعد اگر کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر بھی اس آزاد خواتین کی سزا (100 کوڑے) کی آدھی سزا لونڈیوں کے لیے ہے۔ نکاح کی یہ اجازت (اگر معاشی مشکلات میں ہوں تو) آپ  میں سے ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں گناہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو۔ ورنہ صبر کر لیجیے تو یہ آپ  کے  لیے بہتر ہے اور (مطمئن رہیے کہ احتیاط کے باوجودکوئی غلطی ہو جاتی ہے تو)اللہ تعالی  بخشنے والا ہےکیونکہ اس رب کی شفقت ہمیشہ کے لیے ہے۔ (سورۃ النساء)

ایک دلچسپ اس موضوع پر ہی ہے جس میں مجرم میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ کوڑے برداشت کر سکے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ:" أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ: اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ مَا هُوَ إِلَّا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً".

ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4472]

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15528)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 18 (2574) (صحیح)» ‏‏‏‏

قتل کی سزا

قتل کی سزا میں بھی اللہ تعالی نے آپشن دے دی ہے کہ قاتل کو قتل کر دیا جائے یا پھر مقتول کی فیملی اس سے معاشی نقصان کی رقم دیت لے کر معاف کرنے کی اجازت دے دی۔ احادیث میں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَىٰ بِالْأُنْثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ. (178)

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. (179)

اہل ایمان! جو لوگ قتل کر دیے جائیں ، اُن کی [عدالت کے]  مقدموں میں قصاص آپ پر فرض کیا گیا ہے۔ 

اس طرح کہ قاتل آزاد ہو تو اسی آزاد کو قتل کیا جائے۔ غلام قاتل ہو تو اسی غلام کو قتل کیا جائے۔ اسی طرح قاتل عورت ہو اسی قاتل عورت کو قتل کیا جائے۔

پھر جس کے لیے اس مقتول کے بھائی رشتے دار کی طرف سے کچھ رعایت کی جائے (تو اسے آپ قبول کر سکتے ہیں) تو حکومتی  قانون کے مطابق اس کی پیروی کی جائے گی اور جو کچھ بھی دیت ہو، وہ خوبی کے ساتھ اُسے ادا کر دیا جائے۔ یہ آپ  کے  رب کی طرف سے ایک قسم کی رعایت آپ پر عنایت کے طور پر ہے۔ پھر بھی اس کے بعد جو زیادتی کرے تو اس کے لیے دردناک سزا ہے۔

آپ  کے  لیے قصاص میں زندگی ہے۔ اہل عقل! آپ اللہ تعالی کی شریعت پر پابندی کرتے رہیے گا۔ (سورۃ البقرۃ)

مسلم ممالک میں قرآن مجید کے مطابق سزائیں کیوں نہیں دی جاتی ہیں؟

اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم حکومت کو اگر طاقت نہیں ہے کہ وہ سزا دے سکیں تو پھر وہ اتنی حد تک ہی عمل کریں جتنی ان میں طاقت ہے۔ اب طاقت کیوں نہیں ہے تو اسے آپ جانتے ہیں کہ امت مسلمہ کی لیڈرشپ نے قرآن مجید چھوڑ دیا اور پھر سائنس ریسرچ کو بھی چھوڑ دیا تو پھر ہم زوال میں آ گئے جبکہ یورپ اور امریکہ نے کم از کم سائنس ریسرچ کی بنیاد پر طاقت حاصل کر کے سپر پاورز بن گئے۔

پھر یورپی اقوام نے آپس میں قوم پرستی کر کے دو بڑی جنگیں کیں تو وہ زوال میں آئے جبکہ امریکہ اور روس ہی سپر پاورز بن گئے۔ اس کے بعد دوسری جنگ عظیم میں کہنے کو مسلم ممالک کو آزاد کر دیا لیکن انہوں نے اکنامک کالونی ازم کو موجودہ زمانے تک جاری رکھا ہے۔

موجودہ زمانے میں آپ خود ہی فیصلہ کر لیجیے کہ کیا کوئی ایک مسلم ملک ایسا ہے جو امریکہ یا کسی اور سپر پاور کا چھوٹا غلام نہ ہو؟ شاید مشکل سے کوئی ایک ہی ایسا مسلم ملک ہو جو آزاد ہو۔ تقریباً تمام مسلم ممالک اپنے زوال کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کی اجازت کے بغیر کسی مجرم کو سزا بھی نہیں سکتے ہیں۔ اس کی نسبت اگر کوئی ایسے عرب مسلم ممالک ہیں جو امریکہ کے بڑے غلام ہیں اور انہیں اجازت ہے کہ وہ قرآن مجید کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ 

ایک ملک دوسرے ملک سے جنگ کرنے کے لیے امریکہ یا روس کی اجازت سے ہی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل سے عرب ممالک جنگ نہیں کر سکتے ہیں کہ ان کے ابا جان امریکہ نے اجازت نہیں دی ہے۔ اس کی نسبت میں دوسرا مسلم ملک  کے اباجان روس نے حکم دیا ہے تو پھر وہ اسرائیل سے جنگ کر لیتے ہیں۔ 

رہی عسکری پارٹیاں تو وہ امریکہ یا روس کے حکم پر اسرائیل، افغانستان اور دیگر ممالک میں عوام کو ٹارگٹ بناتے ہیں لیکن لیڈرز کو ٹارگٹ بھی نہیں بناتے ہیں۔ اس سے اسرائیل، افغانستان اور دیگر مسلم ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک کی حکومتوں کو بنیاد مل جاتی ہے کہ وہ امریکہ سے سود در سود مزید قرض لے کر اسلحہ خریدتے جائیں ۔ عسکری پارٹیاں اپنے دشمنوں کے لیڈرز کو ٹارگٹ نہیں بناتے ہیں بلکہ فائدہ صرف امریکہ ہی کو دے رہے ہیں۔ 

اس لیے ہم عوام میں کوئی طاقت تو نہیں ہے۔ ہم اپنی حکومت کو صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں۔ اس لیے انہیں مشورہ یہی دیں کہ وہ اپنی طاقت کے لحاظ سے دینی احکامات پر عمل کی پوری کوشش تو کریں۔

بیچارے مخلص لڑکے آزادی جذبات کے ساتھ ان جہادی پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں اور وہ اپنے دینی ذوق کے ساتھ امریکہ ہی کو فائدہ دے رہے ہوتے ہیں۔  ان بیچاروں کو سمجھ نہیں آتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے جو جہاد کر رہے ہیں، تو وہ امریکہ کا جہاد ہوتا ہے اور جہاد فی اللہ نہیں ہوتا ہے۔  

سوال: کیا قرآن مجید کی مقرر کردہ انتہائی شرعی سزاؤں میں تبدیلی ہو سکتی ہے جیسے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے کی بجائے 3 یا 5 سال قیدِ با مشقت مقرر ہو جائے ؟ زنا کی سزا 100 کوڑے سے 10 سال قیدِ با مشقت میں تبدیل ہو جائے وغیرہ؟ کیا ایسا کرنا قرآن کی رو سے جائز ہے ؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سزائیں اس وقت کے رواج کو مدِ نظر رکھ کر تجویز کی گئی تھی۔

آپ کا کیا کہنا ہے ؟

جواب: جو لوگ قرآن مجید کو اللہ تعالی کی کتاب سمجھتے ہیں تو انہیں تو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس میں کوئی تبدیلی کریں۔ تمام مسلمان قرآن مجید کو اللہ تعالی کی کتاب سمجھتے ہیں تو پھر وہ انہیں ایکسس ہرگز نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکامات میں تبدیلی کر سکیں۔ رہے غیر مسلم تو وہ جو مرضی کریں۔ اب آپ جیل کی سزا کو دیکھیے۔ اللہ تعالی نے حکم دیا کہ حکومت جسمانی سزا دے اور یہی احکامات تورات میں بھی ہیں۔ اسے انگریزوں کی حکومت نے ہی تبدیل کر کے جیل کی سز ابنا دیا۔ اس کا آپ لاجیکل تجربہ دیکھ لیجیے کہ اس میں دین کی بجائے محض لاجیکل تجربے سے دیکھیے کہ جیل کی سزا انسانوں کے لیے بہتر ہے یا کوڑے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوڑے کی لمٹ بتا دی تھی کہ جس میں کوئی زخم نہ آئے اور مجرم مر نہ جائے۔ اس لیے ہلکے سے کوڑے مارے جاتے تھے۔  اس کے لیے آپ اس دلچسپ حدیث کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے یہی معلوم ہوا کہ محض ذہنی طور پر سزا ہی تھی تاکہ مجرم کو آئیڈیا آ جائے کہ اس کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔  اس معمولی سی سزا کے بعد چند سیکنڈ ہی میں اصلاح ہو گئی۔ 

ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4472]

اب آپ جیل کا تجربہ دیکھ لیجیے کہ لڑکوں کو جیل میں ڈالا جاتا ہے اور وہاں بڑے گینگ سٹر اور بڑے مجرم بھی موجود ہوتے ہیں۔ اب وہ ان لڑکوں کو جیل میں یہی تربیت دیتے رہتے ہیں۔ جب بھی وہ لڑکا آزاد ہوتا ہے تو پھر وہ اس گینگ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس لحاظ سے جیل کی سزا تو جرم کی نرسری بن گئی ہے۔ اسے اگر دس سال کی سزا دیں تو وہ اتنا بڑا عملی تجربہ کار مجرم بن کر باہر آتا ہے۔ جن انسانوں نے جیل کا سلسلہ کیا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اس میں یہ اصلاح کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔ جیل میں ہر انسان کو الگ الگ رکھا جائے اور ان کا آپس میں رابطہ بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔ ہر مجرم کو اس کی فیملی کے لوگوں کو اجازت ہو کہ وہ جیل میں آ کر ملتے جائیں اور کھانا دیتے جائیں۔ امید یہی ہے کہ ان کی فیملی مثلاً والدین، بیگم، بچے ہی مجرم کی اصلاح بھی کریں گے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔ اصلاحی تحریک کے لوگوں کو اجازت ہو کہ وہ مجرموں کو مل کر ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اس طرح مجرم کی تعلیم و تربیت میں تعمیر شخصیت کی کوشش کرتے جائیں۔ امید ہے کہ جیل سے پھر جب بھی آزاد ہو گا تو وہ مجرم اب اچھا انسان بن جائے گا۔

اس کے لیے آپ چیک کر لیجیے کہ یورپ کی جیل میں انہی اصلاحات نظر آتی ہیں اور وہاں گینگ سٹر بہت کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جیل ہی جرم کی نرسری بنی ہوئی ہے۔ اسی کو ایک خوبصورت ڈرامہ کی شکل میں لوگوں نے بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ آپ انگریزوں کی حکومت  انسپکٹر احمد یار خان صاحب کی کیس اسٹڈیز کو بھی دیکھ لیجیے۔ 

اس پوری صورتحال سے یہی لاجیکل رزلٹ آ جاتا ہے کہ جسمانی سزا ہی بہتر ہے۔ ظاہر ہے کہ سو کوڑے کا معاملہ تو آدھے گھنٹے میں ختم ہوا اور وہاں اصلاح زیادہ ہو گئی جبکہ جیل میں جرم زیادہ ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا طریقہ کار ہی لاجیکل بہتر ہے۔ 

 اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔

www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com

تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس

 اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز

Islamic Studies – English

Quranic Studies – English Books

علوم القرآن ۔ کتابیں

علوم القرآن اردو لیکچرز

Quranic Studies – English Lectures

Quranic Arabic Language 

Quranic Arabic Language Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English

Methodology of Hadith Research English

علوم الحدیث سے متعلق کتابیں

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات

علوم الحدیث اردو لیکچرز

علوم الفقہ پروگرام

Islamic Jurisprudence علم الفقہ

مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز

اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات

تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز

تعمیر شخصیت کا طریقہ کار

Personality Development

Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN

علوم الحدیث: ایک تعارف

مذاہب عالم  پروگرام

Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ

تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

Quranic Studies – English Lectures

Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures

علوم القرآن اردو لیکچرز

علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت  کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4 
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے  آخری معاہدہ  5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ   6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب   10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔  مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی   34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب  + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114

Hadith Research English Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research

علوم الحدیث اردو لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف

Personality Development

تعمیر شخصیت لیکچرز

تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  مثبت  شخصیت  کی  وابستگی
تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  منفی  شخصیت  سے  نجات
اللہ  تعالی  اور  اس  کے  رسول  کے  ساتھ  تعلق اور انسانوں  کے  ساتھ  رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
 ۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز 
 (Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ سیاست 
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ

BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی  اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
 امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
 تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر  ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
 امت مسلمہ  کی  ریکوری  کا دور  ۔۔۔  سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟

Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”

اسلامی شریعت سے متعلق سزاؤں کے نفاذ میں دور جدید میں کیا تبدیلی ممکن ہے؟
Scroll to top