سوال نمبر 1: کیا دَم کی حیثیت صرف شفائیہ دعا کی ہے یا دم کے کوئی طبعی (فزیکل) اثرات ہوتے ہیں؟ یعنی جس طرح میڈیسن یا ریڈییشن کے انسانی جسم پر اثرات ہوتے ہیں کیا دم کی حیثیت بھی اسی نوعیت کی ہوتی ہے؟
جواب: دم میں اگر اللہ تعالی سے کوئی دعا کی ہے تو وہ اللہ تعالی سے درخواست ہے اور بس۔ اگر اللہ تعالی نے اس پر صحت دینی ہے تو دے دیتا ہے اور اگر ابھی بیماری کا امتحان قائم رکھنا ہے تو اتنے عرصے تک رکھ لیتا ہے۔ ہاں اللہ تعالی دعا کا آخرت میں اجر ضرور دے گا۔
اب یہ سوال کہ دم سے میڈیسن کی طرح کوئی اثر آتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب علم نفسیات سے ہے۔ جہاں تک مجھے نفسیات پڑھی ہے تو اس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جو آدمی جس عمل کو بھی حقیقت سمجھ لیتا ہے تو اس پر نفسیاتی اثرات آتے ہیں۔ جو آدمی دم سے علاج کو حقیقت سمجھ لیتا ہے تو اس سے اس کا ذہن ایکٹو ہو جاتا ہے اور وہ کسی حد تک خود کو صحیح لگ رہا ہوتا ہے۔ جو آدمی دم کو حقیقت نہیں سمجھتا ہے تو اس پر کوئی اثرات نہیں آتے ہیں۔
پرانے زمانے میں لوگ پیروں پر یقین رکھتے تھے اور وہ پیر صاحب دم لگاتے تھے تو لوگ اس پر یقین رکھتے تھے اور وہ کسی حد تک ان کا ذہن ایکٹو کر لیتا تھا۔ اس میں عام طور پر وہی پیر صاحب کوئی میڈیسن بھی دے دیتے تھے جس سے صحت آ جاتی تھی۔ اس طرح پیر صاحب فزیشن ڈاکٹر کی طرح ایکشن کرتے تھے۔ اس میں میڈیسن اور ساتھ ہی دم نفسیات پر عمل کر کے اپنے مرید کی صحت پر کام کر لیتے تھے۔ یہی عمل آج کل ڈاکٹرز بھی کر رہے ہیں۔ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ نیچرل سائنسز اور سائیکولوجی سے متعلق ہوتا ہے۔
سوال نمبر 2: اگر کسی کا عقیدہ ٹھیک ہو مگر اس کو پلاسبو افکٹ کے طور پر یا نفیسیاتی اثرات کے لئے تعویذ پہنوایا جاسکتا ہے؟
جواب: تعویذ بھی بالکل اسی دم کی طرح عمل کرتا ہے کہ جو آدمی اپنے پیر پر یقین رکھتا ہے تو پھر اس کے تعویذ سے بھی اچھا یا برا اثر آ جاتا ہے۔
اس کا ٹھیک عقیدہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ محض سوشل سائنسز اور سائیکولوجی سائنسز سے متعلق ہوتا ہے اور اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا غلط عقیدہ یہ ہے کہ تعویذ یا دم میں جو عمل ہو، تو وہ سب دین کا حکم ہے۔ حالانکہ قرآن مجید اور احادیث میں اس کا کچھ بھی نہیں فرمایا ہے کہ تعویذ اور دم پر عمل کرو یا نہ کرو۔ اس لیے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
صوفی حضرات نے کنفیوژن یہ پیدا کی ہے کہ انہوں نے سائیکولوجی اور اسلام کو مکس کر دیا ہے۔ یہ بالکل ایسی کنفیوژن ہی ہے جیسے کوئی آج کل فزکس، کیمسٹری کو اٹھا کر اسلام کا حکم ایجاد کر دے۔ اس لیے یہ کنفیوژن سے ہمیں بچنا چاہیے۔ قرآن مجید اور قابل اعتماد احادیث کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو کہ دین سے متعلق کیا ہے اور دنیاوی معاملات کیا ہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایمان، اخلاقی عمل اور شریعت کے احکامات ہیں اور اس کی وضاحت احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے۔ اس لیے دین کا تعلق ایمان، اخلاقیات اور شریعت ہے اور بس۔ اللہ تعالی نے یہ ضرور بتا دیا ہے کہ سائنس، سائیکولوجی اور سوشل سائنسز میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ سب اللہ تعالی نے بنا دیا ہے۔ انسان کو اتنا سکھا دیا ہے کہ انسان ان سائنسز سے کچھ علاج اور دیگر عمل کر لیتے ہیں جو دنیاوی معاملہ ہے اور اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہاں دین سے تعلق تب پیدا ہوتا ہے جب انسان سائیکولوجی سے متعلق کوئی غیر اخلاقی حرکت کرے۔ اس کے لیے میں نے اپنی کتاب ’’امت مسلمہ میں ذہنی و نفسیاتی غلامی‘‘ میں تفصیل سے عرض کیا ہے کہ مذہبی لیڈرز نے نارمل انسانوں کو اپنا نفسیاتی غلام بنا دیا کیونکہ انہوں نے میڈیسن اور سائیکولوجی سے متعلق کنفیوژن پیدا کر کے لوگوں کو اپنا مرید اور نفسیاتی غلام بنایا تاکہ وہ ان کی سیاست کو استعمال کر سکیں۔ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے جسے استحصال کہتے ہیں اور دین میں ہمیں غیر اخلاقی حرکت کو حرام قرار دیا ہے۔
اس پر یہ اہم تجربہ یہ ہے کہ بہت سے مذاہب کے بظاہر مذہبی پیر حضرات اپنے تعویز اور دم میں کوئی جادو ٹونا یا کوئی مشرکانہ لفظ کہہ دیتے ہیں۔ اس میں پھر شرک کا عمل ہوتا ہے جو دین اسلام میں حرام ہے بلکہ وہ سب سے بڑا جرم ہے کہ لوگ اللہ تعالی کے علاوہ کسی انسان یا جن کو اپنے خدا کی طاقت سمجھ لیتے ہیں۔ قرآن مجید کا موضوع یہی ہے کہ شرک سے سب سے بڑا جرم ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔
اس لیے یہی مشورہ عرض کروں گا کہ آپ کسی بھی تعویز اور دم سے بچیں کیونکہ معلوم نہیں کہ یہ مذہبی پیر یا بابا کیا عمل کرتے ہیں اور کیا نہیں۔ بہت سے ایسے حضرات کہتے ہیں کہ ہم تو شرک نہیں کرتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں ایسا مشرکانہ عمل کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا ہے۔ اس کی مثال آپ دیکھ لیجیے کہ ہندو پنڈت حضرات کہتے ہیں کہ ہم شرک پر ایمان نہیں رکھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنے مندر میں ایسے عمل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی اثرات مسلمانوں میں بھی آئے کہ وہ شرک کو حرام کہتے ہیں لیکن اپنے عمل کو مشرکانہ عمل نہیں سمجھتے ہیں اور وہی حرکتیں کرتے ہیں۔
سوال نمبر3: قرآن میں طاغوت کا کفر کرنے حکم ہے اور طاغوت ، اللہ کے سرکش اور باغی کو کہا جاتا ہے۔ کیا آج کے فرقہ پرست علماء اور اسلام کے باغی مسلمانوں کی تکفیر ضروری نہیں؟ تاکہ حق اور باطل واضح ہوجائے۔
جواب: قرآن مجید میں لفظ ’’طاغوت‘‘ کو اللہ تعالی کا دشمن قرار دیا ہے کہ وہ انسان جو اللہ تعالی کے خلاف سرکش بن جائے۔ اب یہ اللہ تعالی ہی جانتا ہے کہ جو شخص طاغوت ہے اور کون نہیں ہے۔ ہم کسی انسان کے دماغ کو پکڑ کر کسی لیبارٹری میں ڈال کر ایسا نہیں چیک کر سکتے ہیں کہ اس میں وہ انسان اللہ تعالی کا سرکش ہے یا نہیں۔ اس لیے اس معاملے کو اللہ تعالی ہی کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔
مختلف فرقوں کے لوگ بڑی سختی سے ایک دوسرے پر کفر کا فتوی نافذ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں شخص طاغوت ہے اور کافر ہے۔ ان حضرات سے پوچھنا چاہیے کہ آپ نے دوسرے فرقے والوں کے ذہن کو کسی لیبارٹری میں چیک کر کے بتایا ہے یا اپنے ذہن سے خود ہی اندازہ کر رہے ہیں؟
اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر دیا ہے کہ کسی انسان کو دوسروں پر تکفیر نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کافر نہیں کہنا چاہیے۔ صرف اور صرف اتنا جملہ ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان صاحب کے نقطہ نظر کو درست نہیں سمجھ رہے ہیں اور بس۔ ہماری لمٹ صرف اور صرف اتنی ہی ہے۔ حدیث آپ پڑھ لیجیے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔
وحدثنا يحيي بن يحيي التميمي ، ويحيي بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وعلي بن حجر جميعا، عن إسماعيل بن جعفر ، قال يحيي بن يحيي: اخبرنا إسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار ، انه سمع ابن عمر ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ايما امرئ قال لاخيه: يا كافر، فقد باء بها احدهما، إن كان كما قال، وإلا رجعت عليه ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی سے کہا: اے کافر! تو دونوں میں سے ایک (کفر کی) اس (نسبت) کے ساتھ لوٹے گا۔ اگر وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نے کہا (تو ٹھیک) ورنہ یہ بات اسی (کہنے والے) پر لوٹ آئے گی۔“ صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 216
حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" ايما رجل قال لاخيه يا كافر فقد باء بها احدهما".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔“ صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6104
اب ہم لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ ہم کسی کو کافر کہہ دیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خود ہی کافر بن جائیں۔ اگر کوئی شخص خود اپنے تکبر سے دوسروں کو کافر کہنا چاہے تو پھر وہ آخرت میں اللہ تعالی سے بحث کرنے کے لیے تیار ہو تاکہ اللہ تعالی ہی ان کا محاسبہ کر لے گا۔
ہمیں تو بس کسی کا نام کیے بغیر صرف اتنا ہی کہنا چاہیے کہ اس نقطہ نظر کو ہم غلط سمجھتے ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے اور ہماری لمٹ کا اسکوپ صرف اور صرف اتنا ہی ہونا چاہیے۔
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com
تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس
اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز
Islamic Studies – English
Quranic Studies – English Books
علوم القرآن ۔ کتابیں
علوم القرآن اردو لیکچرز
Quranic Studies – English Lectures
Quranic Arabic Language
Quranic Arabic Language Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English
Methodology of Hadith Research English
علوم الحدیث سے متعلق کتابیں
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
علوم الحدیث اردو لیکچرز
علوم الفقہ پروگرام
Islamic Jurisprudence علم الفقہ
مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار
Personality Development
Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN
علوم الحدیث: ایک تعارف
Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ
تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست
کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی
Quranic Studies – English Lectures
Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures
علوم القرآن اردو لیکچرز
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے آخری معاہدہ 5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ 6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی 34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114
Hadith Research English Lectures
Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research
علوم الحدیث اردو لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف
Personality Development
تعمیر شخصیت لیکچرز
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ مثبت شخصیت کی وابستگی
تعمیر شخصیت کا طریقہ کار ۔۔۔ منفی شخصیت سے نجات
اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق اور انسانوں کے ساتھ رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز
قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز
(Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب ۔۔۔ سیاست
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر
امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ
BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
امت مسلمہ کی ریکوری کا دور ۔۔۔ سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟
Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”
