السلام و علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
محترم بھائی، آپکی صحت و سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ ایک سوال عرض ہے۔
سوال: اکثر دیکھا کہ عمرہ حج پہ جانے والوں کو لوگ کہتے کہ روضہ رسول پہ ہمارا بھی سلام عرض کیجیے گا۔ نیز یہ بھی پڑھا کہ آپ ﷺ پر درود پڑھا جائے تو وہ آپ پہ پیش ہوتا، اسی طرح روضہ رسول ﷺ پہ درود و سلام پڑھا جائے تو آپ ، ﷺ خود سنتے۔ کیا مستند احادیث سے یہ عقیدہ ثابت ہے؟ شہزاد، تلہ گنگ
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شہزاد بھائی
بہت عرصے بعد آپ سے رابطہ ہوا ہے۔ کیا حال ہے اور کیسی زندگی گزر رہی ہے؟ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود و سلام کا حکم قرآن مجید میں ہے۔ یہ کسی وقت اور کسی جگہ کر سکتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی سے دعا مانگی جاتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مزید اجر عطا کرنے کے بارے میں ہے۔
جتنی بھی صحیح احادیث ہیں تو ان میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کریں اور درود بھی اس کا حصہ ہے۔ قبر کے بارے میں سلام بھی احادیث میں ہے اور وہی جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے پاس پہنچتے ہیں تو وہی سلام کرتے ہیں۔ سلام کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ انہیں اعلی سلامت عنایت فرمائیے۔
سوال: درود شریف تو ایک دعا ہے جو اللہ کریم سے مانگی جا رہی کہ اللہ سلامتی بھیج محمد ﷺ اور انکی فیملی، یہ اللہ کے حضور ہے تو آپ پہ کیسے پیش کیا جاتا ہے۔ درود دعا ہے تو عبادت ہوئی اوراعمال تواللہ کے حضور پیش ہوتے، پھر یہ آپ ﷺ پہ درود پیش ہونے والا معاملہ کا عقیدہ شرک تو نہیں کہلائے گا؟
جواب: جتنی احادیث بھی آپ اس موضوع پر پڑھیں تو یہی فرمایا گیا ہے کہ دعا، اللہ تعالی سے کرنی ہے۔ کسی اور سے دعا کرنا تو یہ مشرکانہ عمل ہو جاتا ہے۔ اس میں درود شریف بھی اللہ تعالی سے دعا کرنے کی ہے ۔ اس کا ترجمہ آپ پڑھ لیجیے جو احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھایا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ نُصَلِّ عَلَيْكَ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ:" قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَالسَّلَامُ كَمَا عَلِمْتُمْ". (نسائی 1286)
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ (درود) بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: آپ کہیے«اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح عنایت پہنچا دیجیے جس طرح آپ نے آل ابراہیم پر عنایت فرمائی۔ برکتیں محمد اور آل محمد پر نازل فرما دیجیے بالکل اسی طرح جیسے آپ نے آل ابراہیم پر تمام عالم میں برکتیں نازل فرمائی ہیں۔ بلاشبہ آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ ‘‘ آپ سلام کہنا تو جانتے ہی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1286]
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=5&hadith_number=1286
اب جن بھائیوں نے اللہ تعالی کی بجائے ڈائرکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگتے ہیں تو یہ احمقانہ حرکت ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کے بارے میں اللہ تعالی سے دعا کرنے کی بجائے آپ سے مانگنا شروع کرلیں؟ اس میں شرک تو نہیں ہے لیکن احمقانہ حرکت ضرور ہے۔
سوال: رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کا کیا طرز عمل تھا؟ کیا وہ بھی قبر مبارک پہ درود و سلام عرض کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ آپ سن رہے ہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں آگاہ فرمائیے گا، ممنون ہوں گا۔
جواب: جی ہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے درود شریف کرتے تھے اور وہ ہر نماز میں یہ دعا کرتے تھے۔ پھر اپنے گھر یا کسی اور جگہ بھی جب دل چاہیں تو کر لیتے تھے۔ آثار صحابہ میں ملتا ہے کہ کئی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں یہی دعا صلوۃ یعنی درود شریف ہی کر لیتے تھے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے۔ اس کے لیے آپ ان لنکس میں تمام احادیث پڑھ لیجیے جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رویہ کیا تھا؟ اس کی کچھ مثالیں حاضر ہیں۔
https://islamicurdubooks.com/hadith/ad.php?bsc_id=893
آپ کی وفات کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہی دفن کیا گیا اور اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کا مقصد یہی تھا کہ قبر انور کو چھپایا جائے تاکہ اگلی جنریشن میں کوئی مشرکانہ عمل نہ کر سکے۔ اس کے لیے آپ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی بیان کردہ احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔
جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے قبروں کو پختہ بنانے، انہیں (عبادت کےطور پر) بیٹھنے کی جگہ بنانے اور ان پر عمارتوں کی تعمیر سے منع فرمایا۔ (مسلم ، کتاب الصلوة)
سیدہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے عیسائیوں کے ایک چرچ کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ’’جب بھی ان کا کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو یہ اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیتے تھے۔ اللہ تعالی کے نزدیک یہ لوگ روز قیامت بدترین مخلوق میں سے ہوں گے۔“ (بخاری ، کتاب الصلوة)
سیدہ عائشہ ، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی ان یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ”(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجرے کے اندر اس لئے دفن کیا گیا کہ ) اگر آپ کی قبر مبارک کھلی جگہ پر ہوتی تو حضور کو یہ خدشہ تھا کہ لوگ کہیں اسے عبادت کی جگہ نہ بنا لیں۔ “ (بخاری، کتاب الجنائز)
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=1&hadith_number=1330
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=1184
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=1186
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=2242
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=1187
https://islamicurdubooks.com/hadith/ad.php?bsc_id=4491
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر کبھی کسی صحابی نے مزار نہیں بنایا تھا۔ موجودہ روضہ انور تو بادشاہوں نے ایجاد کر دیے تھے بالخصوص ترکی حکومت ،مدینہ تک پھیل گئی تھی تو انہوں نے روضہ بنایا ورنہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ مسجد نبوی کے قریب قبر انور اس وجہ سے ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر مسجد نبوی کے پاس ہی تھا اور آپ کو دفن اپنے گھر میں ہی چھپا دیا تاکہ لوگ قبر انور کو عبادت کی جگہ نہ بن جائے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے گھر میں کوئی اندر گھس نہیں سکتا تھا۔
جب آپ حج کے لیے جائیں تو وہاں تاریخی مقامات کو میری اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان مقامات پر زیارت کی نیت سے نہ کیجیے گا بلکہ صرف تاریخی ریسرچ کے لیے ایسا کیجیے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت کے لیے صرف اور صرف تین جگہوں کی اجازت دی ہے: حرم شریف، مسجد نبوی اور مسجد اقصی اور بس۔ زیارت اصل میں عبادت کا حصہ ہے اور یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کے حضور ہی کر سکتے ہیں۔
والسلام
محمد مبشر نذیر
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com
تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس
اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز
Islamic Studies – English
Quranic Studies – English Books
علوم القرآن ۔ کتابیں
علوم القرآن اردو لیکچرز
Quranic Studies – English Lectures
Quranic Arabic Language
Quranic Arabic Language Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English
Methodology of Hadith Research English
علوم الحدیث سے متعلق کتابیں
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
علوم الحدیث اردو لیکچرز
علوم الفقہ پروگرام
Islamic Jurisprudence علم الفقہ
مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار
Personality Development
Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN
علوم الحدیث: ایک تعارف
Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ
تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست
کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی
Quranic Studies – English Lectures
Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures
علوم القرآن اردو لیکچرز
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے آخری معاہدہ 5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ 6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی 34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114
Hadith Research English Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research
علوم الحدیث اردو لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف
Personality Development
تعمیر شخصیت لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ مثبت شخصیت کی وابستگی
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ منفی شخصیت سے نجات
اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق اور انسانوں کے ساتھ رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز
(Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ سیاست
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ
BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
امت مسلمہ کی ریکوری کا دور ۔۔۔ سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟
Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”
