سوال: آپ سے ایک سوال کا جواب مطلوب ہے۔
إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا. (3)
اگر آپ کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکیں گے تو ان کے ساتھ جو خواتین ہیں، ان میں سے جو آپ کے لیے موزوں ہوں، ان میں سے بیشک دو دو یا تین تین یا چار چار سے نکاح کر لیجیے۔ پھر اگر ڈر ہو کہ (ان کے درمیان) انصاف نہ کر سکیں گے تو پھر صرف ایک ہی بیوی رکھیے یا پھر لونڈیاں [جنہیں بیوی کے حقوق دیں] جو آپ کی فیملی میں ہوں۔ یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ آپ بے انصافی سے بچے رہیں۔(سورۃ النساء)
جواب: قرآن مجید کا اصل اصول یہی آیا ہے کہ دوسری شادی کی اجازت اس بنیاد پر ہے کہ وہ سب بیویوں سے عدل کر سکے۔ آپ سورۃ النساء کے شروع میں ہی پڑھ لیجیے کہ یہ اصول بھی اس موقع پر نازل ہوا ہے جب 70 بیوہ خواتین جنگ احد میں ہو چکی تھیں۔ تو اس وقت ان خواتین اور یتیم بچوں کی خدمت کے لیے ترغیب فرمائی لیکن اس ترغیب کے ساتھ ہی وارننگ کر دی کہ عدل تب بھی لازمی ہے۔ اگر عدل نہیں کر سکتے تو پھر خدمت کرنے کی ترغیب بھی ختم۔
سوال: اگر تمام مسلمان اس آیت کے تحت ایک ہی بیوی رکھنے پر اصرار کریں تو پھر ریاست یا حکومت زائد عورتوں اور بچوں کی سرپرستی کے لیے کیا قدم اٹھا سکتی ہے ؟ اگر وہ ان کا اخراجات اٹھا سکتی ہے تو پھر ان زائدعورتوں کی جنسی خواہش کی تکمیل کیونکر ممکن ہے ؟ آپ کا اس متعلق كيا موقف ہے؟
جواب: جب بھی قرآن مجید کے اصول کے اطلاق میں سوالات پیدا ہوتے ہیں تو وہاں سے علم الفقہ شروع ہوتا ہے۔ پرانے فقہاء نے اس سوال کا جو جواب دیا تو انہوں نے اپنے ملک اور اس ٹائم کے حساب سے قانون سازی کروا دی تھی۔ وہ زمانہ اگریکلچر ایج کا تھا لیکن پھر 1500 عیسوی کیلنڈر میں ہم انڈسٹریل ایج اور اب 2000 میں ہم لوگ انفارمیشن ایج میں آ چکے ہیں جس میں پورا ماحول ہی بدل گیا ہے۔
اس کے ساتھ علاقے کے حساب سے ہمیشہ ہی ماحول مختلف رہا ہے۔ عربوں میں اب بھی کئی بیویوں سے شادی کر کے عدل پر عمل کر لیتے ہیں۔ اس لیے ان کی خواتین اعتراض بھی نہیں کرتی ہیں کیونکہ شادی کے وقت ہی لازمی ہے کہ ان کے لیے آزادانہ گھر پہلے موجود ہو تو تب نکاح ہوتا ہے۔ آپ نے ابھی خبر سنی ہو گی کہ سعودی عرب کی ایک خاتون نے اپنی سوکن کو گردہ دے دیا تھا۔
اس کے برعکس انڈیا پاکستان کا کلچر بہت مختلف ہے۔ یہاں کی معاشی حالت کے لحاظ سے کوئی امیر آدمی ہی دو شادیاں افورڈ کر سکتا ہے لیکن اکثریت میں ایسا نہیں ہے۔ امیر مرد بھی دو تین شادیاں کر بھی لیں تو ان کا حشر کیا ہوتا ہے۔ پاکستان انڈیا کے کلچر میں دو بیویوں سے شادی کا نتیجہ کیسا ہوتا ہے؟ اسے آپ اس طرح کے ڈرامے میں سن سکتے ہیں۔
اس لحاظ سے آپ کے سوال کا جواب پاکستان انڈیا میں تو لازمی طور پر حکومت کو ایکشن ہی کر لینا چاہیے۔ صرف قانون سازی کی حد تک ہی نہیں بلکہ پولیس کو بھی اتھارٹی دینی چاہیے کہ اگر شوہر نے دو شادیاں کر لین اور دونوں بیویوں کے الگ گھر دے دیے تو تب بھی ضروری ہے کہ اس کے بعد زندگی کیسی گزر رہی ہے ؟ پولیس کو چاہیے کہ وہ اسے چیک کرتے رہیں تاکہ اگر ایک بیوی ہی بتائیے کہ عدل نہیں ہوا تو پھر وہ عدالت میں آسانی سے جا سکے ۔
خواتین کی زیادہ آبادی مردوں کی نسبت ہے تو پھر حکومت کو دوسری شادی کی اجازت قانونی طور پر ضرور دے دے تاکہ بچوں کی پرورش کے اخراجات سب پورے ہو سکیں۔ لیکن پھر وہی عدل کے اصول کو حکومت چیک کرتی رہے تاکہ عدل نہ ہو تو پھر عدالت شوہر کو سزا دے۔
سعودی عرب کے کلچر میں میں نے دیکھا ہے کہ وہاں عدل پر پولیس ایکشن چلتا ہے اور عدالت ہی فیصلے کرتی ہے۔ موجودہ زمانے میں یہی طریقہ کار اچھا ہے جو تمام ممالک میں اپلائے کرنا چاہیے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ پولیس اپنی رشوت کے لیے ایسی حرکت نہ کر سکے۔ پولیس پر بھی ایک چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے تاکہ کوئی پولیس مین ایسی حرکت نہ کر سکے کہ وہ کسی آدمی پر الزام لگا کر اسے گرفتار کر لے اور پھر رشوت لے کر اسے چھوڑ دے۔
سوال: یہ ڈرامہ میں نےبہت سال پہلے دیکھا تھا ۔ مزاحیہ ہونے کے باوجود اس میں بالکل ٹھیک صورتِ حال دکھائی گئی ہے۔ میں اس بات پر تشویش کا شکار ہوں کہ ہمارے مولوی حضرات ہر معاملے میں انتہائی احتیاط برتتے ہیں لیکن دوسرے تیسرے اور چوتھے نکاح کے معاملے میں احتیاط کیوں نہیں برتتے ؟یعنی ان کی کوشش یہ کیوں نہیں ہوتی کہ صرف ایک ہی بیوی پر اکتفاء کیا جائے اور جو اس سے اولاد ہو اس کی بہترین تربیت کی جائے ۔ صرف دوسرا ، تیسرا اور چو تھا نکاح ہی ان کی مرغوب سنت کیوں ہوتی ہے ؟
جواب: اس میں سی کسی معقول مولانا حضرات نے احادیث پر مرغوب کی بات کہی لیکن انہوں نے اس پر غور نہیں فرمایا ہے کہ وہ احادیث بیوہ خواتین سے شادی کی بات ہے۔ اسی موضوع کی تمام احادیث اکٹھی کر لیں تو واضح ہو جائے گا کہ یہ بیوہ اور غریب خواتین کے ساتھ شادی کرنے پر ترغیب نظر آئے گی۔ رہے نامعقول مولوی و صوفی حضرات، تو وہ اپنے سیکس کے لیے شادیاں ، حلالہ اور متعہ والی جواز کی حرکت بدعت کے طور پر کرنے لگے تاکہ سیکس کا موقع مل جائے۔
سوال: ویسے یہ حضرات دینِ تصوف کے علمبردارہوتے ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ہمارے صوفیاء عورت کے متعلق کیا کچھ نظریات نہیں رکھتے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اسلام کی اس مرغوب سنت کو کسی صورت دینِ تصوف کے لیے چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک تجرد عزیمت اور تزوج رعایت ہوتی ہے۔ ان مولوی حضرات میں عزیمت دکھانے کی ہمت کیوں نہیں ہوتی؟
جواب: مولوی حضرات تو معاشی طور پر اتنی طاقت نہیں رکھتے ہیں کہ وہ دوسری شادی ہی کر لیں لیکن زیادہ شادیاں ہوں تو انہیں بھی نکاح کی شکل میں اچھی رقم مل ہی جاتی ہے۔ صوفیاء میں موقع مل جاتا ہے کہ ان کے پاس نذرانے زیادہ مل جاتے ہیں تو وہ افورڈ کر لیتے ہیں۔ اس میں پھر وہ صوفیاء کے تجرد کے اصول کو چھوڑ دیتے ہیں اور کئی پیر، اپنی بیویوں کو پیرنی بنا دیتے ہیں تاکہ زیادہ نذرانے ملیں۔ یہ سب معاملہ دین کے نام پر دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ کار ہے۔
بالکل یہی شکل ہندومت میں موجود ہے کہ انہوں نے بیوہ کے ساتھ شادی حرام کر دی تاکہ بیوہ عورت اپنی مرضی سے ہی ستی کر لے۔ پھر معقول لوگوں نے آشرم بنا دیے کہ وہ بیوہ خواتین ساری عمر تک یہاں دینی خدمت کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈتوں نے اسے سیکس کو استعمال کر کے پھر آشرم کو قحبہ خانہ بنا کر رقم حاصل کرنے لگے۔ یہ عبرت کی حالت ہے جو انسپکٹر احمد صاحب نے ریسرچ کی ہے۔
مسلمان، عیسائی ، یہودی ، سکھ اور بدھ مت صوفیاء بلکہ علماء کے ہاں بھی وہی حرکتیں موجود ہیں ۔ اسے سادہ الفاظ میں یہی کہیے کہ دین کے نام پر دنیاپرستی موجود ہے۔
سوال: ویسے میرے نزدیک نکاح کا سنت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ ایک معاشرتی نوعیت کی چیز ہےجس کا فیصلہ انسان خود اپنے معاشی و اخلاقی حالات کے لحاظ سے کر سکتا ہے۔ اس کو خوامخواہ سنت کی فہرست میں ڈالنے کی کوشش درست معلوم نہیں ہوتی۔ آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟
جواب: آپ نے بالکل صحیح ارشاد فرمایا ہے۔ اگر کوئی مرد، معاشی و اخلاقی صلاحیت بلکہ سیکس کی طاقت بھی نہیں رکھتا ہے تو اسے شادی بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی اور مجبوری ہو کہ وہ اپنی بیگم کو مطمئن نہیں کر سکتا ہے تو اسے شادی نہیں کرنی چاہیے۔
اس کے لیے آپ حضرت عیسی اور یحیی علیہما الصلوۃ والسلام کی مثال دیکھیے کہ انہوں نے شادی نہیں کی کیونکہ انہی معلوم ہو گا کہ جلد ہی وہ اس زندگی سے نکل جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ دوسرا یہ کہ جوانی میں شادی کر بھی لیتے اور بچے پیدا ہو جاتے تو پھر 30 سال بعد بنی اسرائیل پر سزا بھی آ گئی جس میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے ۔
اسی طرح مسلمانوں میں خوبصورت مثال امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی ہے کہ وہ شادی کرتے تو پھر 30-40 سال تک راویوں کی ریسرچ کیسے کر لیتے۔ پھر یا تو ریسرچ چھوڑ دیتے یا پھر ان کی بیگم مطمئن نہ ہوتیں۔
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com
تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس
اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز
Islamic Studies – English
Quranic Studies – English Books
علوم القرآن ۔ کتابیں
علوم القرآن اردو لیکچرز
Quranic Studies – English Lectures
Quranic Arabic Language
Quranic Arabic Language Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English
Methodology of Hadith Research English
علوم الحدیث سے متعلق کتابیں
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
علوم الحدیث اردو لیکچرز
علوم الفقہ پروگرام
Islamic Jurisprudence علم الفقہ
مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار
Personality Development
Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN
علوم الحدیث: ایک تعارف
Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ
تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست
کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی
Quranic Studies – English Lectures
Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures
علوم القرآن اردو لیکچرز
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے آخری معاہدہ 5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ 6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی 34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114
Hadith Research English Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research
علوم الحدیث اردو لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف
Personality Development
تعمیر شخصیت لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ مثبت شخصیت کی وابستگی
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ منفی شخصیت سے نجات
اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق اور انسانوں کے ساتھ رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز
(Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ سیاست
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ
BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
امت مسلمہ کی ریکوری کا دور ۔۔۔ سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟
Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”
